Updated: April 25, 2026, 5:21 PM IST
| West Bank
مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں بلدیاتی انتخابات کے لیے ووٹنگ کا آغاز ہو گیا ہے، جہاں تقریباً ۱۵؍ لاکھ افراد مغربی کنارہ اور ۷۰؍ ہزار افراد دیر البلاح میں رجسٹرڈ ہیں۔ یہ انتخابات جنگ اور سیاسی محدودیت کے ماحول میں ہو رہے ہیں، جہاں فتح سے وابستہ امیدواروں کا غلبہ ہے جبکہ حماس اس عمل میں شامل نہیں۔ اقوام متحدہ نے اسے مشکل حالات میں جمہوری عمل کا اہم موقع قرار دیا ہے۔
فلسطین کے بلدیہ انتخاب کے ایک پولنگ بوتھ کی تصویر۔ تصویر: ایکس
اسرائیل کے زیر قبضہ مغربی کنارہ اور محصور غزہ کے علاقے دیر البلاح میں آج بلدیاتی انتخابات کے لیے پولنگ کا آغاز ہوا، جو حالیہ جنگ اور انسانی بحران کے بعد پہلا انتخابی عمل ہے۔ راملہ میں قائم سینٹرل الیکشن کمیشن کے مطابق، تقریباً ۵ء۱؍ ملین ووٹرز مغربی کنارے میں جبکہ ۷۰؍ ہزار ووٹرز دیرالبلاح میں رجسٹرڈ ہیں۔ پولنگ صبح سے شام تک جاری رہے گی، جبکہ غزہ میں بجلی کی قلت کے باعث ووٹنگ جلد ختم کر دی جائے گی تاکہ گنتی دن کی روشنی میں ممکن ہو سکے۔ انتخابی منظرنامہ محدود سیاسی تنوع کی عکاسی کرتا ہے۔ زیادہ تر امیدوار ’’فتح‘‘ (سیاسی جماعت) سے وابستہ یا آزاد حیثیت میں کھڑے ہیں، جبکہ حماس سے متعلق کوئی فہرست شامل نہیں ہے۔ بعض مقامات پر پاپولر فرنٹ فار دی لبریشن آف فلسطین جیسے دھڑوں کے امیدوار بھی میدان میں ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ہندوستان سے بنی میناشی کمیونٹی کے ۲۴۰؍ یہودی اسرائیل پہنچے، آبادکاری پر تنازع
مقامی سطح پر عوامی جذبات مایوسی کی عکاسی کرتے ہیں۔ طولکرم کے رہائشی محمود بدر نے کہا کہ وہ ووٹ ضرور ڈالیں گے، مگر انہیں حقیقی تبدیلی کی امید کم ہے، کیونکہ ان کے مطابق اصل کنٹرول اسرائیلی قبضے کے پاس ہے۔ دوسری جانب غزہ میں کچھ نوجوان ووٹرز اس عمل کو امید کی علامت سمجھ رہے ہیں۔ ۲۵؍ سالہ فرح شاط کے مطابق، یہ ووٹنگ ’’ہر مشکل کے باوجود ہمارے وجود کی تصدیق‘‘ ہے۔ اقوام متحدہ کے نمائندے رمیش راجہ سنگھم نے انتخابی کمیشن کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتخابات فلسطینیوں کے لیے انتہائی مشکل حالات میں اپنے جمہوری حقوق استعمال کرنے کا اہم موقع ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ایرانی سفارت خانے کا طنزیہ حملہ: ٹرمپ انتظامیہ ’’رجیم چینج‘‘ سے گزر رہی ہے
سیکوریٹی اور انتظامی چیلنجز کے پیش نظر الیکشن کمیشن نے سول سوسائٹی کے عملے کو تعینات کیا ہے اور غزہ میں پولنگ مراکز کی حفاظت کے لیے نجی سیکوریٹی کمپنیوں کی خدمات حاصل کی ہیں۔ یہ انتخابات ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب خطہ جنگ، بے گھری اور سیاسی تقسیم کا شکار ہے، جس کی وجہ سے یہ عمل نہ صرف ایک جمہوری سرگرمی بلکہ ایک علامتی قدم بھی سمجھا جا رہا ہے۔