Inquilab Logo Happiest Places to Work

گلوبل صمود فلوٹیلا کے دو کارکنوں کو اسرائیل جلد رہا کرے گا

Updated: May 09, 2026, 7:04 PM IST | Tel Aviv

فلسطینیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی اسرائیلی تنظیم عدلہ نے کہا ہے کہ اسرائیلی حکام غزہ جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کے دو زیر حراست کارکنوں، برازیلی شہری تھیاگو ایویلا اور فلسطینی نژاد ہسپانوی کارکن سیف ابو کشک کو رہا کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ تنظیم کے مطابق دونوں کارکنوں کو رہائی کے بعد امیگریشن حکام کے حوالے کیا جائے گا جہاں انہیں ملک بدری تک حراست میں رکھا جائے گا۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب اسرائیلی عدالت نے ان کی حراست میں توسیع کے خلاف دائر اپیل مسترد کر دی۔ دونوں کارکن غزہ کی ناکہ بندی توڑنے کے مشن میں شامل تھے۔

Brazilian citizen Thiago Avila and Palestinian-born Spanish activist Saif Abu Kashk. Photo: X
برازیل کے شہری تھیاگو ایویلا اور فلسطینی نژاد ہسپانوی کارکن سیف ابو کشک۔ تصویر: ایکس

فلسطینیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی اسرائیلی قانونی تنظیم Adalah نے سنیچر کو کہا ہے کہ اسرائیلی سیکوریٹی حکام نے غزہ جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کے دو کارکنوں کو رہا کرنے کے منصوبے سے متعلق اس کی قانونی ٹیم کو مطلع کر دیا ہے۔ تنظیم کے مطابق برازیل کے شہری تھیاگو ایویلا اور فلسطینی نژاد ہسپانوی کارکن سیف ابو کشک کو بعد میں رہا کیا جائے گا، جس کے بعد انہیں اسرائیلی امیگریشن حکام کے حوالے کیا جائے گا۔ عدلہ نے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیلی داخلی سیکوریٹی سروس شین بیت نے تنظیم کے وکلاء کو اس فیصلے سے آگاہ کیا۔ تنظیم کے مطابق دونوں کارکنوں کو رہائی کے بعد ملک بدری تک حراست میں رکھا جائے گا۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی پابندی کے سبب مقبوضہ مغربی کنارے میں جلدی بیماری میں اضافہ:اقوام متحدہ

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب بیر شیبہ کی ایک اسرائیلی ضلعی عدالت نے بدھ کے روز دونوں کارکنوں کی حراست میں توسیع کے خلاف دائر اپیل مسترد کر دی تھی۔ اپیل انسانی حقوق کی تنظیم عدلہ کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔ تھیاگو اور سیف ان کارکنوں میں شامل تھے جو غزہ کی ناکہ بندی توڑنے کے لیے روانہ ہونے والے گلوبل صمود فلوٹیلا مشن میں شریک تھے۔ اسرائیلی افواج نے ۳۰؍ اپریل کو یونانی جزیرے کریٹ کے قریب اس فلوٹیلا کو روک لیا تھا۔ منتظمین کے مطابق یہ مقام غزہ سے تقریباً ۶۰۰؍ سمندری میل دور بین الاقوامی پانیوں میں واقع تھا۔ گلوبل صمود فلوٹیلا کا مقصد غزہ کی ناکہ بندی کے خلاف احتجاج کرنا اور انسانی امداد و یکجہتی کا پیغام پہنچانا تھا۔
فلسطینی حامی گروپوں کا کہنا ہے کہ اسرائیل ۲۰۰۷ء سے غزہ کی ناکہ بندی کیے ہوئے ہے، جس کے نتیجے میں علاقے کے تقریباً ۲۴؍  لاکھ افراد شدید انسانی بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔ امدادی اداروں اور بین الاقوامی تنظیموں نے متعدد مرتبہ خبردار کیا ہے کہ غزہ میں خوراک، ادویات اور بنیادی سہولیات کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔ فلوٹیلا سے وابستہ گروپوں نے اسرائیلی کارروائی کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بین الاقوامی پانیوں میں شہری کارکنوں کی گرفتاری غیر قانونی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اسپین: پیڈرو سانچیز نے فرانسسکا البانیز کو’’آرڈر آف سول میرٹ‘‘ سے نوازا

اسرائیلی حکام کی جانب سے تاحال اس حوالے سے کوئی تفصیلی عوامی بیان جاری نہیں کیا گیا، تاہم عدلہ نے کہا ہے کہ دونوں کارکنوں کی رہائی اور بعد ازاں ملک بدری کا عمل جلد مکمل کیا جا سکتا ہے۔ غزہ میں جاری جنگ اور محاصرے کے باعث عالمی سطح پر اسرائیل پر دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔ انسانی حقوق کی متعدد تنظیمیں، امدادی ادارے اور عالمی شخصیات مسلسل جنگ بندی، ناکہ بندی کے خاتمے اور انسانی امداد کی آزادانہ رسائی کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK