Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹرمپ کا مودی کو فون، مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گفتگو

Updated: March 24, 2026, 11:48 PM IST | New Delhi

جنگ بندی کیلئے جاری کوششوں کے بیچ دونوں لیڈروں نے آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کی ضرورت سے اتفاق کیا، وزیراعظم نے کشیدگی کے خاتمے اورامن کی بحالی پر زور دیا

PM Modi calls on Trump to ease tensions and restore peace
وزیراعظم مودی نے ٹرمپ سے گفتگو میں کشیدگی کے خاتمے اورامن کی بحالی پر زور دیا

 آبنائے ہرمز کو کھولنےکیلئے ایران کو دی گئی اپنی وارننگ کو مو ٔخر کرنے کے ایک دن بعد منگل کو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے وزیراعظم مودی کو فون کرکے مشرق وسطیٰ کی صورتحال  پر گفتگو کی۔  دونوں لیڈروں کے درمیان  یہ گفتگو ایسے وقت میں ہورہی ہے جب جنگ بندی کی کوششیں  تیز ہوگئی ہیں اورآئندہ چند دنوں میں اس ضمن میں اسلام آباد میں  میٹنگ ہوسکتی ہے۔  ہندوستان  نے مشرق وسطیٰ میں جنگ  کے خاتمے اور امن کی بحالی پر زور دیا ہے۔ منگل کو ہونےوالی گفتگو  میں  دونوں لیڈروں نے بطور خاص آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔  ۲۸؍ فروری کو ایران کے خلاف چھیڑی گئی جنگ کے بعد امریکی صدر کے ساتھ وزیراعظم نریندر مودی کی یہ پہلی گفتگو  ہے۔  انہوں  نے خود ایکس پوسٹ کے ذریعہ اطلاع دی کہ انہیں امریکی صدر نے فون کیا تھا۔ 
ہرمز کو کھلا رکھنا پوری دنیا کیلئے ضروری
 وزیراعظم مودی  نے  منگل کو ’ایکس ‘ پوسٹ میں اطلاع دی کہ ’’صدر ٹرمپ کا فون موصول ہوا ۔  مغربی ایشیا کی صورتحال پر ان سے مفید تبادلۂ خیال ہوا۔ ہندوستان کشیدگی میں کمی اور جلد از جلد امن کی بحالی کی حمایت کرتا ہے۔ آبنائے ہرمز کو کھلا، محفوظ اور قابلِ رسائی رکھنا پوری دنیا کیلئے ضروری ہے۔ ہم نے امن اور استحکام کی کوششوں کے سلسلے میں رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا ہے۔‘‘ مودی کو ٹرمپ کے فون کی  خبر سب سے پہلے  ہندوستان  میں   امریکہ کے سفیر سرجیو گور نے ایکس پر دی، انہوں نے کہا کہ ’’صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ابھی وزیر اعظم مودی سے بات کی۔ انہوں نے مشرق وسطیٰ کی جاری صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا، جس میں آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کی اہمیت بھی شامل ہے۔‘‘
امریکی وزیر خارجہ سے جے شنکر کی گفتگو
 ٹرمپ-مودی گفتگو سے ایک دن قبل پیر کو  وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے بات کی جو جنگ کے آغاز کے بعد ان کی پہلی ٹیلی فونک گفتگو تھی۔ اس کے  تعلق سے جے شنکر نے  بتایا ہے کہ ’’ہماری بات چیت کا مرکز مغربی ایشیا کا تنازع اور اس کے عالمی معیشت پر اثرات تھے۔ ہم نے خاص طور پر توانائی کے تحفظ کے خدشات پر بات کی اور رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔‘‘
جنگ بندی کی کوششیں تیز، پاکستان کا اہم رول
اس بیچ ایران  کے خلاف جنگ کو ختم کروانے کیلئے کوششیں تیز ہوگئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق کئی اہم عالمی اور علاقائی طاقتیں ثالثی کا کردار ادا کر رہی ہیں تاکہ جنگ بندی اور کشیدگی میں کمی کی راہ ہموار کی جاسکے۔بتایا جارہاہےکہ پاکستان ایران جنگ رکوانے کیلئے  اسلام آباد میں آئندہ ہفتے مذاکرات کی میزبانی کرسکتا ہے۔ترک نیوز ایجنسی نے پاکستانی وزارت خارجہ کے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکی وفد ممکنہ مذاکرات کیلئے ایک یا دو دن میں پاکستان پہنچ رہا ہے۔ الجزیرہ کا کہنا ہے امکان ہے امریکی مذاکراتی ٹیم نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں آئے۔ اس ٹیم میں ٹرمپ کے نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف اور مشیر جیرڈ کشنر بھی شامل ہوں گے۔ ایران کی مذاکراتی ٹیم کی قیادت ممکنہ طور پر ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقرقالیباف کریں گے۔
امریکی دھوکہ بازیوں کی بنا پر ایران گفتگو کیلئے تیار نہیں
  رپورٹ کے مطابق  امریکہ کے سابقہ طرز عمل اور اس کی دھوکہ بازی کی وجہ سے ایران عدم اعتمادکا شکار ہے اور  وہ اب تک اس گفتگو کیلئے تیار نہیں  ہوا ہے تاہم پاکستان اسے آمادہ کرنے کی کوشش کررہا ہے ۔پاکستانی وزارت خارجہ کے ذرائع کا کہنا ہے ایران کو مذاکرات پرآمادہ کرنے  کیلئے بیک ڈور سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ پاکستان، ترکی  اور مصرمشترکہ رہنمائی کر رہے ہیں۔ دوسری جانب سی این این سے گفتگو میں پاکستان  کے دفتر خارجہ   کےترجمان  طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ اگر فریقین رضا مند ہوں تو پاکستان مذاکرات کی میزبانی کے لئےہر وقت تیار ہے۔ 
جنگ بندی کے امکان سے اسرائیل پریشان
 دوسری طرف ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی  کے امکانات سے اسرائیل پریشان ہوگیاہے۔   اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے  اپنی اتحادی پارٹیوں  کے لیڈروں کی  ہنگامی  میٹنگ طلب کی ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق یہ اقدام ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے حوالے سے امریکہ کے ساتھ ہونے والے رابطوں سے متعلق ہو سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK