Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران جنگ: ٹرمپ: پوری تہذیب ختم ہو سکتی ہے، پیزشکیان: ہم قربانی کیلئے تیار ہیں

Updated: April 07, 2026, 10:13 PM IST | Washington

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ ایران جنگ کے متعلق جھنجھلاہٹ کا شکار ہوگئے ہیں۔ اس درمیان انہوں نے ایران کو سخت الٹی میٹم دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی مطالبات نہ مانے گئے تو بڑے پیمانے پر تباہی ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے عوامی مزاحمت کا اعلان کیا ہے۔

Donald Trump (right), Masoud Pezishkian (left). Photo: INN
ڈونالڈ ٹرمپ،(دائیں)، مسعود پیزشکیان (بائیں)۔ تصویر: آئی این این

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف اپنی تازہ ترین بیان بازی میں شدت پیدا کرتے ہوئے سخت وارننگ جاری کی ہے۔ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری پیغام میں انہوں نے کہا کہ اگر ایران نے امریکی مطالبات تسلیم نہ کیے تو ’’ایک پوری تہذیب آج رات ختم ہو سکتی ہے۔‘‘ ٹرمپ نے اپنے پوسٹ میں ایک طرف جہاں ممکنہ تباہی کی بات کی، وہیں آخری لمحے کے کسی سمجھوتے کا دروازہ بھی کھلا رکھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران میں ’’مکمل نظام کی تبدیلی‘‘ ہو چکی ہے اور اب نئے عناصر کے ساتھ کوئی ’’حیران کن پیش رفت‘‘ ممکن ہو سکتی ہے، تاہم اس کی کوئی وضاحت فراہم نہیں کی۔

یہ بھی پڑھئے: خطے میں حملوں میں اضافہ، لبنان، اسرائیل اور خلیج میں جانی نقصان

اس سے قبل بھی ٹرمپ یہ کہہ چکے ہیں کہ امریکہ ایران کے بنیادی ڈھانچے، بشمول پلوں اور پاور پلانٹس، کو مکمل طور پر تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی فوج ایران کو ’’پتھر کے زمانے‘‘ میں واپس دھکیل سکتی ہے اور ایسی کارروائی کے بعد ملک کو دوبارہ تعمیر ہونے میں دہائیاں لگ سکتی ہیں۔
ادھر ایران کی جانب سے بھی سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ صدر مسعود پیزشکیان نے اپنے بیان میں کہا کہ لاکھوں ایرانی ملک کے دفاع کے لیے تیار ہیں اور وہ خود بھی قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔ ان کے مطابق، عوام میں مزاحمت کا جذبہ مضبوط ہے اور بیرونی دباؤ کے باوجود ایران اپنی خودمختاری کا دفاع کرے گا۔ اسی تناظر میں ایران کے نائب وزیر کھیل علی رضا رحیمی نے ایک غیر معمولی اپیل کرتے ہوئے شہریوں، کھلاڑیوں اور فنکاروں سے کہا ہے کہ وہ پاور پلانٹس کے گرد ’’انسانی زنجیریں‘‘ بنائیں۔ اس اقدام کا مقصد ممکنہ فضائی حملوں کے خلاف علامتی اور عملی مزاحمت ظاہر کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایرانی حکام کی شہریوں سے توانائی تنصیبات کے تحفظ کیلئے متحرک ہونے کی اپیل

ٹرمپ کی جانب سے دی گئی ’’۸؍ بجے‘‘ کی ڈیڈ لائن، جس کے تحت ایران سے آبنائے ہرمز کھولنے کا مطالبہ کیا گیا ہے، نے صورتحال کو مزید نازک بنا دیا ہے۔ امریکی صدر نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے تعمیل نہ کی تو بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے جائیں گے، جن میں توانائی کے مراکز اور اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جائے گا۔ وہائٹ ہاؤس کی ایک حالیہ بریفنگ میں ٹرمپ نے کہا کہ ’’پورے ملک کو ایک رات میں ختم کیا جا سکتا ہے‘‘، جس سے عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ بیان بازی نہ صرف خطے میں جنگ کے خطرے کو بڑھا رہی ہے بلکہ عالمی معیشت، خاص طور پر تیل کی سپلائی اور سمندری راستوں پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو اس کے اثرات مشرق وسطیٰ سے باہر بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK