اقتدار کی منتقلی میں ٹرمپ کی جانب سے رکاوٹوں کی تردید

Updated: November 22, 2020, 6:26 AM IST | Agency | Washington

وہاؤٹ ہاؤس نے صفائی دی کہ اس ضمن میں قانوناً جو کچھ بھی کیا جانا چاہئے تھا وہ کیاگیاہے، جو بائیڈن اپنی حکومت کی تیاریوں میں مصروف، آئندہ ہفتے کابینہ کا اعلان متوقع

Donald Trump - Pic : PTI
ڈونالڈ ٹرمپ ۔ تصویر : پی ٹی آئی

آخری ریاست کے طور پر  جارجیا کے نتائج میں بھی جو بائیڈن کی فتح کے  اعلان  کے بعد بھی ڈونالڈ ٹرمپ نے حالانکہ اب تک اپنی شکست تسلیم نہیں کی ہے تاہم وہائٹ ہاؤس  نے  ان الزامات کی تردید کی کہ ٹرمپ انتظامیہ   اقتدار کی منتقلی کی عمل میں رکاوٹیں ڈال رہا ہے۔ وہائٹ ہاؤس کے مطابق اقتدار کی منتقلی کیلئے قانوناً جو کچھ بھی ضروری ہے وہ کیا جا رہاہے۔ دوسری طرف  بائیڈن  نے اپنی حکومت بنانے کی تیاریاں  شروع کر دی ہیں۔ا مید کی جارہی ہےکہ آئندہ ہفتے وہ اپنی کابینہ کا اعلان کردیں گے۔
ڈونالڈ ٹرمپ کیلئے تمام راستے بند
 جارجیا کے الیکشن کے بعد حالانکہ ڈونالڈ ٹرمپ کیلئے   فتح  کےتمام راستے بند ہوگئے ہیں مگر  صدارتی الیکشن کے بعد جمعہ کو جب وہ پہلی بار عوام کے سامنے آئے توانہوں نے اپنے دعوے کو دہرایا کہ وہ الیکشن ’’جیت‘‘چکے ہیں۔  اے ایف پی کی ایک رپورٹ کے مطابق ٹرمپ بھلے ہی یہ چاہ رہے ہوں کہ رپبلکن پارٹی کے اراکین  بھی ان کی ہاں میں ہاں ملائیں مگر یہ ممکن نہیں   ہے کیوں کہ اعدادوشمار واضح طور پر ٹرمپ کو غلط ٹھہرارہے ہیں۔ ۳؍ نومبر کومنعقد ہونےو الے صدارتی الیکشن میں  بائیڈن  نے ٹرمپ کے مقابلے میں ایک لاکھ ۵۵؍ ہزار زائد ووٹ حاصل کئے ہیں۔ رپبلکن پارٹی کے اراکین نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ عوام کے فیصلے کا احترام کریں گے۔ 
وہائٹ ہاؤس نے بھی صفائی دی
  اس بیچ وہائٹ ہاؤس نے بھی صفائی دی ہے کہ اگلے صدر کے انتخاب کیلئے آئینی عمل جاری ہے۔ ۷۸؍ سالہ ٹرمپ نے  الیکشن میں اپنی شکست کو تسلیم کرنے کے بجائے  جو بائیڈن کی فتح کے خلاف کئی مقدمات دائر کررکھے ہیں ۔ انہوں نے کسی ثبوت کے بغیر ہی انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کا الزام عائد کیا ہے۔  یاد رہے کہ جوبائیڈن کو ۷؍ نومبر کو فاتح قرار دے دیا گیا تھا۔  بائیڈن کے پاس  اس وقت ۳۰۶؍ الیکٹورل ووٹ ہیں جبکہ ٹرمپ کے پاس صرف ۲۳۲؍ ووٹ ہیں۔۵۳۸؍ رکنی الیکٹورل کالج  میں فتح حاصل کرکے امریکہ کا صدر بننے کیلئے کسی بھی امیدوار کیلئے ۲۷۰؍الیکٹورل ووٹ جیتنے ضروری ہیں۔ 
 وہائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کا دعویٰ
  وہائٹ ہاؤس کے پریس سیکریٹری میک اینی  نے بھی جمعہ کو ایک پریس کانفرنس کے دوران جو بائیڈن کی فتح کوتسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ یکم اکتوبر کے بعد یہ ان کی پہلی پریس بریفنگ تھی۔  پریس سیکریٹری کا کہناتھا کہ ’’صدر کا موقف بہت ہی واضح ہے ۔ وہ چاہتے ہیں کہ ہر قانونی ووٹ ضرور بہ ضرور گنا جائے۔‘‘ انہوں  نے یہ نہیں بتایا کہ صدر ٹرمپ کب اپنی شکست تسلیم کریںگے تاہم کہا ہے کہ ان کے ’’دعوے بہت حقیقی‘‘ ہیں۔  میک اینی  نے بہر حال ان الزامات کی تردید کی وہائٹ ہاؤس  اقتدارکی منتقلی میں رکاوٹیں ڈال رہا ہے۔ اینی کے مطابق ’’صدارتی منتقلی ایکٹ موجود ہےجو واضح طور پر کہتا ہے کہ ایک انتظامیہ کو پیشگی طور پر کیا کرنا چاہئے،  اورہم نے قانون کے مطابق جوکچھ ضروری تھا سب کیا ہے اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔‘‘
آئندہ ہفتے بائیڈن کی کابینہ کا اعلان متوقع
  جوبائیڈن جو آئندہ سال ۲۰؍ جنوری کو اپنا عہدہ سنبھالیں گے، حکومت سازی کی تیاریوں میں جٹ گئےہیں۔ا ن کی جانب سے آئندہ ہفتے ان کی کابینہ کا اعلان متوقع ہے۔ اسوسی ایٹیڈ پریس کی ایک رپورٹ کے مطابق نومنتخب صدر اس ضمن میں  تیزی سے پیش رفت کررہے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK