Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایف بی آئی نے ہندوستان میں امریکی شہریوں سے دھوکہ دہی کرنے والا کال سینٹربند کیا

Updated: May 21, 2026, 10:06 PM IST | Washington

ایف بی آئی نے ہندوستان میں امریکی بزرگ شہریوں سے لاکھوں ڈالرکی دھوکہ دہی کرنے والا کال سینٹر بند کیا، قانون نافذ کرنے والے ادارے کے مطابق، دو سینئر ایگزیکٹوز جن کا کاروبار اس دھوکہ دہی میں سہولت فراہم کر رہا تھا، انہوں نے اس تعلق سے آنکھیں بھیرلینے کا اعتراف کیا ہے کیا ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف بی آئی) نے بدھ کو کہا کہ اس نے ہندوستان میں چلنے والا ایک کال سینٹر بند کر دیا ہے جس پر الزام ہے کہ اس نے ٹیکنیکل سپورٹ گھوٹالوں کے ذریعے سینکڑوں بزرگ افراد سے ’’لاکھوں ڈالر کی دھوکہ دہی‘‘ کی۔قانون نافذ کرنے والے ادارے نے یہ بھی کہا کہ دو سینئر ایگزیکٹیو ۴۲؍ سالہ ایڈم ینگ (میاامی، فلوریڈا) اور۳۳؍ سالہ ہیریسن گیورٹز (لاس ویگاس، نیواڈا)  مبینہ بدعنوانی سے آنکھیں بھیرلینے کا اعتراف کیا ہے، جسے ان کے کاروبار کے ذریعے ممکن بنایا جا رہا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: ایران کیخلاف ٹرمپ اب من مانی نہیں کرسکیں گے ! اختیارات محدود کرنے والی قرار داد منظور

بعد ازاں ایف بی آئی نے بتایا کہ ینگ اور گیورٹز نے ایک ایسا کاروبار چلانے کا اعتراف جرم کیا ہے جو ٹیلی کمیونیکیشن سے متعلق خدمات فراہم کرتا تھا، جن میں ٹیلی فون نمبر، کال روٹنگ سروسز، کال ٹریکنگ اور کال فارورڈنگ سروس شامل تھیں، یہ جاننے کے باوجود کہ یہ افراد فراڈ اسکیموں میں ملوث ہیں انہیں ٹیک سپورٹ فراہم کیا۔وفاقی ایجنسی نے مزید کہا کہ یہ اسکیمیں امریکہ اور بیرون ملک افراد کو نشانہ بناتی تھیں۔ایف بی آئی نے کہا کہ ینگ اور گیورٹز کی سزا جون کو سنائی جائے گی۔ایف بی آئی کے مطابق، تفتیش جو ایگزیکٹوز کے اعتراف جرم پر ختم ہوئی،۲۰۲۰ء میں شروع ہوئی تھی اور اس کے نتیجے میں ہندوستان میں مقیم پانچ ٹیلی مارکیٹنگ فراڈ کرنے والوں اور ان کی کال روٹنگ کمپنی کے ایک سابق ملازم کو سزا ہوئی۔ایجنسی نے کہا کہ ہندوستانی شہری ساہل نارنگ، چراغ سچدیوا، ابرار انجم اور مینش کمار کو ہندوستان میں قائم ٹیلی مارکیٹنگ فراڈ اسکیموں سے متعلق الزامات میں سزا سنائی گئی جنہوں نے ’’امریکیوں کو لاکھوں ڈالر کا نقصان پہنچایا اور نشانہ بنایا، ان میں سے اکثر عمر یا کمزوری کی وجہ سے فراڈ اسکیموں کا شکار ہوئے ۔پانچواں شخص جسے سزا ہوئی وہ جگمیت سنگھ ورک تھا۔ تاہم ایف بی آئی نے اپنے بیان میں یہ واضح نہیں کیا کہ ورک کا کیا کردار تھا۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ و اسرائیل ایران پر حملے کے بعد سابق صدراحمدی نژاد کو اقتدار میں لانا چاہتے تھے: نیویارک ٹائمز

ایف بی آئی کے مطابق تحقیقات سے پتہ چلا کہ ہندوستانمیں قائم کال سینٹر نے ینگ اور گیورٹز کے کاروبار کو استعمال کیا تاکہ اپنی ’’ٹیک فراڈ‘‘ اسکیموں کی کال روٹ کی جا سکیں۔ساتھ ہی بعض مواقع پر، ان بزرگوں کوشکایات کا ازالہ کرنے اور اکاؤنٹس بند ہونے سے روکنے کے طریقوں پر مشورہ دیا۔اس نے مزید کہا کہ ملزمین نے کمپیوٹر صارفین کو یقین دلانے کے لیے دھوکے دینے والے پاپ اپ پیغامات کا استعمال کیا کہ ان کا کمپیوٹر وائرس یا میلویئر سے متاثر ہو گیا ہے۔قانون نافذ کرنے والے ایجنسی نے کہا، ’’متاثرین کو پاپ اپ پیغام یا اشتہار پر دیے گئے فون نمبر پر کال کرنے کی ہدایت کی گئی، جو متاثرین کو کال سینٹرز سے جوڑتا تھا، جہاں انہیں غیر ضروری یا فرضی ٹیکنیکل سپورٹ خدمات کے لیے سیکڑوں ڈالر ادا کرنے پر آمادہ کیا گیا۔‘‘مزید یہ کہ بعض واقعات میں، کال سینٹر ایجنٹوں نے دور دراز سے متاثرین کے کمپیوٹرز تک رسائی حاصل کرکے ان کی ذاتی اور مالی معلومات حاصل کیں۔ایف بی آئی کے مطابق، ینگ اور گیورٹز نے۲۰۱۷ء سے اپریل۲۰۲۲ء کے درمیان اپنے گاہکوں کی فراڈ اسکیموں کے بارے میں جاننے کے باوجود قانون نافذ کرنے والے عہدیداروں کو اس کی اطلاع دینے میں ناکام رہے۔
بعد ازاں ایف بی آئی کے بوسٹن ڈویژن کے انچارج خصوصی ایجنٹ ٹیڈ ای ڈاکس نے کہا کہ ینگ اور گیورٹز نے جو کیا وہ مکمل طور پر قابلِ نفرت ہے۔ڈاکس نے کہا، "ان کے اپنے اعتراف کے مطابق، انہوں نے جان بوجھ کر یہاں اور بیرون ملک ٹیلی مارکیٹنگ اور ٹیک سپورٹ اسکیموں سے منافع کمایا، جنہوں نے بزرگوں کا شکار کیا، کمزور لوگوں کا استحصال کیا، اور متاثرین کی زندگی بھر کی بچت اور ذہنی سکون ختم کر دیا۔‘‘اس کے علاوہ خصوصی ایجنٹ نے یہ بھی تبصرہ کیا کہ ٹیک سپورٹ گھوٹالوں نے گزشتہ سال امریکیوں کو ۲؍ اعشاریہ ایک بلین ڈالر کا نقصان پہنچایا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK