Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران نے پاکستان میں امریکہ سے مذاکرات کی درخواست کی تردید کی

Updated: April 25, 2026, 4:59 PM IST | Tehran

ایران نے ان امریکی دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ تہران نے پاکستان میں امریکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی درخواست کی ہے۔ ایرانی ذرائع کے مطابق نہ صرف ایسی کوئی درخواست نہیں دی گئی بلکہ امریکہ کی تجاویز کو ’’ضرورت سے زیادہ مطالبات‘‘ کی بنیاد پر مسترد کیا گیا ہے، جس سے جاری سفارتی کشیدگی مزید واضح ہو گئی ہے۔

Iranian Foreign Minister Abbas Araghchi. Photo: INN
ایرانی وزیر خارجہ عباس آراغچی۔ تصویر: ایکس

ایران نے واضح طور پر ان خبروں کی تردید کی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ اس نے پاکستان میں امریکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی درخواست کی ہے۔ یہ تردید ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نیوز ایجنسی کے ذریعے سامنے آئی، جس نے باخبر ذرائع کے حوالے سے امریکی بیانات کو ’’مکمل طور پر غلط‘‘ قرار دیا۔ یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب وہائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران نے پاکستان میں مذاکرات کی خواہش ظاہر کی ہے، جس کے بعد امریکی صدر ٹرمپ نے ممکنہ بات چیت کے لیے ایلچی بھیجے۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کے دعوؤں پر ایران کا سخت ردعمل: ’’ہم متحد ہیں، دشمن کمزور ہو رہا ہے‘‘

تاہم، ایرانی ذرائع نے اس موقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تہران نے نہ صرف ایسی کسی درخواست سے انکار کیا بلکہ امریکہ کی طرف سے آنے والی تجاویز کو بھی ’’ضرورت سے زیادہ مطالبات‘‘ کی وجہ سے قبول نہیں کیا۔ اسی دوران ایرانی خبر رساں ادارے فارس نیوز ایجنسی نے واضح کیا کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا دورہ پاکستان صرف دو طرفہ تعلقات اور مشاورت تک محدود ہے اور اس کا امریکہ کے ساتھ کسی ممکنہ مذاکرات سے کوئی تعلق نہیں۔ دوسری جانب، امریکی حکام نے عندیہ دیا ہے کہ خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور مشیر جیرڈ خشنر پاکستان کا دورہ کر سکتے ہیں تاکہ ایرانی نمائندوں سے ممکنہ بات چیت کی جا سکے، تاہم اس حوالے سے کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

یہ بھی پڑھئے: ایرانی سفارت خانے کا طنزیہ حملہ: ٹرمپ انتظامیہ ’’رجیم چینج‘‘ سے گزر رہی ہے

ایرانی حکام نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ موجودہ حالات میں براہ راست مذاکرات کا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں۔ سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان پسِ پردہ رابطوں میں سہولت کار کا کردار ادا کر سکتا ہے، تاہم کوئی رسمی مذاکرات طے نہیں ہوئے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بیانات کا یہ تضاد خطے میں جاری کشیدگی اور عدم اعتماد کو ظاہر کرتا ہے۔ موجودہ صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ اگرچہ سفارتی دروازے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے، لیکن ایران اور امریکہ کے درمیان اعتماد کی کمی اب بھی کسی بامعنی پیش رفت میں بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK