Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران نے آٹھ خواتین کی پھانسی روکنے کے ٹرمپ کے دعوے کو’’جھوٹی خبر‘‘ قرار دیا

Updated: April 23, 2026, 10:06 PM IST | Tehran

ایران نے آٹھ خواتین کی پھانسی روکنے کے ٹرمپ کے دعوے کو جھوٹی خبر قرار دیا، ایران کی عدلیہ کا کہنا ہے کہ میدان جنگ میں ٹرمپ کا خالی ہاتھ انہیں جھوٹی خبروں سے کامیابیاں گھڑنے پر مجبور کر رہا ہے۔

US President Donald Trump. Photo: X
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: ایکس

ایران کی عدلیہ نے بدھ کو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ان بیانات کو ’’جھوٹی خبر‘‘قرار دیا جن میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران نے آٹھ خواتین کو پھانسی دینے کا فیصلہ واپس لے لیا ہے۔ عدلیہ کا کہنا تھا کہ ان خواتین کو کبھی سزائے موت نہیں سنائی گئی تھی۔ایران کی عدلیہ سے منسلک میزان نیوز ایجنسی نے ایکس پر لکھا، ’’ گزشتہ رات کے دعوے کے جھوٹا ثابت ہونے کے باوجود، ٹرمپ نے چند منٹ قبل ایک اور پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ آٹھ احتجاج کرنے والی خواتین کی سزائے موت، جو آج رات ایران میں دی جانی تھیں، منسوخ کر دی گئی ہیں، اور ایران کا شکریہ ادا کیا۔‘‘ اس میں مزید کہا گیا، ’’میدان جنگ میں ٹرمپ کا خالی ہاتھ انہیں جھوٹی خبروں سے کامیابیاں گھڑنے پر مجبور کر رہا ہے۔‘‘
واضح رہے کہ اس سے قبل جنوبی افریقہ میں ایران کے سفارت خانے نے بھی اسی طرح ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے ان خواتین کو مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تخلیق کردہ قرار دیا تھا۔ سفارت خانے نے ایکس پر لکھا، ’’واہ، ٹرمپ نے اے آئی سے بنی ۹؍ خواتین کو بچا لیا۔‘‘اس سے قبل ٹرمپ نے اپنے سوشل پلیٹ فارم  ٹروتھ سوشل پر لکھا تھا کہ ان کی مداخلت کے بعد آٹھ خواتین مظاہرین کو پھانسی نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے لکھا، ’’بہت اچھی خبر! مجھے ابھی اطلاع ملی ہے کہ آٹھ خواتین مظاہرین جنہیں آج رات ایران میں پھانسی دی جانی تھی، اب قتل نہیں کی جائیں گی۔ ان میں سے چار کو فوری رہا کر دیا جائے گا، اور چار کو ایک ماہ قید کی سزا ہوگی۔‘‘
بعد ازاں انہوں نے کہا کہ وہ ایران کے لیڈروں کے بہت شکرگزار ہیں جنہوں نے بحیثیت صدر ان کی درخواست کا احترام کیا۔ٹرمپ نے اس سے قبل ایک کارکن کے دعوے کو دوبارہ شیئر کیا تھا کہ آٹھ خواتین کو پھانسی کی سزا سنائی گئی ہے۔حالانکہ اس دعوے میں تصاویر تو تھیں لیکن نام نہیں تھے۔ جبکہ ٹرمپ نے ایران سے دوران امن مذاکرات میںپیشرفت کے لیے انہیں رہا کرنے کی اپیل کی تھی۔تاہم، حقوق گروپوں نے بتایا کہ جنوری کے مظاہروں کی پاداش میں گرفتار کم از کم ایک خاتون کو سزائے موت سنائی گئی ہے، جبکہ کم از کم ایک اور خاتون پر ایسے الزامات ہیں جن میں سزائے موت شامل ہے۔ 
بعد ازاں حقوق گروپوں نے ایران پر الزام لگایا ہے کہ اس نے امریکی اسرائیلی جنگ کے تناظر میں سیاسی قیدیوں کو پھانسی دینے میں تیزی دکھائی  ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے ایران امریکہ مذاکرات کے خدوخال ابھی تک واضح نہیں ہیں۔ جبکہ گزشتہ مذاکرات اس وقت ناکام ہو گئے تھے، جب ایران نے امریکہ پر الزام لگایا تھا کہ اس نے آبنائے ہرمز اور ایران کے جوہری پروگرام پرناقابل قبول  مطالبات کر دیے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK