Updated: September 07, 2026, 6:00 PM IST
| Gaza
غزہ میں ۸؍ سالہ فلسطینی بچی وفا عقیلہ اپنے اسکول کے پہلے دن گھر واپس نہ پہنچ سکی۔ اتوار کو مغربی غزہ میں ایک گاڑی پر اسرائیلی حملے میں وفا اور اس کے والد یوسف عقیلہ جاں بحق جبکہ ۶؍ دیگر افراد زخمی ہوگئے۔ طبی حکام کے مطابق دونوں کی لاشیں الشفا اسپتال منتقل کی گئیں۔ حملے کے بعد بچی کی کتابیں اور اسکول کا سامان تباہ شدہ گاڑی کے قریب بکھرا ملا۔ اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ حملے کا ہدف حماس کا ایک جنگجو تھا اور واقعے کے نتائج کا جائزہ لیا جارہا ہے۔
وہ گاڑی جسے اسرائیلی فورسیز نے حملے کا نشانہ بنایا۔ تصویر: ایکس
غزہ میں نئے تعلیمی سال کا پہلا دن ۸؍ سالہ فلسطینی بچی وفا عقیلہ کے لیے زندگی کا آخری دن ثابت ہوا۔ اتوار کو مغربی غزہ میں ایک گاڑی کو اسرائیلی فضائی حملے کا نشانہ بنایا گیا، جس میں وفا اپنے والد یوسف عقیلہ کے ساتھ جاں بحق ہوگئی۔ ۶؍ دیگر افراد زخمی ہوئے۔ فلسطینی طبی حکام کے مطابق حملہ مغربی غزہ شہر میں ہوا۔ الشفا اسپتال کے سربراہ محمد ابو سلمیہ نے بتایا کہ حملے کے بعد وفا اور اس کے والد کی لاشیں اسپتال منتقل کی گئیں۔ وفا کے لیے اتوار اسکول کا پہلا دن تھا۔ وہ اسکول سے واپس گھر نہیں پہنچ سکی۔ حملے کے بعد سامنے آنے والی تصاویر میں اس کی کتابیں اور اسکول کا سامان تباہ شدہ گاڑی کے قریب بکھرا دکھائی دیا۔
یہ بھی پڑھئے: لندن میں موہن بھاگوت کا خطاب، کہا ’ اتحاد کیلئے یکسانیت ضروری نہیں ہے‘
اسرائیلی فوج نے حملے کی ذمہ داری تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ اس کا ہدف حماس کا ایک جنگجو تھا۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان کے مطابق واقعے کے نتائج کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب اکتوبر ۲۰۲۵ء میں نافذ ہونے والی امریکی حمایت یافتہ جنگ بندی کے باوجود غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں مکمل طور پر نہیں رکیں۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں سے لاحق خطرات کے خلاف جاری ہیں، جبکہ حماس اسرائیل پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتا ہے۔ رائٹرز کے مطابق غزہ کے طبی حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے ۱۳۰۰؍ سے زیادہ فلسطینی جاں بحق ہوچکے ہیں، جن میں اکثریت شہریوں کی ہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق اسی عرصے میں اس کے ۴؍ فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔ حماس عام طور پر اپنے جنگجوؤں کی ہلاکتوں کے اعداد و شمار جاری نہیں کرتا۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ پر امریکی حمایت کے خلاف ٹرمپ کی سابق حلیف مار جوری ٹیلر گرین برہم
اتوار ہی کو غزہ میں ہونے والے دیگر حملوں میں بھی ہلاکتیں ہوئیں۔ طبی ذرائع کے مطابق غزہ شہر کے مشرق میں ایک ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی کے قریب ایک شخص اسرائیلی حملے میں مارا گیا، جبکہ بے گھر فلسطینیوں کے لیے استعمال ہونے والے ایک اسکول پر ٹینک گولہ باری سے ایک ۷؍ سالہ بچی بھی جاں بحق ہوئی۔ غزہ میں باقاعدہ تعلیمی سرگرمیوں کی بحالی بھی جنگ کے باعث شدید متاثر ہے۔ کئی اسکول عمارتیں تباہ یا ناقابل استعمال ہوچکی ہیں، جس کے باعث بعض بچوں کے لیے عارضی تعلیمی مراکز قائم کیے گئے ہیں۔
وفا کی ہلاکت نے جنگ بندی کے باوجود غزہ میں عام شہریوں، خصوصاً بچوں، کے لیے موجود خطرات کو ایک بار پھر نمایاں کردیا ہے۔ تاہم حملے میں ہدف بنائے گئے مبینہ حماس جنگجو کی شناخت اور یہ کہ وہ گاڑی میں موجود تھا یا نہیں، اس بارے میں اسرائیلی فوج نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔