امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت (اے آئی ) کے تیزی سے بڑھتے ہوئے استعمال، ٹیکنالوجی کی ترقی اور اس کے حکومتی نظام میں کردار پر تبادلۂ خیال کے لیے ٹیکنالوجی اور اے آئی کمپنیوں کے اعلیٰ عہدیداروں کی میزبانی کی۔
EPAPER
Updated: September 30, 2026, 1:55 PM IST | New York
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت (اے آئی ) کے تیزی سے بڑھتے ہوئے استعمال، ٹیکنالوجی کی ترقی اور اس کے حکومتی نظام میں کردار پر تبادلۂ خیال کے لیے ٹیکنالوجی اور اے آئی کمپنیوں کے اعلیٰ عہدیداروں کی میزبانی کی۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت (اے آئی ) کے تیزی سے بڑھتے ہوئے استعمال، ٹیکنالوجی کی ترقی اور اس کے حکومتی نظام میں کردار پر تبادلۂ خیال کے لیے ٹیکنالوجی اور اے آئی کمپنیوں کے اعلیٰ عہدیداروں کی میزبانی کی۔ اسی سلسلے میں ٹرمپ انتظامیہ نے America.gov نامی ایک نئے اے آئی سے چلنے والے سرکاری پلیٹ فارم کی بھی رونمائی کی، جس کا مقصد شہریوں کو مختلف وفاقی اداروں کی معلومات اور خدمات تک زیادہ آسان رسائی فراہم کرنا ہے۔
وہائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات میں ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کی دنیا کی متعدد بڑی شخصیات شریک ہوئیں یا انہیں مدعو کیا گیا۔ ان میں میٹا کے سربراہ مارک زکربرگ،اینتھروپک کے سربراہ ڈاریو امودی، این ویڈیا کے سربراہ جینسن ہوانگ، اوپن اے آئی کے نمائندے اور دیگر اہم ٹیکنالوجی رہنما شامل تھے۔ امریکی ایوانِ نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔
ملاقات کا ایک اہم موضوع یہ تھا کہ مصنوعی ذہانت میں تیز رفتار جدت کو جاری رکھتے ہوئے اس کے استعمال سے پیدا ہونے والے خطرات اور نگرانی کے درمیان کس طرح توازن قائم کیا جائے۔ امریکی حکام اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے درمیان اے آئی کی ترقی، سلامتی اور ضابطہ کاری کے حوالے سے بحث ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب جدید اے آئی نظام کی صلاحیتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کا نیا America.gov ایک اے آئی پر مبنی وفاقی سرکاری دروازہ ہے، جسے شہریوں کے لیے مختلف سرکاری معلومات اور خدمات تک رسائی آسان بنانے کے مقصد سے تیار کیا گیا ہے۔ اس وقت وفاقی حکومت کی بہت سی خدمات اور معلومات مختلف سرکاری اداروں کی الگ الگ ویب سائٹس پر موجود ہیں، جبکہ نئے پلیٹ فارم کا مقصد انہیں ایک جگہ سے تلاش کرنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔رپورٹس کے مطابق پلیٹ فارم میں اے آئی ٹیکنالوجی کا استعمال اس لیے کیا گیا ہے تاکہ صارف اپنی ضرورت کے مطابق سرکاری معلومات یا متعلقہ خدمت تلاش کر سکے، بجائے اس کے کہ اسے مختلف وفاقی اداروں کی ویب سائٹس پر الگ الگ تلاش کرنا پڑے۔ اس طرح امریکہ میں وفاقی خدمات تک رسائی کے طریقۂ کار کو زیادہ مربوط بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔
America.gov کی رونمائی سے متعلق پروگرام صرف مصنوعی ذہانت تک محدود نہیں رکھا گیا۔ بلومبرگ کے مطابق تقریب میں اے آئی کے علاوہ توانائی، صحت، خلائی پروگرام اور زراعت جیسے شعبوں پر بھی پینل مباحثے شامل تھے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ سرکاری اور قومی ترجیحات کے مختلف شعبوں میں نئی ٹیکنالوجی کے استعمال کو نمایاں کرنا چاہتی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے اس پورے پروگرام کو امریکی ٹیکنالوجی اور اختراع کے ایک نئے دور کے طور پر پیش کیا ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق تقریب کے دعوت نامے میں اسے امریکہ کے ’’Golden Age‘‘ یعنی سنہری دور کی تعمیر سے وابستہ کیا گیا تھا، جس میں ٹیکنالوجی، اختراع اور کاروباری قیادت کو نمایاں کیا گیا۔ ٹرمپ کی ٹیکنالوجی لیڈروں کے ساتھ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکہ میں یہ بحث تیز ہو رہی ہے کہ طاقتور اے آئی نظام کے لیے حکومت کو کتنی نگرانی اور ضابطہ کاری کرنی چاہیے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے اے آئی کی ترقی میں ضرورت سے زیادہ ضابطہ کاری کے خدشات کا اظہار کیا ہے، جبکہ اے آئی صنعت کی بعض اہم شخصیات نے جدید اے آئی کے ممکنہ حفاظتی خطرات پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:اداکارہ رکول پریت سنگھ سے منسلک ۱۲؍ مقامات پر انکم ٹیکس محکمے کی تلاشی
روئٹرس کے مطابق ٹرمپ اور مائیک جانسن کی جانب سے اس معاملے میں بنیادی توجہ جدت اور نگرانی کے درمیان توازن پر ہے۔ جانسن نے بھی اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ بہت زیادہ سخت ضابطے امریکی ٹیکنالوجی کی عالمی مسابقتی پوزیشن کو متاثر کر سکتے ہیں، خصوصاً چین کے ساتھ مقابلے کے تناظر میں۔ ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب اے آئی کی سلامتی سے متعلق خدشات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں بعض اے آئی کمپنیوں نے طاقتور ماڈلز کی ترقی اور ان کی نگرانی سے متعلق احتیاط کی ضرورت پر آواز اٹھائی ہے۔ اس پس منظر میں ٹرمپ کی ٹیکنالوجی لیڈروں کے ساتھ ملاقات کو امریکی حکومت اور اے آئی صنعت کے درمیان مستقبل کے تعلقات کے لیے اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
America.gov کی لانچنگ کے ذریعے امریکی حکومت نے سرکاری خدمات کو مصنوعی ذہانت کے ساتھ جوڑنے کی سمت ایک نمایاں قدم اٹھایا ہے، جبکہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہوں کے ساتھ مذاکرات اس بات پر مرکوز ہیں کہ اے آئی کی تیز رفتار ترقی، امریکی ٹیکنالوجی کی مسابقت اور عوامی سلامتی کے تقاضوں کو ایک ساتھ کس طرح آگے بڑھایا جائے۔