Inquilab Logo Happiest Places to Work

پانی کی قلت، بارش میں تاخیر

Updated: June 19, 2026, 12:28 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai

یہ انسان کی سرشت میں داخل ہے کہ کسی بھی نعمت کا احساس اُسے تب ہوتا ہے جب وہ نعمت یا تو چھن جاتی ہے یا چھننے والی ہوتی ہے۔

Water Crisis.Photo:INN
پانی کا بحران۔ تصویر:آئی این این
یہ انسان کی سرشت میں داخل ہے کہ کسی بھی نعمت کا احساس اُسے تب ہوتا ہے جب وہ نعمت یا تو چھن جاتی ہے یا چھننے والی ہوتی ہے۔ ماں باپ کی قدر وہ تب کرتا ہے جب اُن کے سایۂ عاطفت سے محروم ہوجاتا ہے۔ نوجوانی اور جوانی کی قدر تب کرتا ہے جب بڑھاپے کی دہلیز میں قدم رکھتا ہے۔ روپے پیسے کی قدر اُسے تب ہوتی ہے جب ہاتھ تنگ ہوجاتا ہے۔ یہی معاملہ دیگر نعمتوں کا ہے۔ اسی لئے نعمت کی قدر وقت رہتے کی جائے تو اسے دانشمندی قرار دیا جاتا ہے۔ اِن دِنوں جس نعمت سے محرومی کا اندیشہ ستا رہا ہے وہ بارش ہے اور پینے کے یا استعمال کے پانی کا ہے۔ جب پانی افراط ہوتا ہے تو بے تحاشا بہایا جاتا ہے۔ اس کیلئے محکمۂ آب رسانی کے وہ اہلکار بھی خطاوار ہیں جو پانی کے ضیاع کو روکنے میں ناکام رہتے ہیں۔ محکمہ کے ذمہ داران، شہری انتظامیہ اور ریاستی حکومت سب ذمہ دار ہیں بالخصوص اس معاملے میں پانی کی سپلائی کے برسوں پرانے نظام کی تجدید کی فکر نہیں کرتے۔ اس سال موسم باراں کا اب تک آغاز نہیں ہوا ہے۔ کم و بیش پندرہ دن کی تاخیر کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے۔ اس کی وجہ سے کئی شہروں میں پانی کی قلت منہ پھاڑے کھڑی ہے اور عوامی زندگی کو سخت حالات کا سامنا ہے۔ 
 
 
عروس البلاد کہلانے والے شہر ممبئی میں عالم یہ ہے کہ صرف چالیس دن کا پانی باقی رہ گیا ہے۔ شہری انتظامیہ نے تعمیراتی کاموں اور سوئمنگ پول وغیرہ کو پانی فراہمی روک دی ہے جبکہ شہریوں کو سپلائی ہونے والے پانی کی مقدار ۱۰؍ فیصد کم کردی ہے۔ بھاری صنعتی کمپنیوں سے قابل استعمال بنائے گئے پانی پر انحصار کرنے کیلئے کہا گیا ہے۔ ممبئی کو پانی فراہم کرنے والی سات جھیلوں میں سے تانسا اور موڈک ساگر میں بارش کا علی الترتیب ۱۳؍ فیصد اور ۷؍ فیصد پانی میسر آیا ہے جبکہ دیگر پانچ جھیلوں کی سطح میں بالکل بھی اضافہ نہیں ہوا ہے۔یہاں تک کہ سات میں سے ایک جھیل اَپر وَیترنا کی سطح صفر فیصد بتائی جارہی ہے۔ جب بھی موسم باراں کی تاخیر سے آمد ہوتی ہے، نقارۂ خدا کہلانے والی زبان خلق سے یہ جملہ وارد ہونے لگا ہے کہ بارش نہیں آئی تو ممبئی خالی کرنی پڑے گی۔ 
 
 
ایسا نہیں کہ مانسون، جس کی آمد میں کم از کم پندرہ دن کی تاخیر ہو چکی ہے، ایک بار شروع ہوگیا تو کوئی فکر نہیں رہ جائے گی۔ بدقسمتی سے، تاخیرسے آنے والا مانسون اس سال کمزور رہے گا ایسی بھی پیش گوئی ماہرین موسمیات کرچکے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کسانوں کو اُن فصلوں کی تیاری میں لگ جانا چاہئے جن کیلئے کم پانی درکار ہوتا ہے مثلاً ارہر، مونگ، لوبیا اور راگی وغیرہ۔ مہاراشٹر میں جون کے پہلے پندرہ دنوں میں صرف ۲۶؍ فیصد بارش کے پیش نظر حکومت نے کسانوں کو ایڈوائزری جاری کی ہے کہ وہ خریف کی بوائی کو مؤخر کریں۔ خطہ مراٹھواڑہ ہر سال پانی کی بدترین قلت اور قحط سالی کا نقشہ پیش کرتا ہے۔ اس سال بھی اس خطہ کے تعلق سے اندیشے سر اُبھار رہے ہیں۔ گوداوری ندی پر جائیکواڑی ڈیم کا پانی صرف پینے کیلئے استعمال کرنے کی ریاستی حکومت کی ہدایت کے بعد اس خطہ کے کسان پہلے سے کہیں زیادہ فکرمند ہیں کہ اگر بارش بہت کم ہوئی تو اُن کیلئے صورت حال بھیانک ہوجائیگی۔ مراٹھواڑہ مثال ہے، اس سال خدانخواستہ کئی خطے اسی طرح کے حالات سے دوچار ہوسکتے ہیں۔نتیجتاً، ملک کے کسانوں کی پہلے ہی سے خستہ معاشی حالت مزید متاثر ہوسکتی ہے جبکہ جی ڈی پی میں شعبہ ٔ زراعت کی شرکت کم ہونے سے قومی معیشت پر بھی مضر اثرات مرتب ہونگے۔ یہ پورا منظرنامہ ناگفتہ بہ حالات کا اشارہ دے رہا ہے، خدا خیر فرمائے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK