ایک سینئر ایرانی قانون ساز نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قانونی نظام سے متعلق پارلیمانی بل تیار ہے اور قانون ساز ادارے کے دوبارہ کام شروع کرتے ہی اسے ’’ڈیٹرنٹ لا‘‘کے طور پر منظور کر لیا جائے گا۔
EPAPER
Updated: May 09, 2026, 10:11 PM IST | Tehran
ایک سینئر ایرانی قانون ساز نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قانونی نظام سے متعلق پارلیمانی بل تیار ہے اور قانون ساز ادارے کے دوبارہ کام شروع کرتے ہی اسے ’’ڈیٹرنٹ لا‘‘کے طور پر منظور کر لیا جائے گا۔
ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے تہران میں ایک تقریب کے موقع پر کہا کہ آبنائے ہرمز کے قانونی نظام سے متعلق پارلیمانی بل تیار ہے اور قانون ساز ادارے کے دوبارہ کام شروع کرتے ہی اسے ’’ڈیٹرنٹ لا‘‘کے طور پر منظور کر لیا جائے گا۔ واضح رہے کہ انہوں نے پارلیمان کے اس فیصلے پر تبصرہ کیا جس کے تحت آبنائے ہرمز سے اسرائیل اور امریکہ سے وابستہجہازوں کی آمد روکنے اور غیر مخالف سمجھے جانے والے دیگر جہازوں پر محصولات عائد کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: سعودی عرب کی وجہ سے امریکہ کو پیچھے ہٹنا پڑا
بعد ازاں خبر رساں ادارے شینہوا کے مطابق، عزیزی نے بتایا کہ یہ بل تیار ہے اور ملک کی متعلقہ حکام بشمول وزارت خارجہ اور ایران کی بندرگاہوں اور بحری تنظیم کے ساتھ متعدد ملاقاتوں میں اس پر بحث ہو چکی ہے۔سرکاری خبر رساں ادارے آئی آر این اے کے مطابق، عزیزی نے جمعرات کو کہا کہ ایران نے ہمیشہ آبنائے ہرمز میں محفوظ اور آزاد بحری نقل و حرکت کو یقینی بنانے کی کوشش کی ہے، اور زور دے کر کہا کہ امریکی فوجی موجودگی اور اسرائیل کی ’’مہم جوئی‘‘ خلیج اور آبنائے ہرمز میں عدم تحفظ اور عدم استحکام کی اصل جڑیں ہیں۔ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے رکن علی خضریان نے سرکاری ٹی وی آئی آر آئی بی سے گفتگو کرتے ہوئے یہ بات جمعرات اور جمعہ کو آبنائے ہرمز اور اس کے ارد گرد ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے جھڑپوں کے ردعمل میں کہی۔انہوں نے کہا، ’’اب کوئی بھی ایرانی بحری جہازوں کے خلاف کارروائی کا فوری جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ایرانی فوج نےآبنائے ہرمز میں دراندازی کی کوشش کرنے والے امریکی جنگی جہازوں کو نشانہ بنایا۔
تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اب سے امریکیوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ ایران اپنے بحری جہازوں کی حفاظت کے لیے اپنی علاقائی اور ماورائے علاقائی پانی پر اپنی خودمختاری کا تحفظ کرے گا۔تاہم ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس نے جمعہ کو آبنائے ہرمز میں ایرانی مسلح افواج اور امریکی بحری جہازوں کے درمیان جھڑپوں کی اطلاع دی۔