کسانوں کی مکمل قرض معافی کیلئے بلڈانہ میں روی کانت توپکر کی بھوک ہڑتال کو چار دن ہوچکے ہیں۔
توپکر ۴؍ دنوں سے بھوک ہڑتال پر ہیں-تصویر:آئی این این
کسانوں کی مکمل قرض معافی کیلئے بلڈانہ میں روی کانت توپکر کی بھوک ہڑتال کو چار دن ہوچکے ہیں۔ بدھ کی دیر رات اچانک ان کی حالت خراب ہونے پر ڈاکٹروں نے انہیں بھوک ہڑتال ختم کرنےکا مشورہ دیا مگر وہ نہیں مانے۔ڈاکٹروں کے مطابق بلڈ شوگر کی سطح ۵۰ ؍فیصد سے کم ہونے پر کمزوری، چکر آنا، سر درد کی شکایت کے علاوہ گردے کو نقصان پہنچ سکتا ہے مگر توپکر کا کہنا ہے کہ جب تک ان کا مطالبہ پورا نہیں ہوتا وہ ایک دانہ بھی نہیں لیں گے، چاہے اُن کی جان ہی کیوں نہ چلی جائے۔
اس دوران روی کانت توپکر کی صحت خراب ہونے کی خبر ممبئی تک پہنچی تو ممبئی میں موجود ناراض کسان سیدھے ممبئی کےگیٹ وے آف انڈیا پہنچ گئے اور سمندر میں ’جل سمادھی‘ لینے کی کوشش کی۔ کسانوں کے اس انتہائی قدم سے موقع پر افراتفری مچ گئی لیکن پولیس نے کسانوں کو بروقت گرفتار کر لیا سمندر کنارےپہرہ لگا دیا۔ اس کے علاوہ توپکر حامیوں نے منترالیہ کے سامنے بھی احتجاج کیا۔ اس دوران ایک کارکن درخت پر چڑھ گیا۔ اسکے ہاتھ میں پٹاخے (سُتلی بم) کا تھیلا تھا۔ جب اُسے پولیس نے نیچے آنے کیلئے کہا تو احتجاجاً اُس نے پولیس پر پٹاخے والا بم پھینکا اور قومی ترانہ گانا شروع کردیا۔ روی کانت توپکر کے حامیوں کی ان ہنگامہ آرائیوں کی وجہ سے کچھ دیر کیلئے ماحول کشدہ ہوگیا تھا۔
اکولہ، بلڈانہ، واشم و دیگر شہروں میں کسان جارحانہ
روی کانت توپکر کے احتجاج کا سب سے زیادہ اثر ودربھ میں پڑا۔ دیر رات بلڈانہ ضلع کے مہکر تعلقہ میں ہیورا آشرم میں واقع تلاٹھی دفتر کو آگ لگانے کی کوشش کی گئی۔ جالنہ کھامگاؤں روڈ پر چکھلی کے قریب ٹول بوتھ کو بھی آگ لگا دی گئی۔ اسی طرح کھامگاؤں شہر میں بھی سب ڈیویژنل دفتر پر نامعلوم افراد نے آتش گیر مادہ پھینک کر آگ لگانے کی کوشش کی۔ یہ واقعہ صبح منظر عام پر آیا۔ پولیس نے سرکاری املاک کونقصان پہنچانے کے جرم دو نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا۔ اسکے علاوہ اکولہ۔ حیدرآباد ہائی وے کو بلاک کرنے کیلئے ٹائر جلائے گئے۔اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔ اس اچانک ہنگامہ آرائی کی وجہ سے کچھ دیر کیلئے شاہراہ پر ٹریفک مکمل طور پر ٹھپ ہوکر رہ گیا تھا۔ روی کانت توپکر کی صحت خراب ہوتی جا رہی ہے۔ اُن کی یہ حالت دیکھ کر اُن کی ماں فکر مند اور پریشان ہیں۔ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے اپنی فکر مندی اظہار کیا۔ان کا کہنا تھا کہ ’’ اگر میرے بیٹے کو کچھ ہوا تو حکومت مشکل میں پڑجائے گی، یہ حکومت نہیں بچے گی۔‘‘