Inquilab Logo Happiest Places to Work

آبنائے ہرمز میں امریکی ناکہ بندی مہینوں جاری رہے، تب بھی ایران کو فرق نہیں پڑے گا: سی آئی اے رپورٹ

Updated: May 09, 2026, 10:09 PM IST | Washington

ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کی میزائل صلاحیتیں ”زیادہ تر ختم“ ہو چکی ہیں۔ اس کے برعکس، سی آئی اے کا تخمینہ بتاتا ہے کہ تہران اپنی زیادہ تر زیرِ زمین اسٹوریج کی سہولیات کو دوبارہ کھولنے، تباہ شدہ میزائل سسٹم کی مرمت اور ان ہتھیاروں کی اسمبلی مکمل کرنے میں کامیاب رہا ہے جو تنازع شروع ہونے سے پہلے تکمیل کے قریب تھے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

امریکی خفیہ ادارے سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) نے امریکی پالیسی سازوں کے ساتھ شیئر کئے گئے ایک خفیہ تخمینے میں یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ایران، شدید معاشی دباؤ کا سامنا کئے بغیر، آبنائے ہرمز میں جاری امریکی بحری ناکہ بندی کو کم از کم تین سے چار ماہ تک برداشت کرسکتا ہے۔

امریکی روزنامے ’دی واشنگٹن پوسٹ‘ میں شائع ہوئی یہ رپورٹ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ان بار بار کئے جانے والے دعوؤں کی تردید کرتی ہے کہ امریکہ-اسرائیل کے ایران پر تقریباً ۴۰ دنوں تک شدید حملوں کے بعد اسلامی ملک کی فوج اور معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایران جنگ: آبنائے ہرمز میں امریکی جنگی جہازوں اور ایرانی فورسیزکے درمیان فائرنگ

رپورٹ کے مطابق، ایران کے پاس اب بھی، جنگ سے پہلے کے میزائل ذخیرے کا تقریباً ۷۰ فیصد اور موبائل میزائل لانچرز کا تقریباً ۷۵ فیصد حصہ موجود ہے۔ دی واشنگٹن پوسٹ نے یہ اعداد و شمار ایک امریکی اہلکار کے حوالے سے پیش کئے ہیں جو سی آئی اے کے اس خفیہ تخمینے سے واقف ہے۔

واضح رہے کہ امریکہ نے تقریباً ایک ماہ قبل آبنائے ہرمز میں بحری ناکہ بندی اس یقین کے ساتھ کی تھی کہ اس سے ایران کی تیل کی برآمدات مفلوج ہو جائیں گی اور تہران مذاکرات پر مجبور ہو جائے گا۔ ناکہ بندی کے اعلان کے بعد ٹرمپ نے نامہ نگاروں کو بتایا تھا کہ ”اگر ان کے تیل کی نقل و حرکت شروع نہ ہوئی، تو ان کا پورا تیل انفراسٹرکچر پھٹ جائے گا۔“ تاہم، سی آئی اے کی تحقیقات مبینہ طور پر اس بات کی نشان دہی کرتی ہیں کہ ایرانی تیل کے شعبے کی جس فوری تباہی کی توقع کی جا رہی تھی، وہ نہیں ہوئی۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کا روبیو کے ذریعے پوپ کو پیغام،’’ ایران کبھی جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتا‘‘

ٹرمپ نے بدھ کو دعویٰ کیا تھا کہ ایران کی میزائل صلاحیتیں ”زیادہ تر ختم“ ہو چکی ہیں۔ اوول آفس میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ”ان کے پاس شاید ۱۸ یا ۱۹ فیصد بچا ہے، لیکن اس کے مقابلے بہت زیادہ نہیں جو ان کے پاس جنگ شروع ہونے سے پہلے موجود تھا۔“ 

ٹرمپ کے دعوؤں کے برعکس، سی آئی اے کا تخمینہ بتاتا ہے کہ ایران اپنی زیادہ تر زیرِ زمین اسٹوریج کی سہولیات کو دوبارہ کھولنے، تباہ شدہ میزائل سسٹم کی مرمت کرنے اور ان ہتھیاروں کی اسمبلی مکمل کرنے میں کامیاب رہا ہے جو تنازع شروع ہونے سے پہلے تکمیل کے قریب تھے۔ رپورٹ میں یہ بھی اشارہ دیا گیا کہ تہران نے مسلسل امریکی اور اسرائیلی حملوں کے باوجود اپنی فوجی صلاحیتوں کی تعمیر نو اور ان میں اضافہ جاری رکھا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK