Updated: May 09, 2026, 8:05 PM IST
| Lucknow
ڈمپل یادو نے جمعہ کو کہا کہ ”سماجوادی پارٹی کا مطالبہ ہے کہ اگلے سال جب اتر پردیش میں انتخابات ہوگے تو گنتی مراکز کی لائیو فوٹیج شیئر کی جائے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ ”ٹیکنالوجی کے لحاظ سے ’لائیو‘ جانا اب کوئی نئی بات نہیں رہی ہے۔ بی جے پی تو خود کو ٹیکنالوجی میں ترقی یافتہ کہتی ہے۔“
سماجوادی پارٹی کی ایم پی ڈمپل یادو نے الیکشن کمیشن سے ۲۰۲۷ء کے اتر پردیش اسمبلی انتخابات کے دوران گنتی مراکز کی لائیو اسٹریمنگ کا انتظام کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا یہ مطالبہ ممتا بنرجی کی جانب سے مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے دوران ووٹوں کی گنتی میں غلطیوں کے الزامات کے بعد سامنے آیا ہے۔
ڈمپل یادو نے جمعہ کو کہا کہ ”سماجوادی پارٹی کا مطالبہ ہے کہ اگلے سال جب اتر پردیش میں انتخابات ہوگے تو گنتی مراکز کی لائیو فوٹیج شیئر کی جائے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ ”ٹیکنالوجی کے لحاظ سے ’لائیو‘ جانا اب کوئی نئی بات نہیں رہی ہے۔ بی جے پی تو خود کو ٹیکنالوجی میں ترقی یافتہ کہتی ہے۔“
یہ بھی پڑھئے: ہریانہ بلدیاتی الیکشن میں انوکھا وعدہ، ہمیں جتواؤ، کنواروں کی شادی کروائینگے
ایس پی سربراہ اکھلیش یادو کی ممتا بنرجی سے ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے ڈمپل یادو نے کہا کہ سماجوادی پارٹی نے آل انڈیا ترنمول کانگریس کے ساتھ ”ہمیشہ اچھے تعلقات برقرار رکھے“ ہیں۔ انہوں نے اپوزیشن کے اس الزام کو دہرایا کہ الیکشن کمیشن بی جے پی کے حق میں کام کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”ہمیں الیکشن کمیشن سے اب کوئی امید باقی نہیں رہی۔ یہ مکمل طور پر بی جے پی کے حق میں کام کر رہا ہے۔“
مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے دوران سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کی تعیناتی کا حوالہ دیتے ہوئے ڈمپل یادو نے الزام لگایا کہ اتر پردیش میں انتخابات کے دوران بھی ایسا ہی ماحول موجود تھا۔ انہوں نے کہا کہ ”ہم نے دیکھا ہے کہ اتر پردیش میں بھی انتخابات کے دوران سیکوریٹی فورسیز کا ڈر ہوتا ہے اور خوف کا ماحول پیدا کیا جاتا ہے۔ پارٹی کارکنان کو دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ بوتھ ایجنٹوں کو ان کے متعلقہ بوتھوں تک پہنچنے نہیں دیا جاتا۔“ انہوں نے مزید الزام لگایا کہ بی جے پی نے مغربی بنگال میں اقتدار حاصل کرنے کیلئے وہی ہتھکنڈے استعمال کئے جو اس نے اتر پردیش میں کئے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: اکھلیش یادو ممتا بنرجی سے ملنے بنگال پہنچے
۲۰۲۷ء میں ہونے والے یوپی اسمبلی انتخابات کیلئے ایس پی کی حکمتِ عملی کے بارے میں بات کرتے ہوئے ڈمپل یادو نے کہا کہ پارٹی ”پی ڈی اے“ (PDA) گروپس یعنی پسماندہ طبقات، دلتوں اور اقلیتوں کے ساتھ کام کرنا جاری رکھے گی۔
ڈمپل یادو نے خواتین کی حفاظت کے حوالے سے بی جے پی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے غازی پور، گونڈہ اور پرتاپ گڑھ کے واقعات کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ ”ہم مسلسل کئی مقامات پر جنسی حملوں کے بارے میں سن رہے ہیں۔“ ڈمپل یادو الزام لگایا کہ یوپی پولیس اور ریاستی حکومت کے نمائندے ایسے معاملات میں کارروائی کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ انہوں نے بی جے پی کو مغربی بنگال اور منی پور میں ہونے والے تشدد کا بھی ذمہ دار ٹھہرایا۔