Updated: September 23, 2026, 10:01 PM IST
| New York
ایران کے ساتھ جاری جنگ اور آبنائے ہرمز میں تجارتی و توانائی کی ترسیل کو درپیش خطرات کے درمیان امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے انڈیا مڈل ایسٹ یورپ اکنامک کوریڈور (آئی ایم ای سی ) کی حمایت کی ہے۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ خطے میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات نے ایسے متبادل راستوں اور بنیادی ڈھانچے کی ضرورت کو نمایاں کردیا ہے۔
کوریڈور۔ تصویر:آئی این این
ایران کے ساتھ جاری جنگ اور آبنائے ہرمز میں تجارتی و توانائی کی ترسیل کو درپیش خطرات کے درمیان امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے انڈیا مڈل ایسٹ یورپ اکنامک کوریڈور (آئی ایم ای سی ) کی حمایت کی ہے۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ خطے میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات نے ایسے متبادل راستوں اور بنیادی ڈھانچے کی ضرورت کو نمایاں کردیا ہے جو خلیجی خطے کی توانائی اور تجارت کو کسی ایک حساس سمندری راستے پر انحصار سے بچا سکیں۔
ٹرمپ نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر خلیجی اور عرب لیڈروں کے ساتھ ملاقات کے دوران کہا کہ ان کی انتظامیہ آئی ایم ای سی کی بھرپور حمایت کرتی ہے۔ ان کے مطابق خطے میں تجارتی جہازوں پر حملوں اور موجودہ تنازع نے مشرق وسطیٰ کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو متبادل راستوں کی جانب منتقل کرنے کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے۔ انہوں نے توانائی کی ترسیل کے لیے پائپ لائنوں سمیت دیگر بنیادی ڈھانچے کو بھی ممکنہ متبادل قرار دیا۔
انڈیا-مڈل ایسٹ-یورپ اکنامک کوریڈور ایک مجوزہ کثیر ملکی رابطہ منصوبہ ہے، جس کا اعلان ستمبر ۲۰۲۳ء میں نئی دہلی میں ہونے والی جی ۲۰؍ سربراہ کانفرنس کے دوران کیا گیا تھا۔ اس منصوبے کا مقصد ہندوستان کو خلیجی ممالک کے ذریعے یورپ سے جوڑنا ہے۔ منصوبے میں سمندری اور ریل رابطوں کے ساتھ ساتھ بجلی، ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی اور مستقبل میں صاف ہائیڈروجن سے متعلق بنیادی ڈھانچے کی گنجائش بھی شامل ہے۔
مجوزہ راہداری کے مشرقی حصے میں ہندوستان کو خلیج سے جوڑنے کا منصوبہ ہے، جبکہ شمالی حصے کے ذریعے خلیج کو یورپ سے ملایا جائے گا۔ منصوبے کے مطابق ہندوستان سے آنے والا سامان سمندری راستے سے خلیجی خطے تک پہنچنے کے بعد ریل نیٹ ورک کے ذریعے سعودی عرب، اردن اور بحیرہ روم کی سمت منتقل کیا جاسکتا ہے اور وہاں سے یورپی منڈیوں تک رسائی ہوسکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:باؤنس والی پچوں پر ویبھو کی بلے بازی دیکھنا چاہوں گا: راب والٹر
حالیہ ایران جنگ نے آبنائے ہرمز کی اسٹریٹجک اہمیت اور اس پر عالمی توانائی تجارت کے انحصار کو ایک بار پھر نمایاں کردیا ہے۔ یہ آبنائے خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملاتی ہے اور عالمی تیل و گیس کی ترسیل کے لیے اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ موجودہ تنازع کے دوران یہاں جہاز رانی میں رکاوٹوں نے عالمی تجارت، شپنگ اخراجات اور توانائی کی منڈیوں پر دباؤ بڑھایا ہے۔ رپورٹس کے مطابق آبنائے ہرمز کے ذریعے ہونے والی تجارتی سرگرمیوں میں شدید کمی آئی ہے، جبکہ خلیجی خطے میں مال برداری کے اخراجات اور انشورنس لاگت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اس صورتحال نے متبادل زمینی اور سمندری راستوں کی ضرورت پر توجہ بڑھا دی ہے۔ ہندوستان کے لیے آئی ایم ای سی کی اہمیت صرف ایک نئے تجارتی راستے تک محدود نہیں ہے۔ اس منصوبے کا مقصد ہندوستان، خلیج اور یورپ کے درمیان سپلائی چین کو زیادہ مربوط بنانا، تجارت اور نقل و حمل کے اخراجات و وقت کو کم کرنا اور مختلف راستوں کے ذریعے تجارتی رابطوں کو متنوع بنانا ہے۔ مجوزہ راہداری ہندوستانی برآمد کنندگان کو یورپی منڈیوں تک رسائی کے لیے ایک اضافی ملٹی موڈل راستہ فراہم کرسکتی ہے۔ اس کے علاوہ ہندوستان کے خلیجی ممالک اور یورپی شراکت داروں کے ساتھ اقتصادی روابط کو مزید مضبوط کرنے کی صلاحیت بھی اس منصوبے میں موجود ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ہورون انڈیا رچ لسٹ ۲۰۲۶ء: گوتم اڈانی اور خاندان دوبارہ سرفہرست
آئی ایم ای سی کے مجوزہ روٹ میں متحدہ عرب امارات کو بھی اہم مقام حاصل ہے۔ ہندوستان سے آنے والا سامان خلیج میں داخل ہونے کے بعد ریل رابطوں کے ذریعے خطے کے دیگر ممالک تک پہنچایا جاسکتا ہے۔ اس طرح متحدہ عرب امارات ہندوستان اور وسیع تر آئی ایم ای سی نیٹ ورک کے درمیان سمندری اور ریل رابطے کے ایک اہم مرکز کے طور پر ابھر سکتا ہے۔ منصوبے میں مستقبل میں صرف کنٹینر اور دیگر اشیا کی نقل و حمل ہی نہیں بلکہ بجلی، ڈجیٹل کنیکٹیویٹی اور صاف ہائیڈروجن سے متعلق بنیادی ڈھانچے کو بھی شامل کرنے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ اگرچہ ٹرمپ کی حمایت سے آئی ایم ای سی کو نئی سیاسی توجہ ملی ہے، تاہم یہ منصوبہ ابھی مکمل طور پر فعال تجارتی راہداری نہیں بنا ہے۔ اس کے لیے بڑے پیمانے پر ریل، بندرگاہ، لاجسٹکس اور سرحد پار بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے ساتھ متعدد ممالک کے درمیان طویل مدتی تعاون درکار ہوگا۔خطے کی سیاسی کشیدگی بھی اس منصوبے کے لیے ایک اہم چیلنج ہے۔ جون ۲۰۲۶ء میں مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ نے نشاندہی کی تھی کہ اصل آئی ایم ای سی منصوبے پر پیش رفت علاقائی عدم استحکام کی وجہ سے سست پڑ چکی ہے اور اس کی تکمیل کے لیے ابھی واضح فنڈنگ اور تعمیراتی ٹائم لائن موجود نہیں تھی۔
ٹرمپ کی تازہ حمایت سے آئی ایم ای سی ایک مرتبہ پھر عالمی تجارت، توانائی سلامتی اور سپلائی چین کے تناظر میں توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ موجودہ حالات میں اس منصوبے کو صرف ہندوستان اور یورپ کے درمیان تجارتی رابطے کے طور پر نہیں بلکہ علاقائی تجارت اور توانائی کے لیے متبادل راستوں کے ایک ممکنہ فریم ورک کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم امریکی صدر کی حمایت کے باوجودآئی ایم ای سی کے عملی طور پر فعال ہونے کے لیے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، علاقائی سیاسی حالات، سرمایہ کاری اور شریک ممالک کے درمیان مسلسل تعاون جیسے عوامل فیصلہ کن رہیں گے۔ موجودہ ایران جنگ نے اس منصوبے کے بنیادی تصور یعنی متبادل اور زیادہ لچکدار تجارتی و سپلائی چین راستوں کی اہمیت کو ضرور دوبارہ عالمی بحث میں نمایاں کردیا ہے۔