تمل ناڈو میں نو تشکیل شدہ ٹی وی کے حکومت کے تحت اسمبلی کا پہلا اجلاس جمعرات کو شروع ہوا جس کے آغاز پر گورنر راجندر وشوناتھ آرلیکر نے۳۹؍منٹ طویل خطاب میں حکومت کی ترجیحات، انتظامی پالیسیوں اور ریاست کی طویل مدتی ترقی کے خاکے کو پیش کیا۔
گورنرراجندر وشوناتھ آرلیکر۔ تصویر:آئی این این
تمل ناڈو میں نو تشکیل شدہ ٹی وی کے حکومت کے تحت اسمبلی کا پہلا اجلاس جمعرات کو شروع ہوا جس کے آغاز پر گورنر راجندر وشوناتھ آرلیکر نے۳۹؍منٹ طویل خطاب میں حکومت کی ترجیحات، انتظامی پالیسیوں اور ریاست کی طویل مدتی ترقی کے خاکے کو پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے آئندہ پانچ برسوں کے لیے ’ویتری تمل ناڈو‘ کے نام سے ایک جامع ترقیاتی منصوبہ تیار کیا ہے جس کا مقصد۲۰۳۱ء تک تمل ناڈو کو ملک کیلئے ایک مثالی ریاست کے طور پر فروغ دینا ہے۔گورنر نے کہا کہ حکومت عوامی فلاح اور ترقی کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ معمر شہریوں اور پنشن یافتگان کو دی جانے والی تمام فلاحی سہولتیں بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہیں گی۔ اس کے ساتھ ہی کھلاڑیوں کو عالمی معیار کی تربیت اور بنیادی سہولتیں فراہم کرنے پر بھی خصوصی توجہ دی جائے گی تاکہ وہ بین الاقوامی مقابلوں میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکیں۔
گورنر کے بقول’’ شفاف اور جوابدہ انتظامیہ کو یقینی بنانے کیلئے ہندو مذہبی و خیراتی اوقاف محکمہ کے زیر انتظام تمام مندروں کا آڈٹ کرایا جائے گا اور ان کے انتظام و انصرام میں شفافیت لائی جائے گی۔ گورنر کے مطابق ریاستی حکومت کرناٹک کی مجوزہ میکیداتو ڈیم اسکیم کی مسلسل مخالفت جاری رکھے گی اور کاویری ندی کے پانی پر انحصار کرنے والے کسانوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے تمام قانونی راستے اختیار کیے جائیں گے۔ زیر زمین پانی کے ذخائر کو محفوظ رکھنے کیلئے چیک ڈیم اور بارش کے پانی کے ذخیرے سے متعلق منصوبوں کو بھی فروغ دیا جائے گا۔ملاپیریار ڈیم تنازع کا ذکر کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ کیرالا کی جانب سے نئے ڈیم کے مطالبے کے باوجود تمل ناڈو اپنے قانونی اور آبی حقوق کے تحفظ کیلئے پرعزم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ منشیات کے بڑھتے ہوئے خطرے سے نمٹنے کے لیے ہر ضلع میں انسداد منشیات یونٹ قائم کیے گئے ہیں جبکہ غیر قانونی شراب کی فروخت کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائے گی۔ خواتین کے خلاف جرائم کے معاملے میں قصورواروں کو سخت سزا دلانے کے عزم کا اعادہ بھی کیا گیا۔
گورنر راجندر وشوناتھ آرلیکر نے دو لسانی پالیسی (تمل اور انگلش) کیلئے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا مرکزی حکومت سے مربوط تعلیمی پروگراموں کیلئے مالی امداد فراہم کرنے کا مطالبہ کیا نیزسہ لسانی فارمولہ تھوپے جانے کی مخالفت کی ۔ سیاسی اعتبار سے ٹی وی کے حکومت کے قیام کو ایک تاریخی موڑ قرار دیتے ہوئے گورنر نے کہاکہ ۱۹۶۷ء میں سی این انّا دورئی اور۱۹۷۷ء میں ایم جی رام چندرن کے اقتدار میں آنے کے بعد وزیر اعلیٰ وجے کی قیادت میں ٹی وی کے حکومت کا قیام ریاست کی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی ہے۔