Updated: April 25, 2026, 4:05 PM IST
| Washington
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے متنازع ’’گولڈ کارڈ‘‘ ویزا پروگرام کے تحت اب تک صرف ایک درخواست منظور ہوئی ہے، حالانکہ سیکڑوں افراد نے عرضی دی ہے۔ ہاورڈ لوٹنک کے مطابق اسکیم امیر افراد کو امریکہ لانے کے لیے بنائی گئی ہے، لیکن سخت جانچ اور بھاری اخراجات اس کی رفتار کو سست کر رہے ہیں۔
امریکہ میں ڈونالڈ ٹرمپ کی حکومت کی جانب سے متعارف کرایا گیا ’’گولڈ کارڈ‘‘ ویزا پروگرام توقعات کے برعکس سست رفتار کا شکار نظر آ رہا ہے۔ امریکی کامرس سیکریٹری ہاورڈ لوٹنک نے کانگریس کی ایک کمیٹی کو بتایا کہ اب تک اس اسکیم کے تحت صرف ایک غیر ملکی درخواست دہندہ کو منظوری ملی ہے۔ یہ انکشاف ایسے وقت سامنے آیا ہے جب حکومت نے پہلے دعویٰ کیا تھا کہ ایک ہی دن میں ایک ہزار گولڈ کارڈز فروخت ہو سکتے ہیں اور لاکھوں افراد اس میں دلچسپی لے سکتے ہیں۔
گولڈ کارڈ ویزا کیا ہے؟
یہ پروگرام بنیادی طور پر امیر غیر ملکی شہریوں کو امریکہ میں مستقل رہائش دینے کے لیے بنایا گیا ہے، لیکن اس کے بدلے میں انہیں حکومت کو ایک بڑی، ناقابل واپسی مالی رقم دینا ہوتی ہے، جسے ’’تحفہ‘‘ کہا جا رہا ہے۔
سخت شرائط اور سست پیش رفت
ہاورڈ لوٹنک کے مطابق اس ویزا کیلئے سیکڑوں درخواستیں موصول ہو چکی ہیں اور تمام درخواست دہندگان سخت جانچ (extreme vetting) سے گزر رہے ہیں جبکہ ہر درخواست کے لیے تقریباً ۱۵؍ ہزار ڈالر پروسیسنگ فیس ادا کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ منظور شدہ واحد درخواست دہندہ کی شناخت ظاہر نہیں کی جائے گی۔
ٹرمپ کا وژن اور بڑے دعوے
ٹرمپ نے اس پروگرام کو ایک ’’گیم چینجر‘‘ قرار دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک ملین (۱۰؍ لاکھ) سے زیادہ لوگ اس اسکیم میں شامل ہو سکتے ہیں۔ اس سے امریکہ کے قرض کو کم کرنے کے لیے ٹریلین ڈالرز حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ تاہم موجودہ اعداد و شمار ان دعوؤں کے برعکس ایک محتاط اور سست عمل کی نشاندہی کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ایران نے آٹھ خواتین کی پھانسی روکنے کے ٹرمپ کے دعوے کو’’جھوٹی خبر‘‘ قرار دیا
تنقید اور سوالات
ماہرین اور ناقدین نے اس اسکیم پر کئی سوالات اٹھائے ہیں مثلاً کیا شہریت یا رہائش کو مالی بنیاد پر بیچا جانا درست ہے؟، کیا اس سے امیگریشن سسٹم میں عدم مساوات بڑھے گی؟، اور سخت جانچ کے باوجود کیا سیکوریٹی خدشات باقی رہ سکتے ہیں؟
حکومت کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے جانچ کا عمل مکمل ہوگا، مزید منظوریوں کا امکان ہے۔ لیکن موجودہ رفتار سے واضح ہے کہ یہ پروگرام فوری طور پر بڑے پیمانے پر کامیاب نہیں ہو سکا۔