Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹرمپ پیچھے ہٹے، اپنی ہی وارننگ ۵؍ دن کیلئے مؤخر کردی

Updated: March 24, 2026, 1:01 AM IST | Tehran

تہران سے ’’اچھی اورنتیجہ خیزگفتگو‘‘ کا حوالہ دیا،بات چیت جاری رکھنے کا بھی اعلان کیا، ایران نےگفتگو کی تردید کی، دروغ گوئی کا الزام لگایا، وقت حاصل کرنے کا حربہ قرار دیا

Trump is accused of looking for an escape route after being drawn into a war with Iran.
ٹرمپ پر الزام ہے کہ وہ ایران جنگ میں پھنسنے کے بعد اب راہ فرار تلاش کررہے ہیں

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ  جو ایران کے خلاف جنگ چھیڑ کر بری طرح  پھنس گئے ہیں اور جنگ بندی کیلئے کوشاں ہیں، نے اتوار کو دیئے گئے  ۴۸؍ گھنٹے کے الٹی میٹم کو اب ۵؍ دنوں کیلئے موقوف کردیا ہے۔ انہوں نے ایران کے ساتھ’’ اچھی اور نتیجہ خیز بات چیت‘‘ کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ فوج کو حکم دیں گے کہ ایرانی بجلی گھروں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر کسی بھی ممکنہ حملے کو ۵؍ دن کے لیے مؤخر کر دیا جائے۔ دوسری طرف ایران نے امریکہ کے ساتھ کسی بھی طرح کی گفتگو کی تردید کی ہے اوراسے وقت حاصل کرنے کی ان کی کوشش قراردیاہے۔  پاسدارانِ انقلاب نے  ٹرمپ کو’’مکار امریکی صدر‘‘ کہہ کر مخاطب کرتے ہوئےکہا ہے کہ ان کا’’متضاد رویہ ہمیں محاذِ جنگ سے غافل نہیں کر سکتا۔‘‘ ایران کی وزارت خارجہ نے بھی  امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کی بات چیت کی تردید کی ہے جبکہ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ  ایران کے ساتھ گفتگو میں ’’اہم نکات پر اتفاق‘‘ ہوگیا ہے۔
ٹرمپ نے کیا دعویٰ کیاہے؟
 امریکی صدر نے پیر کو اعلان کیا کہ ’’مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان گزشتہ ۲؍دنوں میں مشرق وسطیٰ میں  دشمنیوں کے مکمل اور جامع حل کے حوالے سے بہت اچھی اور نتیجہ خیز بات چیت ہوئی ہے۔ اس گہری، تفصیلی اور تعمیری بات چیت کے مزاج اور انداز کی بنیاد پر، جو پورے ہفتے جاری رہے گی، میں نے محکمہ جنگ کو ہدایت دی ہے کہ ایرانی بجلی گھروں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف کسی بھی اور تمام فوجی حملوں کو ۵؍دن کیلئے مؤخر کر دیا جائے، بشرطیکہ جاری ملاقاتیں اور مذاکرات کامیاب رہیں۔‘‘
ٹرمپ کو سیاسی دباؤ کا سامنا
  ٹرمپ، جنہوں نے۲۸؍ فروری کو اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر جنگ تھوپ دی تھی ، اب سیاسی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں کیونکہ ایندھن کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں، جو  تیل سے مالا مال خلیجی خطے میں ایران کی جوابی کارروائیوں کا نتیجہ ہیں۔ ٹرمپ کو خود امریکی عوام کی برہمی کا سامنا ہے جن کی اکثریت یہ محسو س کر رہی ہے کہ اسرائیل نے ٹرمپ کو بےوقوف بنا کر اس جنگ میں  جھونک دیا ہے۔  ماہرین  کے مطابق  ٹرمپ بڑ بولے پن کا مظاہرہ تو کررہے ہیں مگر اندر خانے جنگ بندی کیلئے کوشاں  ہیں  اور اس سلسلے میں ایران کو آمادہ کرنے کی مسلسل کوشش کررہے ہیں تاہم تہران  نے جنگ میں ہونے والے نقصان کےہرجانہ اور آئندہ حملہ نہ کرنے کی ضمانت جیسی کچھ ایسی شرائط رکھ دی ہیں جنہیں قبول کرنا واشنگٹن کیلئے ممکن نہیں  ہے۔  بہرحال بات چیت کی کوششیں جاری ہیں۔  
الٹی میٹم کے بعد ٹرمپ کو قدم پیچھے کیوں لینے پڑے
 ٹرمپ کے اس الٹی میٹم کے بعد کہ ۴۸؍ گھنٹوں میں  اگر ایران نے آبنائے ہرمز کو نہ کھولا تو ایران کے پاور گرڈ  پر حملہ کرکے اسے تباہ  اورپورے ملک کو بجلی سے محروم کردیا جائےگا، تہران نے  منہ توڑ جواب دیتے ہوئے اعلان کیا کہ اگر امریکہ نے اس کی جرأت کی تو جواب میں مشرق وسطیٰ کے انفرااسٹرکچر کو تباہ کردیا جائےگا۔ ایران کی اس جوابی دھمکی نے پوری دنیا میں خوف کی لہر دوڑادی کیوں کہ اس صورت میں نہ صرف یہ کہ جنگ شدت اختیار  کرجائےگی بلکہ دنیا بھر کیلئے ایندھن کی سپلائی مزید متاثر ہو جائےگی۔سمجھا جارہاہےکہ یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ کواپنے قدم پیچھے لینے پڑے اوراس کیلئے انہوں نے مذاکرات کا دعویٰ کیا۔
 ایران نے کسی بھی طرح کی گفتگو کی تردید کی
  ایرانی  پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکہ اور ایران کے درمیان کسی بھی بات چیت کی تردید کرتے ہوئے وزارتِ خارجہ کے مؤقف کی تائید کی ہے۔انہوں نے ایکس پر لکھا ہے کہ ’’امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہوئے، فرضی  خبریں مالیاتی اور تیل کی منڈیوں کو متاثر کرنے اور اس دلدل سے نکلنے کیلئےاستعمال کی جا رہی ہیں جس میں امریکہ اور اسرائیل پھنس چکے ہیں۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK