اقوام متحدہ کے مطابق قابض یہودیوں نے مغربی کنارے میں ۲۰۲۵ء میں ۲۴۰؍ فلسطینیوں کو قتل اورتقریباً۴۰۰۰؍ ہزار کو زخمی کیا، جبکہ فلسطینیوں پرحملوں کی تعداد ۱۸۰۰؍ کے قریب ہے۔
EPAPER
Updated: January 24, 2026, 10:08 PM IST | Tel Aviv
اقوام متحدہ کے مطابق قابض یہودیوں نے مغربی کنارے میں ۲۰۲۵ء میں ۲۴۰؍ فلسطینیوں کو قتل اورتقریباً۴۰۰۰؍ ہزار کو زخمی کیا، جبکہ فلسطینیوں پرحملوں کی تعداد ۱۸۰۰؍ کے قریب ہے۔
اقوام متحدہ کے دفتر (او سی ایچ اے) امور انسانی تعلقات نے کہا ہے کہ اسرائیلی افواج اور آباد کاروں نے ۲۰۲۵ء کے دوران مقبوضہ مغربی کنارے میں کم از کم۲۴۰؍ فلسطینیوں کو ہلاک اور قریباً ۴۰۰۰؍ دیگر کو زخمی کر دیا۔ایک بیان میں، او سی ایچ اے نے کہا کہ سال بھر میں آباد کاروں کے حملوں کی تعداد۱۸۰۰؍ سے تجاوز کر گئی جس سے گھروں، زمینوں اور روزگار کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا۔ دفتر نے مزید کہا کہ آباد کاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد نے بڑے پیمانے پربدو اور فلسطینی چرواہوں کے بے گھرہونے کا سبب بنا۔
یہ بھی پڑھئے: نیتن یاہو نے پوپ کے لبنان دورے پر تنقید کی، عالمی سطح پر سفارتی کشیدگی
او سی ایچ اے کے مطابق، صرف گزشتہ دو ہفتوں کے دوران پانچ بدو برادریوں کے۱۰۰؍ سے زیادہ فلسطینی خاندانوں کو اپنے گھروں سے فرار ہونے پر مجبور کیا گیا۔ دفتر نے کہا کہ آباد کاروں کے بار بار حملوں، دھمکیوں اور خوف و ہراس نے مقامی فلسطینیوں کے لیے اپنے گاؤںمیں رہنا ناممکن بنا دیا۔او سی ایچ اے نے وضاحت کی کہ آباد کاروں نے گھروں، چراگاہوں اور پانی کے ذرائع تک رسائی روک دی، جس کے نتیجے میں خاندانوں کے پاس بے گھر ہونے کے علاوہ کوئی محفوظ یا قابل عمل متبادل نہیں بچا۔ اقوام متحدہ کے دفتر کے مطابق مقبوضہ یروشلم میں اسرائیلی حکام نے تعمیراتی اجازت ناموں کی کمی کے بہانے۲۵۶؍ گھروں کو گرایا۔ ادارے نے کہا کہ یہ اقدامات اسکولوں، کام کی جگہوں، بازاروں اور صحت کی سہولیات تک رسائی کو محدود کررہے ہیں۔یو این ایف پی اے کے تخمینے کے مطابق، دو لاکھ ۳۰؍ ہزار زیادہ خواتین اور لڑکیاں اب تولیدی صحت کی خدمات تک رسائی حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں۔ اس میں تقریباً ۱۵۰۰۰؍ حاملہ خواتین شامل ہیں جو سنگین خطرات کا سامنا کر رہی ہیں کیونکہ نقل و حرکت مزید محدود ہوتی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل: مشرقی یروشلم میں نئے فلسطینی اساتذہ کی تقرری پر پابندی کا قانون منظور
دریں اثناء مقبوضہ فلسطینی علاقے پر اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانسسکا البانیزے نے کہا کہ اسرائیل خود اقوام متحدہ پر منظم حملہ کر رہا ہے۔ انہوں نے اسرائیل کی اقوام متحدہ کی رکنیت معطل کرنے اور بین الاقوامی پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کیا۔اس کے علاوہ مقبوضہ فلسطینی علاقے میں اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے دفتر کے سربراہ اجیت سنگھے نے کہا کہ اسرائیلی حکام اقوام متحدہ پر شدید دباؤ ڈال رہے ہیں، جو شہریوں کی حفاظت اور کام کرنے کی اس کی صلاحیت کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔
بعد ازاں اقوام متحدہ کی ایجنسیوں نے خبردار کیا ہے کہ فوری بین الاقوامی کارروائی کے بغیر ۲۰۲۶ء کے دورانمغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف تشدد، بے گھر اور انسانی مصائب میں اضافہ جاری رہے گا۔