Inquilab Logo Happiest Places to Work

مدنی ہائی اسکول کے فعال مدرس اظہر حسین کا مالیگاؤں میں انتقال

Updated: June 19, 2026, 12:05 PM IST | Mukhtar Adeel | Malegaon

مدنی ہائی اسکول، جوگیشوری، ممبئی سے بطورآرٹ ٹیچر وابستہ مدرس اظہرحسین شفیق احمداچانک دورئہ قلب کے باعث ۱۸؍ جون (جمعرات) کو انتقال کرگئے۔

Azhar Hussain.Photo:INN
اظہر حسین۔ تصویر:آئی این این
مدنی ہائی اسکول، جوگیشوری، ممبئی سے بطورآرٹ ٹیچر وابستہ مدرس اظہرحسین شفیق احمداچانک دورئہ قلب کے باعث ۱۸؍ جون (جمعرات) کو انتقال کرگئے۔ اسی شب میںان کی تدفین مالیگاؤںکےبڑاقبرستان میںہوئی۔ پسماندگان میںاہلیہ،ایک بیٹا اور دو بیٹیاں ہیں۔ ان کے والدین بقید حیات ہیںجبکہ تین بھائی اوردوبہنیںبھی ہیں۔ اظہرسر کے انتقال سےممبئی اور مالیگاؤں ہی نہیں،  مہاراشٹر بھر کےتعلیمی اور سماجی حلقے غمزدہ ہیں۔ انتقال کے وقت اُن کی عمر ۴۶؍ سال تھی۔ 
مرحوم اظہر ایک قابل اور فعال معلم تھے۔ اسکول کی اپنی ذمہ داریوں کو بحسن و خوبی ادا کرنے کے علاوہ، وہ تعلیمی تقریبات میں بھی پُرجوش طریقے سے شامل ہوا کرتے تھے۔ تعلیمی تنظیم ’’کاوش‘‘ کےسرگرم اراکین میں اُن کا شمار ہوا کرتا تھا۔ وہ طلبہ ہی کی رہنمائی نہیں کرتے تھے بلکہ اساتذہ کیلئے بھی اُنہوں نے مختلف گروپس تشکیل دیئے تھے تاکہ اساتذہ تک ضروری اطلاعات بروقت پہنچیں اور سرکاری ہدایت ناموں اور الیکشن ڈیوٹی جیسی سرکاری ذمہ داریوں وغیرہ سے اُنہیں باخبر کیا جائے۔مرحوم اظہر سر  گوناگوں خصوصیات اور خوبیوں کے حامل تھے مگر اُن کی شخصیت کا سب سے زیادہ متاثر کرنے والا پہلو اُن کی سعادت مندی اور مدد کا جذبہ تھا۔ وہ ہر خاص و عام سے خندہ پیشانی سے ملتے۔ ’’کاوش‘‘ کے سالانہ جلسے میں بھی وہ پیش پیش رہتے تھے۔ 
 
 
اظہر سر کا تعلق مالیگاؤں سے تھا مگر وہ بغرض ملازمت ممبئی میں مقیم تھے۔ چھٹیوں میں مالیگاؤں آئے ہوئے تھے۔ پیر میں چوٹ کے سبب پلاسٹر لگا ہوا تھا اس کے باوجود نئے تعلیمی سال کے پہلے دن اسکول میں حاضری ضروری تھی اس لئے مدنی ہائی اسکول پہنچ کر حاضری لگائی اور پھر ’’سک لیو‘‘ لے کر مالیگاؤں آئے۔ اُن کی اہلیہ اور بچے ممبئی ہی میں تھے۔ اطلاع ملتے ہی وہ مالیگاؤں کیلئے روانہ ہوئے۔ واضح رہے کہ اظہرحسین سَر ۲۰۰۰ء سے مدنی ہائی اسکول سے وابستہ تھے۔ انہوں نے فن مصوری، تصویر کشی، کرافٹ اورفنون لطیفہ میںمہارت حاصل کی تھی۔ ان کے انتقال سے اہل خانہ صدمے میں ہیں۔اظہر سر کی ناگہانی موت سے مدنی ہائی اسکول کا تدریسی و غیر تدریسی عملہ، تعلیم و تربیت سے وابستہ ممبئی کی تنظیمیں، کریئر کاؤنسلنگ سے جڑے حلقے، گویا سب غمزدہ ہیں اور اُن کی مغفرت کی دُعا کررہے ہیں۔ 
 
 
مرحوم کےچھوٹے بھائی اطہرنظیف نے انقلاب کوبتایاکہ ہمارے مامازادبھائی اور ان کے اہل خانہ سفرحج سے جمعرات ۱۸؍جون کوواپس آئے۔ اس خوشی میںدعائیہ تقریب ماما زاد بھائی شاہد کے یہاں منعقد کی گئی تھی۔ اس میںاظہرحسین سَراوراُن کے اہل خانہ بھی شریک تھے۔ دعاکے وقت اظہرحسین اپنی والدہ کے بازو میں بیٹھے تھے۔ اچانک اُن پر غشی طاری ہوئی۔ وہاں موجود تمام رشتہ دار گھبرا گئے۔ انہیں فوری طور سے طبّی امداد کیلئے اسپتال لے جایا گیا لیکن قدرت کو کچھ اور منظور تھا۔ وہ جانبر نہیں ہوسکے، نبض ڈوب چکی تھی، بالآخر معالجین نےان کی موت واقع ہوجانے کی تصدیق کردی۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK