Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران جنگ پر عالمی تقسیم، امریکہ میں اختلافات، سفارتی دباؤ میں اضافہ

Updated: April 07, 2026, 9:11 PM IST | Washington

ایران کے ساتھ جاری کشیدگی نے عالمی سیاست میں واضح تقسیم پیدا کر دی ہے، جہاں امریکہ کے اندر بھی اختلافات سامنے آئے ہیں اور یورپی ممالک نے عسکری کارروائیوں پر تحفظات ظاہر کیے ہیں۔ مختلف ممالک نے سفارتی حل پر زور دیا ہے جبکہ خطے میں فوجی تیاریوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ عالمی سطح پر توانائی، سلامتی اور معاشی اثرات کے خدشات بھی بڑھ رہے ہیں، جس کے باعث مختلف حکومتیں ہنگامی حکمت عملیوں پر کام کر رہی ہیں۔

Pentagon. Photo: INN.
پنٹاگون۔ تصویر: آئی این این

(۱) امریکی قانون ساز کی کوشش: ایران جنگ پر پینٹاگون سربراہ کے مواخذے کی مہم
امریکی کانگریس میں ایران کے ساتھ جاری جنگ کے حوالے سے سیاسی اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں، جہاں ایک قانون ساز نے پینٹاگون کے سربراہ کے خلاف مواخذے کی کارروائی شروع کرنے کی کوشش کی ہے۔ رپورٹس کے مطابق اس اقدام کا مقصد ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کی شفافیت اور قانونی حیثیت کا جائزہ لینا ہے۔ ایک قانون ساز نے کہا کہ ’’ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ یہ جنگ کن بنیادوں پر لڑی جا رہی ہے اور اس میں کانگریس کا کردار کیا ہے۔‘‘ ذرائع کے مطابق اس معاملے پر کانگریس کے اندر شدید بحث جاری ہے، جہاں بعض اراکین نے کہا ہے کہ جنگی فیصلے مکمل مشاورت کے بغیر کیے جا رہے ہیں۔
رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا کہ بعض قانون سازوں نے قومی سلامتی پر ممکنہ اثرات اور شہری ہلاکتوں کے خدشات کو بھی اٹھایا ہے۔ اس معاملے پر مزید سماعتوں اور تحقیقات کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایران: سیکڑوں امریکی فوجی زخمی، اسرائیلی اخراجات میں اضافہ، جنگی دباؤ بڑھ گیا

(۲) امریکی داخلی سیاست میں ایران جنگ پر اختلافات شدت اختیار کر گئے
امریکہ کے اندر ایران جنگ کے حوالے سے سیاسی اور عوامی سطح پر اختلافات میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ مختلف سیاسی جماعتوں اور لیڈروں نے حکومت کی پالیسیوں پر سوالات اٹھائے ہیں اور جنگی فیصلوں پر وضاحت طلب کی ہے۔ ایک قانون ساز نے کہا کہ ’’ایسی جنگی صورتحال میں کانگریس کو مکمل طور پر اعتماد میں لیا جانا چاہیے اور شفافیت کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔‘‘
رپورٹس کے مطابق بعض امریکی لیڈروں نے ممکنہ فوجی کارروائیوں کے نتائج، اخراجات اور انسانی نقصان کے خدشات پر بھی تشویش ظاہر کی ہے۔ ذرائع کے مطابق عوامی سطح پر بھی اس معاملے پر بحث جاری ہے، جہاں مختلف حلقے حکومت کے مؤقف اور حکمت عملی پر سوال اٹھا رہے ہیں۔

(۳) یورپی ممالک کا مؤقف: سفارتی حل پر زور، عسکری راستے کی مخالفت
یورپی ممالک نے ایران کے ساتھ کشیدگی کے حوالے سے واضح طور پر سفارتی حل کی حمایت اور عسکری کارروائیوں کی مخالفت کی ہے۔ رپورٹس کے مطابق یورپی یونین کے لیڈروں نے کہا ہے کہ جنگی کارروائی خطے کو مزید عدم استحکام کی طرف لے جائے گی۔ ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’ہم کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے ذریعے مسئلے کے حل کے حامی ہیں۔‘‘
ذرائع کے مطابق یورپی ممالک نے امریکہ سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ محتاط حکمت عملی اختیار کرے اور کسی بھی بڑے فوجی اقدام سے پہلے سفارتی کوششوں کو موقع دیا جائے۔ مزید برآں، یورپی حکام نے عالمی توانائی اور معیشت پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے بھی تشویش ظاہر کی ہے۔

(۴) خطے میں فوجی تیاریوں میں اضافہ، مختلف ممالک ہنگامی منصوبہ بندی میں مصروف
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران مختلف ممالک نے اپنی فوجی تیاریوں میں اضافہ کر دیا ہے اور ہنگامی منصوبہ بندی شروع کر دی ہے۔ رپورٹس کے مطابق خلیجی ممالک، اسرائیل اور دیگر علاقائی طاقتوں نے اپنے دفاعی نظام کو مضبوط بنایا ہے اور حساس تنصیبات کی سیکوریٹی بڑھا دی ہے۔ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’خطے میں فوجی سرگرمیوں اور تیاریوں میں واضح اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔‘‘ ذرائع کے مطابق شہریوں کو بھی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ ہنگامی خدمات کو الرٹ پر رکھا گیا ہے۔ مزید برآں، بعض ممالک نے ممکنہ بحران سے نمٹنے کیلئے انخلاء کے منصوبے بھی تیار کیے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ہرمز پر کنٹرول سخت، عالمی توانائی سپلائی اور جہاز رانی دباؤ میں

(۵) ایران جنگ کے اثرات عالمی سطح پر، توانائی اور سلامتی نظام دباؤ میں
ایران کے ساتھ جاری جنگ کے اثرات عالمی سطح پر توانائی، سلامتی اور معاشی نظام پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق تیل اور گیس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری ہے جبکہ عالمی سپلائی چین متاثر ہو رہی ہے۔ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’جنگ کے اثرات عالمی معیشت اور توانائی کے نظام پر براہ راست دباؤ ڈال رہے ہیں۔‘‘ ذرائع کے مطابق مختلف ممالک نے متبادل توانائی ذرائع اور سپلائی چین کے استحکام کیلئے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ مزید برآں، عالمی مالیاتی ادارے بھی اس صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور ممکنہ معاشی اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK