امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی گرین لینڈ کے تعلق سے دھمکی آمیز بیان کے بعد گرین لینڈ اور ڈنمارک کی سڑکوں پر ہزاروں افراد نے احتجاج کیا، انہوں نے اپنے قومی پرچم لہرائے، اور ’’گرین لینڈ برائے فروخت نہیں ہے‘‘ کہ نعرے لگائے۔
EPAPER
Updated: January 18, 2026, 9:05 PM IST | Copenhagen
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی گرین لینڈ کے تعلق سے دھمکی آمیز بیان کے بعد گرین لینڈ اور ڈنمارک کی سڑکوں پر ہزاروں افراد نے احتجاج کیا، انہوں نے اپنے قومی پرچم لہرائے، اور ’’گرین لینڈ برائے فروخت نہیں ہے‘‘ کہ نعرے لگائے۔
صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی گرین لینڈ پر قبضے کی دھمکیوں کے خلاف ڈنمارک اور گرین لینڈ بھر میں ہزاروں افراد نے احتجاج کیا، جبکہ ٹرمپ نے گرین لینڈ کے اتحادیوں پر ٹیرف عائد کر کے کشیدگی میں اضافہ کر دیا ہے جس پر یورپی لیڈروںکی طرف سے سخت تنقید کی گئی ہے۔ہزاروں افراد نے سنیچر کو گرین لینڈ کے نوک اور ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن کی سڑکوں پر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی گرین لینڈ پر دھمکیوں کے خلاف احتجاج کیا۔واضح رہے کہ گزشتہ ہفتوں میں، ٹرمپ نے بارہا ڈنمارک کے خود مختار علاقے پر قبضے کے منصوبوں کا اظہار کیا ہے، یہاں تک کہ آرکٹک علاقے میں ممکنہ فوجی کارروائی کا بھی اشارہ دیا ہے۔
دریں اثناءمظاہرین ڈنمارک کے کئی شہروں میں جمع ہوئے جہاں انہوں نے اپنے قومی پرچم لہرائے اور ’’کلالیت نونات‘‘ جیسے نعرے لگائے، جو آرکٹک جزیرے کا گرین لینڈ زبان میں نام ہے۔گرین لینڈ کے وزیر اعظم جینز-فریڈرک نیلسن کو بھی احتجاج میں حصہ لیتے ہوئے دیکھا گیا، جہاں انہوں نے ہلکی بارش کے دوران مظاہرین کے ساتھ مل کر قومی پرچم لہرایا اور روایتی اِنُوئٹ گانے گائے۔کئی مظاہرین ایسی ٹوپیاں پہنے ہوئے تھے جن پر’’Make America Go Away‘‘ لکھا ہوا تھا ،جو ٹرمپ کے ’’Make America Great Again‘‘ نعرے کی ایک تضحیک ہے، جس کے ذریعے انہوں نے ٹرمپ کے اس علاقے کو اپنے ساتھ شامل کرنے کے منصوبے کو مسترد کیا۔
مظاہرین اپنے ملک کے حق خودارادیت کے احترام کا مطالبہ کر رہے تھے، اور کہا کہ ’’ہمیں کسی اتحادی سے دھمکایا نہیں جا سکتا۔‘‘کچھ مظاہرین نے USA already has too much ICE‘‘ کے بینرز بھی اٹھا رکھے تھے، جو ٹرمپ کی امریکی شہروں میں وفاقی امیگریشن اہلکاروں کی تعیناتی کا حوالہ تھا، جس نے شہریوں میں شدید غم و غصہ پیدا کیا ہے، خاص طور پر مینیسوٹا میں دو فائرنگ واقعات کے بعد۔ اس کے علاوہ کچھ مظاہرین ’’ گرین لینڈ برائے فروخت نہیں ہے،‘‘ کے نعرے بھی لگا رہے تھے۔
بعد ازاں سنیچر کو ٹرمپ انتظامیہ اور نیٹو اتحادیوں کے درمیان کشیدگی اس وقت بڑھ گئی جب امریکی صدر نے گرین لینڈ کے اتحادیوں بشمول ڈنمارک، ناروے، سویڈن، فرانس، جرمنی، برطانیہ، نیدرلینڈز اور فن لینڈ پر۱۰؍ فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا۔ ٹرمپ نے یہ بھی انتباہ کیا کہ یکم فروری سے عائد ہونے والی یہ ٹیرف یکم جون کو بڑھ کر۲۵؍ فیصد ہو جائے گی۔ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل پر لکھا، ’’یہ ٹیرف اسی وقت تک واجب الادا رہے گی جب تک گرین لینڈ کی مکمل اور کلی خریداری کا معاہدہ نہیں ہو جاتا۔ یہ ممالک، جو یہ انتہائی خطرناک کھیل کھیل رہے ہیں، نے اتنا خطرہ مول لیا ہے جو نہ قابل برداشت ہے اور نہ پائیدار۔ اس لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ عالمی امن و سلامتی کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ یہ ممکنہ طور پر خطرناک صورت حال بغیر کسی شک کے جلدی ختم ہو جائے۔‘‘
جبکہ ڈنمارک نے اس اقدام کو ’’حیران کن‘‘ قرار دیا، برطانوی وزیر اعظم کئیر اسٹارمر نے کہا کہ گرین لینڈ پر ٹرمپ کی ٹیرفز کا اطلاق مکمل طور پر غلط ہے۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے کہا کہ’’ ٹیرف کی دھمکیاں ناقابل قبول ہیں اور ان کا اس تناظر میں کوئی مقام نہیں،‘‘ جبکہ سویڈن کے وزیر اعظم الف کرسٹرسن نے اے ایف پی کو بتایا کہ’’ ہم خوفزدہ نہیں ہوں گے۔‘‘ یورپی یونین کے لیڈروںنے ایک بیان میں کہا کہ ’’یونین ڈنمارک اور گرین لینڈ کے عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے۔‘‘