امریکی صدر کی نئی ڈیڈ لائن اور ’’ایران کی مکمل تہذیب کو مٹا دینے ‘‘ کی دھمکی کے بعد کئی اندیشے لاحق مگر درِ پردہ مصالحت کے بھی اشارے، نائب صدر نے کہا جنگ بہت جلد ختم ہوگی
EPAPER
Updated: April 07, 2026, 11:51 PM IST | Tehran
امریکی صدر کی نئی ڈیڈ لائن اور ’’ایران کی مکمل تہذیب کو مٹا دینے ‘‘ کی دھمکی کے بعد کئی اندیشے لاحق مگر درِ پردہ مصالحت کے بھی اشارے، نائب صدر نے کہا جنگ بہت جلد ختم ہوگی
ایران کو اپنی شرطوں پر جنگ بندی پر مجبور کرنے میں ناکام امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اپنا آپا کھونے لگے ہیں۔ اتوار کو گالم گلوج کرنے کے بعد منگل کو علی الصباح (ہندوستانی وقت کے مطابق منگل کی شام) انہوں نے امریکی وقت کے مطابق ۸؍ بجے(ہندوستانی وقت کے مطابق بدھ کو صبح ساڑھے ۵؍ بجے) تک معاہدہ نہ ہونے اور آبنائے ہرمز کے نہ کھلنے کی صورت میں ’’پوری ایرانی تہذیب‘‘ کو مٹادینے کی دھمکی دے ڈالی ۔اس پر ایران کے پاسداران ِ انقلاب نے بھی واشنگٹن کو متنبہ کیا ہےکہ اس کا جواب خطہ سے باہر نکل کر اس طرح دیا جائےگا کہ امریکہ اوراس کے اتحادی برسوں کیلئے تیل سے محروم ہوجائیں گے۔ ٹرمپ کے اس بیان سے کئی اندیشے لاحق ہوگئے ہیں تاہم درپردہ مصالحت کی کوششیں بھی تیز ہوگئی ہیں۔ اس کا اشارہ اس بات سے ملا کہ نائب صدر جے ڈی وینس نے منگل کو ہی جنگ کے بہت جلد ختم ہوجانے کی بات کہی ہے۔
اپنی ناکامی پر ٹرمپ غضبناک، ایران کے خاتمے کی دھمکی
امریکی کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران پر جنگ بندی معاہدہ کیلئے دباؤ بڑھاتے ہوئے کہا ہے کہ’’ آج رات ایران کی پوری تہذیب ہمیشہ کیلئے ختم ہوجائے گی، میں نہیں چاہتا کہ ایسا ہو مگر ایسا ہونے کا امکان ہے۔‘‘ٹروتھ سوشل پر جاری کئے گئے اپنے بیان میں ٹرمپ نے خود کو اور امریکی عوام کو جھوٹی تسلی دیتے ہوئے کہا کہ ’’ہم نے ایران میں رجیم چینج کردی ہے۔‘‘ انہوں نے ایران میں اسلامی انقلاب کے ۴۷؍ برسوں کو ’’ خونریزی، بدعنوانی اور اموات کی ۴۷؍سالہ تاریخ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’ بالآخریہ ختم ہونے جارہی ہے۔‘‘ امریکی صدر کے مطابق ’’آج رات دنیا کی طویل اور مشکل ترین تاریخ کا اہم موڑ ثابت ہوگا۔ شاید کچھ انقلابی اور حیرت انگیز ہو سکتا ہے، کون جانتا ہے؟‘‘
ٹرمپ کی دھمکیاں بوکھلاہٹ کا نتیجہ: مجتبیٰ خامنہ ای
ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ نے ٹرمپ کی دھمکیوں کو ان کی بوکھلاہٹ کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہاہے کہ’’ جنگی مجرموں کا دھمکیوں اور تباہی کا شور بڑھانا ان کی بوکھلاہٹ ہے۔‘‘اس بیچ ایرانی نائب وزیر کھیل نے عوام سے اپیل کی کہ وہ بجلی گھروں پر انسانی زنجیریں بنا کر ٹرمپ کی دھمکیوں کا جواب دیں۔ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کے مشیر مہدی محمدی نے کہا ہےکہ’’ اگر ٹرمپ نے ہتھیار نہ ڈالے تو ان کے اتحادیوں کو پتھر کے زمانے میں واپس بھیج دیا جائے گا، ایران جنگ جیت چکا ہے۔‘‘
۱ء۴۰؍ لاکھ ایرانی جانیں قربان کرنے کو تیار
ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے بھی امریکہ کو للکارتے ہوئے کہا ہے کہ ایک کروڑ ۴۰؍ لاکھ ایرانی اپنی جانیں قربان کرنے کیلئے تیار ہیں۔اس سے قبل ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے کہا تھا کہ ایک کروڑ ۲۰؍ لاکھ ایرانیوں نے جنگ کیلئے خود کو رجسٹرڈ کرالیا ہے۔ پیزشکیان کا بیان اس بات کا اشارہ ہے کہ جنگی خدمات کیلئے خود کو پیش کرنےوالے ایرانی نوجوانوں کی تعداد ایک کروڑ ۴۰؍ لاکھ ہوگئی ہے۔ ’’ایکس‘‘ پر جاری کئے گئے بیان میں ایرانی صدر نے کہا ہے کہ’’ میں خود بھی ایران کیلئے قربانی دینے والوں میں شامل ہوں اور ہمیشہ رہوں گا۔‘‘
مصالحت کی کوششیں تیز
ان اندیشوں کے بیچ کہ ایران کے ہاتھوں شکست خوردگی کے احساس میں مبتلا ٹرمپ خود کو ’’فاتح‘‘ باور کرانے کیلئے کوئی بھی غیر معمولی حرکت کرسکتےہیں، مصالحت کی کوششیں تیز ہوگئی ہیں۔ اس کی اطلاع بین الاقوامی جریدے’’ بلوم برگ‘‘ نے دی ہے ۔اس کے مطابق ’’پچھلے۲۴؍ گھنٹوں میں پاکستان اور مصر نے جنگ بندی کی کوششوں کیلئےمتعدد ٹیلی فون کالس کئے ہیں۔ دونوں ملک واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کیلئے پیغامات کا تبادلہ کر رہے ہیں۔‘‘صدر ٹرمپ پیر کو کہہ چکے ہیں کہ ’’نائب صدر جے ڈی وینس پاکستان کے ذریعے ایران سے گفتگو کر رہے ہیں۔‘‘مصری وزیر خارجہ کے مطابق انہوں نے منگل کو امریکی نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف اور پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے گفتگو کی ہے