Updated: July 05, 2026, 4:04 PM IST
| Washington
صدر ٹرمپ نے ایک مختصر ٹیلی فونک گفتگو میں کہا، ’’ہمارے تعلقات بہت اچھے ہیں، نیتن یاہو جانتے ہیں کہ اصل باس کون ہے، ‘‘ جس میں وہ اپنی طرف اشارہ کر رہے تھے۔ ٹرمپ اوربنجامین نیتن یاہو کے درمیان جلد وہائٹ ہاؤس میں اہم ملاقات متوقع ہے۔ اگرچہ ملاقات کی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا، تاہم دونوں لیڈروں نے اگلے ہفتے ملاقات پر اتفاق کیا ہے۔
ٹرمپ اور نیتن یاہو کی آخری براہ راست ملاقات فروری میں ہوئی تھی۔ تصویر: آئی این این
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیرِاعظم بنجامین نیتن یاہو نے وہائٹ ہاؤس میں ملاقات کی درخواست کی ہے اور یہ ملاقات ممکنہ طور پر نیٹو اجلاس کے بعد جلد ہو سکتی ہے۔ امریکی ویب سائٹ ایگزیوس کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایک مختصر ٹیلی فونک گفتگو میں کہا، ’’ہمارے تعلقات بہت اچھے ہیں، نیتن یاہو جانتے ہیں کہ اصل باس کون ہے، ‘‘ جس میں وہ اپنی طرف اشارہ کر رہے تھے۔ رپورٹ کے مطابق یہ ملاقات دونوں لیڈروں کے درمیان فروری میں ہونے والی ملاقات کے بعد پہلی براہِ راست ملاقات ہوگی۔ اس وقت دونوں لیڈروں نے وہائٹ ہاؤس کے سیچویشن روم میں ملاقات کی تھی، جہاں اسرائیل کی جانب سے ایران سے متعلق مختلف تجاویز پر بھی گفتگو ہوئی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: شدید گرمی کی لہر کے سبب امریکہ کے مختلف شہروں میں توانائی کا بحران
ایک اسرائیلی عہدیدار نے بتایا کہ اگلے ہفتے ملاقات کا امکان موجود ہے، تاہم، امریکی صدر کی۷؍ اور۸؍ جولائی کو ترکی میں ہونے والے نیٹو اجلاس میں مصروفیات کے باعث یہ ملاقات ایک ہفتہ مزید مؤخر بھی ہو سکتی ہے۔ ادھر اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو نے امریکہ کے۲۵۰؍ویں یومِ آزادی کے موقع پر صدر ٹرمپ کو فون کر کے مبارک باد دی۔ بیان کے مطابق گفتگو کے دوران نیتن یاہو نے امریکہ کو عالمی آزادی کا ضامن قرار دیا اور دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعلقات کو سراہا۔ دونوں لیڈروں نے جلد امریکہ میں ملاقات پر بھی اتفاق کیا۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ نے ماؤنٹ رشمور کی تقریر میں کمیونزم کو ’دشمن‘ قرار دیا، ’سوشلسٹ ڈیموکریٹس‘ کو نشانہ بنایا
دوسری جانب ایگزیوس کی رپورٹ میں امریکی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ فروری کی ملاقات کے بعد صدر ٹرمپ کے بعض قریبی مشیروں میں نیتن یاہو کی پالیسیوں کے حوالے سے شکوک و شبہات میں اضافہ ہوا ہے۔ ایک امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ٹرمپ کے بعض قریبی ساتھیوں کا خیال ہے کہ نیتن یاہو نے کئی اہم معاملات میں غلط اندازے لگائے تھے، تاہم اس حوالے سے وہائٹ ہاؤس یا اسرائیلی حکومت کی جانب سے کوئی باضابطہ تبصرہ سامنے نہیں آیا۔