• Tue, 06 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ترکی خلائی کانگریس: ۲۱؍ ممالک کے درمیان اتفاق رائے سے انطالیہ اعلامیہ منظور

Updated: October 06, 2026, 1:45 PM IST | Agency | Ankara

۷۷؍ ویں بین الاقوامی ایسٹروناٹیکل کانگریس کے پہلے دن اسپیس کے پُرامن استعمال اورترقی پذیر ممالک کو عالمی خلائی شعبے میںشامل کرنے جیسے موضوعات پر گفتگو۔

The International Space Congress in the Turkish city of Antalya will continue until October 9. Photo: INN
ترکی کے شہر انطالیہ میںبین الاقوامی خلائی کانگریس ۹؍ اکتوبر تک جاری رہےگی۔ تصویر: آئی این این

ترکی کے وزیر صنعت و ٹیکنالوجی محمد فاتح قاجر نے کہا ہے کہ۲۱؍ ممالک کے نمائندوں نے انطالیہ اعلامیہ منظور کر دیا ہے۔قاجر نے  بتایا کہ  ضلع انطالیہ میں جاری بین الاقوامی خلائی کانگریس کے پہلے دن (۵؍ اکتوبر) ۲۱؍ ممالک کے نمائندوں نے تاریخی اہمیت کے حامل انطالیہ اعلامیے کی منظوری دے دی ۔ ۷۷؍ ویں بین الاقوامی ایسٹروناٹیکل کانگریس (آئی اے سی ۲۰۲۶ء)اعلامیہ کی منظوری میں وزراء، قانون سازوں اورقومی خلائی ایجنسیوں کے سربراہان سمیت۳۲؍ اعلیٰ سطحی نمائندوں نے حصہ لیا۔ اعلامیہ میں بین الاقوامی خلائی فیڈریشن کے عالمی سطح پر خلائی تعاون اور شراکت داری کو فروغ دینے میں کردار کی حمایت کا اعادہ کیا گیا ہے۔۳۸؍ممالک کے وفود  نے اجلاس کے پہلے دن خلا (اسپیس) کے پُرامن استعمال، نئے خلائی مشن، قانونی ضوابط اور ترقی پذیر معیشتوں کو عالمی خلائی شعبے میں شامل کرنے جیسے اہم موضوعات پر تبادلۂ خیال کیا۔

یہ بھی پڑھئے:یمنی فوج کا حوثیوں کیخلاف بڑا حملہ، باب المندب کے قریب ذباب پر قبضہ

ترکی کا ۲۰۲۷ءکا چاند مشن

واضح رہےکہ ترکی۵؍ تا۹؍ اکتوبر تک انطالیہ میں بین الاقوامی خلائی کانگریس کی۷۷؍ویں نشست کی میزبانی کر رہا ہے۔ اس کانگریس کا انعقاد وزارتِ صنعت و ٹیکنالوجی کی نگرانی میں ایس اے ایچ اے استنبول اور ترک خلائی ایجنسی کی مشترکہ میزبانی میں ہو رہا ہے۔وزیر صنعت و ٹیکنالوجی محمد فاتح قاجرنے کہا ہےکہ انطالیہ اعلامیہ صدر  اردگان کے کثیر جہتی مذاکرات اور تعمیری روابط کے ذریعے عالمی امن کو فروغ دینے کے وژن کی عکاسی کرتا ہے۔اجلاس سے خطاب میں قاجر نے کہا  ہےکہ خلا میں ہونے والی پیش رفت اسی وقت حقیقی معنوں میں کامیابی تصور کی جا سکتی ہے جب اس کے فوائد زمین پر رہنے والے انسانوں تک پہنچیں۔انہوں نے کہا ہے کہ اصل سوال صرف یہ نہیں کہ انسان تکنیکی اعتبار سے خلا میں کتنی ترقی کر سکتا ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ اس ٹیکنالوجی کو معاشرے کیلئے زیادہ تحفظ، مضبوطی اور خوشحالی میں کس حد تک تبدیل کیا جا سکتا ہے۔قاجر کے مطابق عالمی خلائی شعبہ تیزی سے تجارتی میدان میں تبدیل ہو رہا ہے۔ عالمی خلائی معیشت۲۰۲۵ء  میں ریکارڈ سطح پر پہنچ کر۶۸۶؍ ارب ڈالر ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا  ہےکہ ترکی اپنے پہلے  چاند مشن کیلئے خلائی جہاز کو۲۰۲۷ء کے آغاز میں خلا میں بھیجنے کے ہدف کی جانب بڑھ رہا ہے۔ اس خلائی گاڑی میں مقامی طور پر تیار کردہ ہائبرڈ پروپلشن انجن استعمال کیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK