انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے آئی ڈی ایف سی فرسٹ بینک سے متعلق ۵۹۷؍کروڑ روپے کے مبینہ گھپلہ معاملے میں جمعہ کو بڑی کارروائی کرتے ہوئے چنڈی گڑھ، موہالی، پنچکولا، گروگرام اور بنگلورو میں مجموعی طور پر ۱۹؍ مقامات پر تلاشی مہم چلائی۔
EPAPER
Updated: March 13, 2026, 10:06 PM IST | New Delhi
انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے آئی ڈی ایف سی فرسٹ بینک سے متعلق ۵۹۷؍کروڑ روپے کے مبینہ گھپلہ معاملے میں جمعہ کو بڑی کارروائی کرتے ہوئے چنڈی گڑھ، موہالی، پنچکولا، گروگرام اور بنگلورو میں مجموعی طور پر ۱۹؍ مقامات پر تلاشی مہم چلائی۔
انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے آئی ڈی ایف سی فرسٹ بینک سے متعلق ۵۹۷؍کروڑ روپے کے مبینہ گھپلہ معاملے میں جمعہ کو بڑی کارروائی کرتے ہوئے چنڈی گڑھ، موہالی، پنچکولا، گروگرام اور بنگلورو میں مجموعی طور پر ۱۹؍ مقامات پر تلاشی مہم چلائی۔
ای ڈی کے چنڈی گڑھ زونل دفتر کے مطابق یہ معاملہ حکومتِ ہریانہ، میونسپل کارپوریشن چنڈی گڑھ اور دیگر سرکاری کھاتوں کے ۵۹۷؍ کروڑ روپے کے غبن سے جڑا ہوا ہے۔ یہ رقم بینک میں فکسڈ ڈپازٹ کے طور پر جمع کی جانی تھی لیکن الزام ہے کہ متعلقہ افراد نے بغیر اجازت سرکاری فنڈز کو دوسری جگہوں پر منتقل کر دیا۔
یہ بھی پڑھئے:سِنر نے ٹِیئن کو شکست دی، سیمی فائنل میں زیوریو سے مقابلہ ہوگا
تلاشی کارروائی کے دوران سابق بینک ملازمین ریبھو رشی اور ابھے کمار ان کے اہل خانہ اور فائدہ اٹھانے والی شیل کمپنیوں کو شامل کیا گیا۔ تحقیقات کے دائرے میں سواستک دیش پروجیکٹس، کیپکو فنٹیک سروسز، ماں ویبھو لکشمی انٹیریئرز اور ایس آر آر پلاننگ گروس پرائیویٹ لمیٹڈ جیسی کمپنیاں بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ساون جیولرز اور رئیل اسٹیٹ ڈویلپر وکرم وادھوا اور ان کی کاروباری اکائیوں پر بھی چھاپے مارے گئے۔
یہ بھی پرھئے:نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے کوچز کو پی ایس ایل ۱۱؍ کے لیے این او سی جاری
ای ڈی نے یہ تحقیقات پریوینشن آف منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت شروع کی ہیں۔ یہ کارروائی ہریانہ اسٹیٹ ویجیلنس اینڈ اینٹی کرپشن بیورو، پنچکولا کی جانب سے فروری ۲۰۲۶ء میں درج ایف آئی آر کی بنیاد پر کی گئی۔ تحقیقات میں ہریانہ محکمہ ترقی و پنچایت کے بینک کھاتوں میں بیلنس میں بے ضابطگیاں سامنے آئی تھیں جو آئی ڈی ایف سی فرسٹ بینک اور اے یو اسمال فنانس بینک میں چلائے جا رہے تھے۔