Updated: April 07, 2026, 9:11 PM IST
| Tehran
ایرانی میڈیا کے مطابق امریکی اسرائیلی حملوں کے سبب تہران میں ایک یہودی عبادت گاہ (سیناگوگ) مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہے، جبکہ ان حملوں میںایک درجن سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ حملوں نے شہری علاقوں کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے، جس سے کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
ایران کے دارالحکومت تہران میں جاری امریکی اسرائیلی حملوں کے دوران یہودیوں کی ایک اہم عبادت گاہ (سیناگوگ) مکمل طور پر تباہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق، ’’رفیع نیا‘‘ نامی عبادت گاہ کو اُس وقت شدید نقصان پہنچا جب اس کے قریب ایک رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں پوری عمارت ملبے کا ڈھیر بن گئی۔ رپورٹس کے مطابق، حملہ رات کے وقت کیا گیا جس کے بعد ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔ سوشل میڈیا اور مقامی ذرائع سے سامنے آنے والے ویڈیوز میں سول ڈیفنس کے اہلکاروں کو ملبے کے درمیان تلاش اور بچاؤ کی کارروائیاں کرتے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ مذہبی کتابیں، جن میں عبرانی زبان کے متون بھی شامل ہیں، زمین پر بکھری ہوئی نظر آئیں۔
یہ بھی پڑھئے: ایرانی حکام کی شہریوں سے توانائی تنصیبات کے تحفظ کیلئے متحرک ہونے کی اپیل
ایرانی نیم سرکاری خبر ایجنسیوں کے مطابق، اس حملے نے نہ صرف عبادت گاہ کو تباہ کیا بلکہ اردگرد کے رہائشی علاقوں کو بھی شدید متاثر کیا۔ گلیوں کی تنگی کے باعث دھماکے کی شدت قریبی عمارتوں تک پھیل گئی، جس سے کئی مکانات کے اندرونی اور بیرونی حصے کو نقصان پہنچا۔ ایران کے سرکاری میڈیا پر جاری ایک بیان میں اسلامی مشاورتی اسمبلی میں یہودی برادری کے نمائندے ہمایوں سماح نے اس حملے کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی یہودیوں کے مذہبی موقع کے دوران کی گئی، جس میں ایک ’’قدیم اور مقدس عبادت گاہ‘‘ کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کے مطابق، تورات کے نسخے بھی ملبے تلے دب گئے ہیں۔
حملوں کا دائرہ صرف تہران تک محدود نہیں رہا۔ مقامی حکام کے مطابق، پردیس شہر میں ملبے تلے سے کم از کم چھ لاشیں نکالی گئی ہیں، جبکہ شہریار کے ایک رہائشی علاقے پر فضائی حملے میں مزید نو افراد ہلاک ہوئے۔ اس طرح مجموعی طور پر کم از کم ۱۵؍ افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات ہیں، جبکہ زخمیوں کی تعداد کے بارے میں واضح تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔یاد رہے کہ ایران میں یہودیت ایک تسلیم شدہ اقلیتی مذہب ہے اور ملک میں یہودیوں کی ایک چھوٹی مگر تاریخی برادری موجود ہے۔ ۱۹۷۹ء کے اسلامی انقلاب کے بعد بڑی تعداد میں یہودی ملک چھوڑ گئے تھے، تاہم اب بھی چند ہزار افراد ایران میں مقیم ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ایران: سیکڑوں امریکی فوجی زخمی، اسرائیلی اخراجات میں اضافہ، جنگی دباؤ بڑھ گیا
عبادت گاہ کو نشانہ بنائے جانے کی خبر نہ صرف انسانی ہمدردی کے حوالے سے تشویش کا باعث ہے بلکہ اس سے مذہبی حساسیت میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس واقعے نے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے، اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔