امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے وہائٹ ہاؤس میں نیٹو کے سکریٹری جنرل مارک روٹے کے ساتھ ایک نجی ملاقات کے بعد، ایران جنگ میں امریکہ کی حمایت نہ کرنے پر ایک بار پھر نیٹو کو تنقید کا نشانہ بنایا، بی بی سی نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔
EPAPER
Updated: April 09, 2026, 2:05 PM IST | Washington
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے وہائٹ ہاؤس میں نیٹو کے سکریٹری جنرل مارک روٹے کے ساتھ ایک نجی ملاقات کے بعد، ایران جنگ میں امریکہ کی حمایت نہ کرنے پر ایک بار پھر نیٹو کو تنقید کا نشانہ بنایا، بی بی سی نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے وہائٹ ہاؤس میں نیٹو کے سکریٹری جنرل مارک روٹے کے ساتھ ایک نجی ملاقات کے بعد، ایران جنگ میں امریکہ کی حمایت نہ کرنے پر ایک بار پھر نیٹو کو تنقید کا نشانہ بنایا، بی بی سی نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔ ملاقات کے بعد ٹروتھ سوشل پر شیئر کی گئی ایک پوسٹ میں امریکی صدر نے کہا کہ جب ہمیں نیٹو کی ضرورت تھی تب وہ موجود نہیں تھے اور اگر ہمیں ان کی پھر ضرورت پڑی تو وہ موجود نہیں ہوں گے۔
دریں اثنا، واضح اختلافات کے باوجود مسٹر روٹے نے سی این این کو ٹرمپ کے ساتھ اپنی ملاقات کو بہت واضح اور کھلا قراردیا۔ بدھ کی بات چیت سے پہلے، ٹرمپ نے نیٹو سے نکلنے پر غور کیا تھا کیونکہ کئی نیٹو ممالک نے تیل کی بڑھتی ہوئی عالمی قیمتوں کو کم کرنے کے لیے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے میں مدد کے لیے ان کی اپیل کی مخالفت کی تھی۔ تاہم وائٹ ہاؤس نے مذاکرات کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔
نیٹو کے سیکریٹری جنرل نے بدھ کو وہائٹ ہاؤس میں دو گھنٹے سے زیادہ وقت گزارا، حالانکہ ٹرمپ کے ساتھ ان کی ملاقات کا دورانیہ معلوم نہیں ہے۔ ملاقات کا مقصد ٹرمپ کو یہ باور کرانا تھا کہ نیٹو اتحاد میں باقی رہنا ان کے اور امریکہ دونوں کے مفاد میں ہے۔ تاہم، یہ واضح ہے کہ صدر ٹرمپ اب بھی اتحاد اور اس کے رکن ممالک کے بارے میں گہرے تحفظات کا شکار ہیں، ان کا خیال ہے کہ انہوں نے آپریشن ایپک فیوری سے پہلے اور اس کے دوران ان ممالک نے امریکہ کی خاطرخواہ مدد نہیں کی۔ حالیہ ہفتوں میں، ٹرمپ نے ۳۲؍ رکنی اتحاد سے دستبرداری کی مسلسل دھمکی دی۔
ایران کے ساتھ جاری تنازع میں نیٹو کے کردار کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری کیرولین لیویٹ نے صدر کے براہ راست اقتباس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نیٹو کا امتحان لیا گیا اور وہ ناکام رہا۔ انہوں نے کہا کہ نیٹو ممالک نے امریکی عوام سے منہ موڑ لیا ہے جو اپنے ممالک کے دفاع کے لیے فنڈز فراہم کرتے ہیں اور ٹرمپ نیٹو کے سربراہ کے ساتھ بہت صاف اور بے باک بات چیت کریں گے۔
یہ بھی پڑھئے:کمفرٹ اور شخصیت ہی میرے لئے فیشن ہے:سحر بمبا
دریں اثنا، نیٹو کے سکریٹری جنرل نے سی این این کو بتایا کہ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ زیادہ تر یورپی ممالک نے فوجی اڈے قائم کرنے، لاجسٹک سپورٹ اور فضائی پروازوں میں مدد فراہم کی ہے۔ تاہم، یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا یہ بات اور سکریٹری جنرل کے مسٹر ٹرمپ کے ساتھ خوشگوار تعلقات امریکی صدر کے لیے کافی ثابت ہوں گے یا نہیں۔