Updated: August 11, 2026, 11:01 AM IST
| Washington
ایران سے ممکنہ سکیورٹی خطرے کے باعث امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکی سے برطانیہ روانگی کے دوران خفیہ طور پر امریکی فضائیہ کے C-32A طیارے میں سفر کیا، جبکہ میڈیا اور وائٹ ہاؤس کے بعض اہلکار یہی سمجھتے رہے کہ صدر پرانے ایئر فورس ون میں سوار ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کو ایئرپورٹ کے ایک کیٹرنگ ٹرک کی آڑ میں دوسرے طیارے میں منتقل کیا گیا، جبکہ پرانے ایئر فورس ون کو بطور ڈیکوائے استعمال کیا گیا۔
ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: آئی این این
ایران کی جانب سے ممکنہ سکیورٹی خطرے کے پیش نظر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے گزشتہ ماہ ترکی سے برطانیہ روانگی کے دوران خفیہ طور پر امریکی فضائیہ کے C-32A طیارے میں سفر کیا، جبکہ وائٹ ہاؤس اور میڈیا کو یہ تاثر دیا گیا کہ صدر پرانے ایئر فورس ون میں سوار ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ٹرمپ نیٹو سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے قطر کی جانب سے امریکہ کو عطیہ کیے گئے نئے اور جدید بوئنگ-۷۴۷؍ طیارے کے ذریعے انقرہ پہنچے تھے۔ یہ اس طیارے کا پہلا بین الاقوامی سفر تھا۔ تاہم ترکی سے روانگی کے وقت ٹرمپ نے غیر متوقع طور پر پرانے ایئر فورس ون کا استعمال کیا، جس کے بعد نئے طیارے کی سکیورٹی کے حوالے سے سوالات اٹھنے لگے۔
رپورٹ کے مطابق یہ سفر ایسے وقت میں ہوا جب ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا تھا۔ ایران ترکی کا ہمسایہ ملک ہے اور خطے میں جاری کشیدگی کے باعث امریکی صدر کی سکیورٹی کو خاص اہمیت حاصل تھی۔ واشنگٹن پوسٹ نے ایک امریکی عہدیدار اور صدر کے سفری معاملات سے واقف ایک دوسرے شخص کے حوالے سے بتایا کہ انقرہ ایئرپورٹ پر ٹرمپ کو کیمروں کے سامنے پرانے ایئر فورس ون میں سوار ہوتے ہوئے دکھایا گیا۔ اس کے بعد انہیں ایئرپورٹ کے ایک کیٹرنگ ٹرک کی آڑ میں خاموشی سے ایک چھوٹے فوجی طیارے، امریکی فضائیہ کے C-32A، میں منتقل کر دیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کو لے جانے والا C-32A طیارہ تقریباً رات ۱۰؍ بج کر ۲۰؍ منٹ پر برطانیہ پہنچا، جبکہ پرانا ایئر فورس ون اور اس میں موجود صحافی چند منٹ بعد وہاں پہنچے۔ اس طرح پرانے ایئر فورس ون کو مبینہ طور پر صدر کی اصل سفری منزل اور طیارے کو چھپانے کے لیے بطور ڈیکوائے استعمال کیا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایئر فورس ون میں موجود بعض صحافیوں اور وائٹ ہاؤس کے اہلکاروں کو بھی اس خفیہ منتقلی کا علم نہیں تھا۔ انہیں یہی یقین تھا کہ صدر اسی طیارے میں ان کے ساتھ سفر کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: مغربی کولمبیا میں تباہ کن زلزلہ، ہلاکتیں ۱۳۲؍ تک پہنچ گئیں، ۵۷۰؍ سے زائد زخمی
ٹرمپ نے روانگی سے قبل اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر کہا تھا کہ وہ انقرہ سے برطانیہ کے رائل ایئر فورس اسٹیشن مِلڈن ہال جانے کے لیے پرانے ہلکے نیلے رنگ کے ایئر فورس ون کا استعمال ’’پرانے وقتوں کی خاطر‘‘ کریں گے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا تھا کہ نیا طیارہ اسی اڈے پر جائے گا تاکہ وہاں تعینات امریکی فوجی اہلکار اس کا دورہ کر سکیں۔
خفیہ پرواز کے انکشاف پر وائٹ ہاؤس سے موقف طلب کیا گیا تو کمیونیکیشنز ڈائریکٹر اسٹیو چیونگ نے کہا کہ قطر کی جانب سے عطیہ کیے گئے طیارے میں صدر اور ان کے عملے کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے اعلیٰ سطح کے سکیورٹی پروٹوکول نصب کیے گئے ہیں۔ اسٹیو چیونگ نے کہا، ’’جیسا کہ صدر نے حال ہی میں کہا ہے، امریکہ کے بہت سے دشمن ایسے ہیں جن کی نظریں ان پر ہیں اور ہم ان خطرات سے نمٹنے کے لیے اپنے پاس موجود ہر ممکن ذریعے کو استعمال کرتے ہیں۔‘‘
وائٹ ہاؤس نے واشنگٹن پوسٹ کو بھی یہی بیان فراہم کیا، تاہم پینٹاگون نے خفیہ فوجی پرواز کے حوالے سے تبصرے کے لیے کی گئی درخواست کا فوری طور پر جواب نہیں دیا۔