Updated: January 28, 2026, 7:02 PM IST
| Washington
امریکی صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر المالکی وزیر اعظم کے طور پر واپس آئے تو امریکہ عراق کی مزید مدد نہیں کرے گا، انہوں نے الزام لگایا کہ المالکی کے دور میں عراق غربت اور افراتفری کا شکار ہوا ہے، جبکہ المالکی نے ٹرمپ کی دھمکی اور دعوے کو مسترد کردیا، اور اسے عراق کے معاملات میں دخل اندازی قرار دیا۔
عراق کے سابق وزیراعظم نوری المالکی۔ تصویر: آئی این این
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے منگل کو خبردار کیا کہ اگر سابق وزیراعظم نوری المالکی دوبارہ برسراقتدار آئے تو عراق کو اس کے نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا: ’’میں نے سنا ہے کہ عراق کا عظیم ملک نوری المالکی کو وزیراعظم کے طور پر بحال کرکے بہت برا انتخاب کر سکتا ہے۔‘‘ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ المالکی کے دورِ حکومت میں عراق غربت اور مکمل افراتفری کا شکار ہوا۔انہوں نے مزید کہا، ’’ایسا دوبارہ ہونے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔ ان کی پالیسیوں اور نظریات کی وجہ سے، اگر انہیں منتخب کیا گیا تو ریاستہائے متحدہ امریکہ اب عراق کی مدد نہیں کرے گا، اور اگر ہم وہاں مدد کے لیے موجود نہیں ہیں تو عراق کے پاس کامیابی، خوشحالی یا آزادی کا صفر موقع ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: امریکہ جنوبی کوریا کے ساتھ ٹیرف تنازع پر’کچھ حل‘ نکالے گا: ڈونالڈ ٹرمپ
واضح رہے کہ عراقی پارلیمنٹ نئے صدر کا انتخاب کرنے والی ہے۔ صدر اس کے بعد سب سے بڑے بلاک سے نامزد وزیراعظم کو۱۵؍ دنوں کے اندر حکومت بنانے کا کام سونپیں گے۔اگرچہ المالکی کی نامزدگی کو کچھ شیعہ اور کرد شخصیات کی حمایت حاصل ہوئی ہے جو تیز تر حکومتی تشکیل چاہتے ہیں، اس نے سنی گروپوں میں فرقہ وارانہ تناؤ اور ممکنہ پالیسیوں کے الٹ جانے کے حوالے سے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔بعد ازاں واشنگٹن کے اس اقدام کو المالکی نے مسترد کردیا اور اسے عراق کے داخلی معاملات میں دخل اندازی قرار دیا، ساتھ ہی ایکس پر ایک پوسٹ میں انہوں نے لکھا کہ ’’ میں اس وقت تک کام جاری رکھوں گا جب تک ہم انجام تک نہیں پہنچ جاتے، اس طریقے سے جو عراقی عوام کے اعلیٰ ترین مفادات کو پورا کرے۔‘‘