امریکی صدر نےیہ واضح کیا کہ اگر ایران کے ساتھ تیزی سے معاہدہ ممکن نہیں ہوا تو حملے پھر کئے جائیں گے۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ پل میں تولہ پل میں ماشہ کا نمونہ ہیں- تصویر:آئی این این
امریکی صدر ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے ایران پر مجوزہ حملہ موخر کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم یہ فیصلہ اس شرط سے مشروط ہے کہ ایران کے ساتھ جلد کسی معاہدے تک پہنچا جا سکے۔ٹرمپ نے کہا کہ اگر تیزی سے معاہدہ ممکن ہوا تو حملہ نہیں کیا جائے گا جبکہ اسرائیل بھی اس مؤقف میں امریکہ کے ساتھ ہے۔صدر ٹرمپ کی جانب سے یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یہ اطلاعات تھیں کہ امریکہ اور اسرائیل ایران پر نئے اور انتہائی شدید حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکہ ایران کے خلاف ایسی فوجی کارروائی کیلئےمکمل طور پر تیار تھا، جس کی شدت، طاقت اور عسکری صلاحیت دوسری عالمی جنگ کے بعد کبھی نہیں دیکھی گئی۔
واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب امریکی صدر نے ایران کے خلاف شدت اور تباہ کن کارروائی کے انتباہ کے بعد سفارتکاری کو موقع دینے کی بات کی ہو۔ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران اور مشرقِ وسطیٰ کے بعض دیگر ممالک نے امریکہ سے حملہ روکنے کی درخواست کی ہے۔تاہم ایرانی خبر رساں ادارے مہر نیوز نے امریکی صدر ٹرمپ کے اس دعوے کی تردید کی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ایران نے امریکہ سے نئے حملے نہ کرنے کی درخواست کی تھی۔ ایجنسی نے فوجی حکام کے حوالے سے کہا کہ ٹرمپ کا یہ دعویٰ ایک نیا جھوٹ ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایرانی مسلح افواج ہائی الرٹ پر ہیں اور کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے مکمل طور پر تیار ہیں۔