Updated: August 11, 2026, 10:22 AM IST
| Bogota
مغربی کولمبیا میں پیر کو ۴ء۷؍ شدت کے شدید زلزلے نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی، جس کے نتیجے میں اب تک ۱۳۲؍ افراد جاں بحق اور ۵۷۰؍ سے زائد زخمی ہو گئے، جبکہ ایک ہزار ۵۷۵؍ مکانات مکمل طور پر تباہ اور چھ ہوائی اڈوں کا بنیادی ڈھانچہ متاثر ہوا۔ حکومت نے زلزلے کے اثرات سے نمٹنے کے لیے قومی ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے، جبکہ متاثرہ علاقوں میں تلاش اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
کولمبیا کی حکومت کی تازہ ترین اطلاع کے مطابق، مغربی کولمبیا میں پیر کے روز آنے والے ۴ء۷؍ شدت کے زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر ۱۳۲؍ ہو گئی ہے، جبکہ ۵۷۰؍ سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ شدید زلزلے کے نتیجے میں تقریباً ایک ہزار ۵۷۵؍ مکانات مکمل طور پر تباہ ہو گئے، جبکہ چھ ہوائی اڈوں کے بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا ہے، جہاں تجارتی پروازوں کی آمدورفت معطل کر دی گئی ہے۔ خبر رساں اداروں نے یہ بات بوگوٹا میں کولمبیا کے صدر ابیلاردو دے لا ایسپرییا کے حوالے سے بتائی۔ اس سانحے کے بعد کولمبیا کی حکومت نے زلزلے کے اثرات سے نمٹنے کے لیے ملک بھر میں قومی ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا، جبکہ متاثرہ علاقوں میں تلاش اور امدادی کارروائیاں جاری رہیں۔ کولمبیا کی جیولوجیکل سروس کے مطابق زلزلہ مقامی وقت کے مطابق صبح ۷؍ بج کر ۳۴؍ منٹ پر مغربی کولمبیا میں آیا۔ اس کا مرکز صوبہ چوکو کے علاقے سان خوسے ڈیل پالمر کے قریب تھا، جبکہ زلزلے کی گہرائی ۹۶؍ کلومیٹر ریکارڈ کی گئی۔ حکومت نے کہا ہے کہ وہ متاثرہ صوبوں کے دارالحکومتوں کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے اور مقامی میئرز اور ان کی ٹیموں سے مسلسل رابطہ کر کے صورتحال کی نگرانی، نقصانات کا جائزہ اور فوری امداد کی ضروریات کی نشاندہی کر رہی ہے۔
فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے کہا کہ کولمبیا فرانس کی دوستی اور حمایت پر بھروسہ کر سکتا ہے۔ میکرون نے ایکس پر لکھا، ’’کولمبیا میں آنے والے اس ہولناک زلزلے کے پیش نظر، میں فرانس کے عوام کی جانب سے کولمبیا کے عوام کے لیے اپنی دلی ہمدردی کا اظہار کرتا ہوں۔ میری ہمدردیاں ان افراد، ان کے خاندانوں، زخمیوں اور ان تمام لوگوں کے ساتھ ہیں جو اس سانحے سے متاثر ہوئے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’ہماری یکجہتی ان امدادی کارکنوں اور ان تمام افراد کے ساتھ بھی ہے جو متاثرہ آبادی کی مدد کے لیے بہادری سے کام کر رہے ہیں۔ اس مشکل گھڑی میں کولمبیا فرانس کی دوستی اور حمایت پر بھروسہ کر سکتا ہے۔‘‘
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے بھی کولمبیا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے دنیا بھر کے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اس سانحے سے متاثرہ افراد کی مدد کریں۔ انہوں نے کہا، ’’مغربی کولمبیا میں آنے والے زلزلے کی یہ انتہائی افسوسناک خبر ہے، جس سے پڑوسی ملک ایکواڈور بھی متاثر ہوا ہے۔ کچھ لوگ ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ ہم جان سے جانے والے افراد کے اہل خانہ اور تمام متاثرین سے تعزیت کرتے ہیں۔ کسی بھی انسانی جان کا ضیاع ایک المیہ ہے۔‘‘ زیلنسکی نے مزید کہا، ’’ہم کولمبیا کے عوام اور اس سانحے سے متاثر ہونے والے تمام افراد کے ساتھ مکمل حمایت اور یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ ہم دنیا بھر میں ان تمام لوگوں سے اپیل کرتے ہیں جو اس وقت متاثرہ افراد اور ممالک کی مدد کر سکتے ہیں کہ وہ آگے بڑھیں اور مدد کریں۔‘‘
اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے بھی کولمبیا کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ زلزلے سے متعلق تازہ ترین صورتحال پر تشویش کے ساتھ نظر رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایکس پر کہا، ’’ان مشکل گھڑیوں میں اٹلی کولمبیا کے عوام، متاثرہ خاندانوں اور امدادی و بچاؤ کی کارروائیوں میں مصروف تمام افراد کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔‘‘
ایکواڈور کے صدر ڈینیئل نوبوا ازین نے بھی کولمبیا اور زلزلے سے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا، ’’کولمبیا، ایکواڈور آپ کے ساتھ کھڑا ہے۔ ہم اپنی USAR ٹیم آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہیں، جس میں ۴۷؍ امدادی کارکن، خصوصی تربیت یافتہ کتے اور ایسا سامان شامل ہے جو سات دن تک خود مختاری کے ساتھ کام کر سکتا ہے۔ جب بھی آپ کو ضرورت ہو، ہم انہیں روانہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘‘
دریں اثنا، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کولمبیا میں آنے والے زلزلے کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور کولمبیا کے عوام اور صدر ابیلاردو دے لا ایسپرییا کی حکومت کی مدد کے لیے تیار ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ ہنگامی پناہ گاہوں، خوراک، تحفظ اور زلزلے سے متعلق نقصانات کے جائزے کے لیے ۵ء۱۵؍ ملین ڈالر کی امدادی رقم فراہم کر رہی ہے۔ محکمہ خارجہ نے کہا، ’’ہم کولمبیا کے عوام کے ساتھ دعا میں شریک ہیں اور صدر اور ان کی حکومت کی جانب سے زمینی صورتحال اور ضروریات کا جائزہ لینے کے دوران مدد کے لیے تیار ہیں۔‘‘