آج کا انسان تعلیم کے بغیر ادھورا ہے۔ زندگی کے ہر قدم پر تعلیم و تربیت کے بغیر کامیابی ناممکن ہے۔ لیکن موجودہ دور میں تعلیم صرف نمبروں کی دوڑ تک محدود ہوگئی ہے۔
EPAPER
Updated: September 30, 2026, 2:36 PM IST | Qamar-e-Nisa Shahid Syed | Mumbai
آج کا انسان تعلیم کے بغیر ادھورا ہے۔ زندگی کے ہر قدم پر تعلیم و تربیت کے بغیر کامیابی ناممکن ہے۔ لیکن موجودہ دور میں تعلیم صرف نمبروں کی دوڑ تک محدود ہوگئی ہے۔
آج کا انسان تعلیم کے بغیر ادھورا ہے۔ زندگی کے ہر قدم پر تعلیم و تربیت کے بغیر کامیابی ناممکن ہے۔ لیکن موجودہ دور میں تعلیم صرف نمبروں کی دوڑ تک محدود ہوگئی ہے۔ ایک تعلیم یافتہ اور کامیاب انسان کی تعریف ہمارے سماج میں کیا ہے؟ جواب ہوگا کہ اعلیٰ نمبروں والی ڈگریاں حاصل کرنے والا کامیاب ہے۔ اچھی تنخواہ والی نوکری کرنے والا کامیاب ہے اور آسودہ زندگی گزارنے والا کامیاب ہے۔ کیا واقعی ایسا ہے؟ نہیں۔ اگر ڈگری ہونے کے باوجود اس کا اخلاق اچھا نہ ہو تو وہ کامیاب نہیں کہلا سکتا۔ ایک اچھا انسان وہ ہے جس کا اخلاق اچھا ہو۔
یہ بھی پڑھئے:ہمارے بزرگ: گھر اور معاشرے کا بہترین سرمایہ
افسوس کا مقام ہے کہ موجودہ دور میں تعلیم پر تو توجہ دی جاتی ہے لیکن اخلاقی تربیت کو فراموش کر دیا جاتا ہے جبکہ اخلاقی تربیت زیادہ اہم ہے۔ بچے جب پروان چڑھتے ہیں تو ان میں تمیز و تہذیب کو پروان چڑھانا چاہئے۔ بچوں کو کم عمری ہی سے اچھائی اور برائی میں فرق کرنا سکھانا چاہئے۔ جھوٹ نہیں بولو، کسی کو دھوکہ نہیں دو، کسی کا مذاق نہیں اڑاؤ، جیسی باتوں کی تلقین کریں۔ روزانہ بچوں سے پوچھیں، ’’آج کون سا اچھا کام کیا؟‘‘ مثال کے ذریعہ کہیں کہ آج کس کی مدد کی؟ کیا آج دوست کے ساتھ ٹفن شیئر کیا؟ آج تمہاری باتوں سے کسی کو تکلیف تو نہیں پہنچی؟ اس کے بعد بچوں کے جوابات غور سے سنیں۔ اگر بچہ کہتا ہے کہ انجانے میں اس کی کسی حرکت سے اس کے ساتھی کو تکلیف پہنچی ہے تو اسے سمجھائیں کہ بیٹا! اسے سوری کہنا چاہئے۔ ساتھ ہی تلقین کریں کہ کسی کو تکلیف پہنچانا اچھی بات نہیں ہے۔ اس طرح بچے کو اپنی غلطی کا احساس ہوگا اور وہ آئندہ ایسا نہ کرنے کی کوشش بھی کریں گے۔ موجودہ دور میں انسان خود غرض ہوتا جا رہا ہے۔ اس صورت میں ضروری ہوگیا ہے کہ مائیں بچوں کی اخلاقی تربیت پر خاص توجہ دیں۔ بچوں کو نیک انسان بننا سکھائیں۔ ان کی کردار سازی پر توجہ دیں۔ ہمیشہ سچ بولنا سکھائیں۔ دوسروں کی مدد کرنے کا جذبہ پیدا کریں۔ بڑوں کا ادب کرنا سکھائیں۔ چھوٹوں کے ساتھ محبت سے پیش آنے کی تلقین کریں۔ (مضمون نگار بی ایم سی اسکول، مالونی، ملاڈ کی معلمہ ہیں)