• Thu, 24 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

وہائٹ ہاؤس: پریس پر پابندی، جج نے ٹرمپ انتظامیہ کے طریقۂ کار پر سوال اٹھایا

Updated: September 24, 2026, 5:02 PM IST | Washington

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے سی این این، ایم ایس ناؤ اور ’پولیٹیکو‘ کے صحافیوں کے پریس پاس منسوخ کیے جانے کے معاملے میں وفاقی جج نے کہا ہے کہ انتظامیہ نے بظاہر صحافیوں کو مناسب قانونی کارروائی کا موقع فراہم نہیں کیا۔

Donald Trump. Photo: INN.
ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: آئی این این

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے تین بڑے نیوز اداروں کے صحافیوں کی وہائٹ ہاؤس تک رسائی بحال کرنے سے متعلق مقدمے کی سماعت کرنے والے وفاقی جج نے کہا ہے کہ بظاہر انتظامیہ نے اس قانونی نظیر کی خلاف ورزی کی ہے، جس کے تحت صحافیوں کے پریس پاس منسوخ کرنے سے قبل انہیں مناسب قانونی کارروائی کا موقع دینا ضروری ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے وہائٹ ہاؤس نے سی این این، ایم ایس ناؤ اور ’پولیٹیکو‘ کے صحافیوں کے پریس پاس منسوخ کردئیے تھے۔ یہ اقدام صدر ٹرمپ کی جانب سے ان اداروں کو فوری طور پر ’’بین‘‘ کرنے کے اعلان کے بعد کیا گیا۔ ٹرمپ نے ان کی رپورٹنگ کو ’’جعلی‘‘ قرار دیا تھا۔ تاہم، صحافیوں کو یہ بتانے والے خطوط کہ وہ اپنے پریس پاس واپس کیسے حاصل کرسکتے ہیں، گزشتہ روز ہی بھیجے گئے۔ امریکی ڈسٹرکٹ جج ٹموتھی کیلی، جنہیں ٹرمپ نے اپنی پہلی مدتِ صدارت کے دوران مقرر کیا تھا، اس سے قبل ۲۰۱۸ء میں وہائٹ ہاؤس کو سی این این کے اس وقت کے رپورٹر جم اکوسٹا کا پریس پاس بحال کرنے کا حکم دے چکے ہیں۔ اس مقدمے کا فیصلہ کرتے ہوئے جج کیلی نے گزشتہ عدالتی فیصلوں پر انحصار کیا تھا، جن میں کہا گیا تھا کہ صحافیوں کے پریس پاس منسوخ کرنے سے قبل انہیں ’’پہلے سے اطلاع اور اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع‘‘ دیا جانا چاہیے۔ بدھ کو واشنگٹن ڈی سی میں سماعت کے دوران جج نے کہا کہ موجودہ معاملے میں ایسا نہیں کیا گیا۔ جج کیلی نے دلائل پیش کرنے سے قبل کہا، ’’میرے خیال میں یہ کہنا درست ہوگا کہ ان مقدمات میں عدالت کی جانب سے طے کیا گیا طریقۂ کار یہاں اختیار نہیں کیا گیا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ وہ ’’جتنی جلد ممکن ہو سکے‘‘ فیصلہ سنائیں گے، تاہم ۴۵؍ منٹ کی سماعت کے اختتام پر فوری فیصلہ نہیں دیا۔

یہ بھی پڑھئے: ہند-یو اے ای-فرانس نے سہ فریقی تعاون کا جائزہ لیا، اہم امور پرگفتگو

ٹرمپ اور محکمہ انصاف نے ان نیوز اداروں پر قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کا الزام عائد کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مذکورہ اداروں نے حساس اور خفیہ معلومات شائع کیں، جنہیں صدر ٹرمپ نے ’’جعلی خبریں‘‘ اور ’’منفی، غلط اور کئی معاملات میں ملک کے لیے خطرناک‘‘ قرار دیا ہے۔ ٹرمپ نے ۱۸؍ ستمبر کو ٹروتھ سوشل پر لکھا، ’’جب میڈیا ادارے امریکی صدر، ٹرمپ انتظامیہ یا امریکہ کی کوریج کر رہے ہوں تو انہیں مسلسل افسانے اور جھوٹ شائع یا رپورٹ کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’جعلی خبریں‘‘ پھیلانے والے دیگر میڈیا اداروں کی باری بھی آئے گی۔ ان نیوز اداروں کی نمائندگی کرنے والے وکلا کی جانب سے دائر وفاقی مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ان کے پہلی ترمیم کے تحت حاصل حقوق اور پانچویں ترمیم کے تحت مناسب قانونی کارروائی کے تقاضوں کی ’’کھلے عام‘‘ خلاف ورزی کی ہے۔ مقدمے میں کہا گیا ہے کہ اداروں کے خلاف صرف ان کے اداریاتی مؤقف کی بنیاد پر امتیازی کارروائی کی گئی۔

دیگر نیوز اداروں نے بھی پابندی کا سامنا کرنے والے نیٹ ورکس سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وہائٹ ہاؤس کی کوریج کے لیے مشترکہ ’پول‘ سسٹم کو مؤثر طور پر معطل کردیا۔ اے بی سی، سی بی ایس، سی این این، این بی سی اور فاکس نیوز جیسے بڑے نیٹ ورکس، جو صدر کی سرگرمیوں کی کوریج کرتے ہیں اور دنیا بھر کے اداروں کو تصاویر و ویڈیو فراہم کرتے ہیں، نے کوریج معطل کردی۔ دیگر اداروں نے بھی پول فوٹوگراف کی اشاعت عارضی طور پر روکنے کا اعلان کیا۔ بدھ کی شام سی بی ایس، فاکس اور این بی سی کے عملے نے جوائنٹ بیس اینڈریوز ایئربیس پر چینی صدر شی جن پنگ کی آمد کی کوریج کے لیے دیگر رپورٹرز کے ساتھ انتظار کیا، تاہم وہائٹ ہاؤس پریس پول کے مطابق جج کیلی کے فیصلے کے انتظار میں ان کے کیمرے بند رہے۔

یہ بھی پڑھئے: روس-یوکرین امن معاہدے کی شرائط پر بات چیت جاری: ٹرمپ

نیوز اداروں کے وکیل تھیوڈور باؤٹروس جونیئر نے جج کیلی سے کہا کہ اس معاملے میں ’’مناسب قانونی کارروائی کا معمولی سا نشان بھی موجود نہیں‘‘۔ انہوں نے کہا کہ اگر جج صرف ٹرمپ انتظامیہ کو صحافیوں کو اپنے خلاف کارروائی پر نظرثانی یا جواب دینے کا موقع دینے کا حکم دیتے ہیں تو ’’یہ چالیں جاری رہیں گی‘‘۔ باؤٹروس نے کہا، ’’آپ دیکھ سکتے ہیں کہ معاملہ کس طرف جا رہا ہے‘‘ اور یہ کہ عدالت کو مطمئن کرنے کے لیے ’’نام نہاد قانونی کارروائی کے سلسلے‘‘ شروع کیے جاسکتے ہیں، جبکہ اداروں کے پہلی ترمیم کے حقوق کی خلاف ورزی جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا، ’’میرے خیال میں ہم سب جانتے ہیں... ہم میں سے کوئی بھی اتنا سادہ لوح نہیں ہے۔ یہ مناسب قانونی کارروائی نہیں ہے۔‘‘ پیر کو ٹرمپ نے اس تاثر کی تردید کی کہ وہ ’’آزاد صحافت پر حملہ‘‘ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ دراصل ’’جعلی خبروں‘‘ کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں، جو ان کے بقول امریکہ میں ’’کینسر کی طرح پھیل چکی ہیں‘‘۔ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ یہ میڈیا ’’بدعنوان، جان بوجھ کر ایسا کرنے والا، ہر جگہ موجود، مکمل طور پر مربوط اور قابو سے باہر‘‘ ہے۔ ان کے مطابق یہ قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے اور اسے ’’ابھی‘‘ روکا جانا چاہیے۔

وفاقی عدالت میں ممکنہ شکست کے خدشے کے پیش نظر ٹرمپ نے کہا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ میڈیا ادارے جو صرف منفی رپورٹنگ کرتے ہیں اور ’’نامعلوم ذرائع‘‘ کی بنیاد پر جھوٹی اور ہتک آمیز خبریں شائع کرکے قومی سلامتی کی خلاف ورزی کرتے ہیں، انہیں دنیا کے اہم ترین دفتر یعنی وہائٹ ہاؤس تک رسائی نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے ان صحافیوں کو ’’درجہ سوم کے مسخرے‘‘ قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ اپنی تحریروں اور رپورٹوں میں جان بوجھ کر حقائق کو مسخ کرتے ہیں۔ ٹرمپ نے لکھا، ’’میرے بارے میں یا مجھ سے متعلق تقریباً ہر خبر منفی، غلط اور کئی معاملات میں ہمارے ملک کے لیے خطرناک ہوتی ہے۔ میری کامیابیاں کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہوں، وہ انہیں معمولی اور بے وقعت بنا دیتے ہیں۔‘‘ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ انہیں جج کیلی کو مقرر کرنے پر افسوس ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’ہم اسرائیلی اقدامات پرخاموش نہیں رہیں گے‘‘

منگل کی رات دیر گئے دائر کی گئی دستاویزات میں محکمہ انصاف نے ان نیوز اداروں پر قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے اور ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔ محکمہ انصاف کے مطابق ادارے ’’قومی سلامتی اور دیگر معاملات کے بارے میں قابلِ تصدیق جھوٹ پھیلانے‘‘ اور حساس یا خفیہ معلومات شائع کرنے میں ملوث رہے ہیں۔ دستاویز میں کہا گیا، ’’وہائٹ ہاؤس تک رسائی ایک استحقاق ہے، حق نہیں۔‘‘ تاہم، کسی قانون میں صحافی کے لیے خفیہ معلومات حاصل کرنے یا شائع کرنے کو صراحتاً جرم قرار نہیں دیا گیا۔ عدالتی دستاویزات کے ساتھ وہائٹ ہاؤس پریس آفس کے تینوں نیوز اداروں کو ۲۲؍ ستمبر کو بھیجے گئے خطوط کی نقول بھی شامل تھیں۔ ان خطوط میں ایران جنگ کے باعث امریکی فوج کو درپیش ہتھیاروں کی کمی اور وہائٹ ہاؤس کے مجوزہ بال روم میں انتظامیہ کی جانب سے سکیورٹی میں اضافے سے متعلق رپورٹس کا حوالہ دیا گیا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ محکمہ انصاف نے خود بھی جاری مقدمے سے متعلق عدالتی دستاویزات میں وہائٹ ہاؤس کے اس منصوبے کی تفصیلات پر تفصیلی بحث کی ہے۔ وہائٹ ہاؤس نے ڈلاس میں ریپبلکن پارٹی کے وسط مدتی کنونشن میں کم حاضری سے متعلق ’پولیٹیکو‘ کی ایک رپورٹ کا بھی حوالہ دیا، جس میں نامعلوم ذرائع کی بنیاد پر تقریب کو ’’تباہی‘‘ کے طور پر پیش کرنے کا الزام لگایا گیا۔ اس رپورٹ میں وہائٹ ہاؤس کے قریب سمجھے جانے والے ایک ریپبلکن لابیسٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ ’’صورتحال بہت خراب ہے‘‘۔

نیٹ ورک کے حکام کے مطابق سی این این کی شائع کردہ چار متعلقہ رپورٹس میں سے صرف ایک اور ایم ایس ناؤ کی تین متعلقہ رپورٹس میں سے صرف ایک ایسی تھی جو وہائٹ ہاؤس کے پریس پاس رکھنے والے صحافیوں نے تحریر کی تھی۔ وہائٹ ہاؤس نے ایک ایسی رپورٹ کا بھی حوالہ دیا جس میں ایک صحافی پر مبینہ ایف بی آئی لیک تحقیقات اور ایران کے ایک گرلز اسکول پر امریکی فوج کے مبینہ حملے کا ذکر تھا، جس میں ۱۵۶؍ شہریوں کے مارے جانے کی اطلاع دی گئی، جن میں ۱۲۰؍ بچے شامل تھے۔ وہائٹ ہاؤس پریس آفس نے نیوز اداروں کو بھیجے گئے خطوط میں لکھا، ’’حساس سیکوریٹی معلومات اور قومی سلامتی سے متعلق غلط معلومات کی اشاعت وہائٹ ہاؤس اور بالخصوص قومی سلامتی کی ٹیم کے وسائل کو متاثر کرتی ہے، جسے یہ جائزہ لینا پڑتا ہے کہ لیک ہونے والی معلومات خفیہ ہیں یا نہیں، معلومات لیک کرنے والا ذریعہ کون ہے اور اس انکشاف کے سیکوریٹی پر کیا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔‘‘ خط میں مزید کہا گیا کہ ’’غلط معلومات کا پھیلاؤ، خاص طور پر قومی سلامتی سے متعلق معلومات کے بارے میں، ایک ایسا خطرہ ہے جو صدر کی قومی سلامتی کے تحفظ کی صلاحیت کو متاثر کرتا ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ڈونالڈ ٹرمپ واشنگٹن میں شی جن پنگ کی میزبانی کریں گے

تینوں نیوز اداروں کو ۲۵؍ ستمبر کی شام ۵؍ بجے تک اپنی رسائی منسوخ کرنے کے ابتدائی فیصلے یا اس کی بنیاد بننے والے حقائق کو چیلنج کرنے کا موقع دیا گیا ہے۔ باؤٹروس نے بدھ کو کہا، ’’یہ حد سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ واضح طور پر انتقامی کارروائی ہے۔‘‘ ان کے مطابق نیوز اداروں کی جانب سے مقدمہ دائر کیے جانے کے بعد ’’اچانک یہ قومی سلامتی کا معاملہ بن گیا‘‘۔ انہوں نے کہا، ’’ایک دم خیال آیا کہ قومی سلامتی کی بات شروع کردو۔‘‘ ان کے مطابق قومی سلامتی کے ایسے معاملات کی رپورٹنگ کرنے پر صحافیوں کو سزا دینا، جنہیں حکومت عوام کے سامنے نہیں لانا چاہتی، پہلی ترمیم کے اصولوں کے منافی ہے۔ انہوں نے انتظامیہ کے مؤقف میں تبدیلی کو بعد ازاں گھڑی گئی ایسی وجہ قرار دیا جس کا مقصد صدر کو ناپسند آنے والی کوریج کو روکنا ہے۔

بدھ کو ۵۰؍ سے زائد نیوز اداروں اور صحافتی آزادی کی تنظیموں کے اتحاد نے بھی ان نیوز اداروں کی حمایت میں عدالت میں ایک دستاویز جمع کرائی۔ اس میں کہا گیا کہ وہائٹ ہاؤس کی جانب سے رپورٹنگ کے مواد کی بنیاد پر عائد پابندی غیر آئینی طور پر مخصوص نقطۂ نظر کے خلاف امتیازی سلوک کے مترادف ہے۔ اتحاد نے عدالت میں جمع کرائی گئی دستاویز میں لکھا کہ اس اقدام کا مقصد ’’خوف کا اثر پیدا کرنا‘‘ ہے، تاکہ دیگر نیوز ادارے ایسی خبریں شائع کرنے سے گریز کریں جن کے نتیجے میں انہیں بھی اسی طرح کی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK