Inquilab Logo Happiest Places to Work

مقبوضہ کشمیر میں عوامی شورش

Updated: June 19, 2026, 12:34 PM IST | Shamim Tariq | Mumbai

اس مضمون میں حالیہ دنوں میں مقبوضہ کشمیر کے بگڑتے حالات سے بحث کی گئی ہے۔

Protests.Photo:PTI
احتجاج۔ تصویر:پی ٹی آئی
بات کچھ پرانی ہے۔ مَیں نے ایک رسالے کے مدیر سے کہا تھا کہ ہم ہندوستانی جس خطۂ ارض کو آزاد کشمیر لکھتے ہیں اسی کو پڑوسی ملک کی حکومت اور میڈیا مقبوضہ کشمیر کہتی ہے اس لئے پاکستان سے جن لوگوں کو خبریں چرانے یا نقل کرنے کی عادت ہے ان کو حق پسندی کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے جو جواب دیا تھا اس سے لگتا تھاکہ وہ اصل مسئلہ کو سمجھتے ہی نہیں۔ اُردو میں خاص طور سے ایسے صحافیوں اور مدیروں کی کثرت رہی ہے جو کچھ لکھے بغیر سینئر صحافی مشہور ہوگئے ہیں لہٰذا ایسا ہونا خلاف توقع نہیں ہے۔
پاکستان کے قبضے والے یعنی مقبوضہ کشمیر میں منگل (۹؍ جون ۲۰۲۶ء) کو حالات اتنے خراب ہوئے کہ انٹرنیٹ بند کر دیا گیا اور امجد کشمیری و شاہ زیب حبیب کے مرنے کی خبر سن کر کثرت سے مظاہرین گھروں سے باہر نکل آئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مزید ۱۲؍ افراد فوت ہو گئے۔ کچھ دنوں قبل ہی جے اے اے سی (جوائنٹ یعنی مشترکہ عوامی ایکشن کمیٹی) کو دہشت گرد مخالف قانون کے تحت ممنوع قرار دیا گیا تھا کیونکہ جے اے اے سی نے ۹؍ جون کو ہی بنیادی حقوق اور معاشی راحت کے مطالبات کو لے کر طویل مظاہروں کی قیادت کی تھی۔ مقبوضہ کشمیر میں پاکستانی فوج کی سخت کارروائی اور مظاہرین کی اموات کے خلاف  (۹؍ جون کو) کشمیریوں نے بریڈ فورڈ میں پاکستانی سفارتخانہ کے سامنے مظاہرہ کیا۔ برطانیہ میں ۵۰؍ ممبران پارلیمنٹ نے عوامی تحریک کو کچلنے کیلئے طاقت کے استعمال کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے خارجہ سیکریٹری یویٹ کوپر کو خط لکھا۔ اس مشترکہ خط میں پاکستانی فوج کے ذریعہ کئے گئے ظلم و تشدد پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اسی دوران خبر آئی کہ پاکستانی فوج کا ایک ہیلی کاپٹر (ایم آئی-۱۷) مقبوضہ کشمیر کے مظفرآباد میں تباہ ہوگیا۔ جس کے تباہ ہونے پر پاکستانی فیلڈ مارشل عاصم منیر اور دوسرے فوجی افسروں نے افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے تصدیق بھی کی کہ ہاں ایسا نقصان ہوا ہے مگر یہ نہیں بتایا کہ لقمۂ اجل بننے والوں کی حقیقی تعداد کتنی ہے۔
یہ بھی معلوم ہوا کہ بدھ (۱۰؍ جون) کو پاکستان کی فضائیہ نے افغانستان کو نشانہ بنایا۔ پاکستان کا دعویٰ ہے کہ اس نے صرف افغانستان میں چھپے ہوئے دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا مگر افغانستان کا اصرار ہے کہ پاکستانی حملے کے سبب افغانستان کے بچے اور مظلوم عوام مارے گئے۔ کچھ اور بھی واقعات ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی آگ اب پاکستان یا پاکستان کے زیر نگیں علاقوں تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کی آنچ دنیا کے دوسرے حصوں میں بھی محسوس کی جا رہی ہے۔
انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں افواج کی گولہ باری اور سخت پہریداری سے عام لوگوں کے جنازے اٹھ رہے ہیں۔ مرنے والوں کی تعداد الگ الگ ذرائع سے ملنے والی خبروں میں الگ الگ ہے مگر یہ تو طے ہے کہ پاکستانی فوج اپنے ہی عوام کے احتجاج کو کچلنے کے لئے جبر و ظلم کر رہی ہے۔ اس بار احتجاج  ان ۱۲؍ نشستوں کے باعث شروع ہوا جو جموں کشمیر یعنی آزاد کشمیر والوں کیلئے مختص ہیں۔ عوام کو اندیشہ ہے کہ پاکستانی حکومت جو کچھ کر رہی ہے اس سے اسلام آباد کا غلبہ بڑھے گا جو وہ نہیں چاہتے۔
 
 
کیوں نہیں چاہتے؟ اس سلسلے میں بار بار یہ بات کہی جاتی رہی ہے کہ پاکستان میں انسانی حقوق کی پامالی معمول میں شامل ہوچکی ہے۔ خود حکومت جانتی ہے کہ بلوچستان سے مقبوضہ کشمیر تک فوج کیا کر رہی ہے؟ عوام کا حافظہ کمزور ہوتا ہے مگر یہ بات تو سبھی کی یادداشت کا حصہ ہے کہ پاکستان میں جس طرح اختلاف یا احتجاج کرنے والے قتل یا غائب کئے جا رہے ہیں وہ اقوام متحدہ کے لئے بھی باعث تشویش ہیں اور اقوام متحدہ تشویش کا اظہار کر بھی چکی ہے۔ یادداشت پر زور دیں تو تصدیق ہوتی ہے کہ پاکستان کے قبضے والے یعنی مقبوضہ کشمیر میں تھوڑے تھوڑے وقفے سے کچھ نہ کچھ ہوتا رہتا ہے اور سب کی اصل وجہ ہوتی ہے وہ سوچ جو پاکستان کی حکومت کی مقبوضہ کشمیر کے بارے میں ہے۔ واقعہ یہی ہے کہ پاکستان کشمیر کے ایک حصے کو اپنا تو بتاتا ہے مگر اس حصے کی ترقی یا یہاں کے عوام کے مسائل کے حل کیلئے کچھ نہیں کرتا۔ اسی لئے یہ پورا علاقہ بدحالی کا شکار ہے اور یہاں کے عوام رہ رہ کر احتجاج کرتے رہتے ہیں۔
ہم ہندوستانی وزارت خارجہ کے ترجمان کے اس بیان کو پوری طرح قبول کرتے ہیں کہ پاکستان اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لئے طاقت کا استعمال کرتا رہتا ہے۔ جے اے اے سی پر پابندی بھی پاکستان کی ناکامیوں میں سے ہے۔ یہ کمیٹی یا محاذ لوگوں کے مسائل یا بیروزگاری، مہنگائی یا  انتظامی ناکامیوں پر حکومت کی توجہ دلانے کے لئے اکثر احتجاج کرتی رہی ہے۔ اس کو ممنوع قرار دینے یا اس کے خلاف طاقت آزمانے کا مطلب؟
 
 
سوال یہ ہے کہ کسی ملک کو منتخب نمائندے چلاتے ہیں یا فوج اور انٹیلی جنس کے لوگ؟ پاکستان میں فوج  اور  انٹیلی جنس کو بلوچستان سے مقبوضہ کشمیر تک نہ صرف بالادستی حاصل ہے بلکہ پورے پاکستان میں وہ جو چاہتی ہے کرتی ہے، عوامی حکومت کی حیثیت ثانوی ہے۔ اصل مسئلہ یہی ہے کہ ہندوستان اور پاکستان جیسے ایٹمی طاقت رکھنے والے پڑوسی ملکوں میں ہندوستان کی حکومت افواج کو قابو میں رکھتی ہے جبکہ پاکستان کی حکومت فوج کے  قابو میں رہتی ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی اسمبلی میں ۱۲؍ نشستیں ان کے لئے مختص ہیں جن کا تعلق جموں کشمیر سے ہے۔ حالیہ مظاہرہ انہی کے مسائل کے بارے میں تھا۔ فوجی طاقت کا زیادہ استعمال کرکے عوامی احتجاج کو کچلنا مسئلہ کا حل نہیں ہے۔ اس سے دوسرے ملکوں کو تبصرہ کرنے یا مداخلت کرنے کا موقع ملتا ہے۔ یہ بدقسمتی ہے کہ جب بھی ایسا موقع آتا ہے پاکستان شور مچاتا ہے کہ ہندوستان کے پروپیگنڈے کے سبب عالمی معاشرہ اس کے بارے میں غلط رائے قائم کرتا ہے۔ اس کو یہ نہیں سمجھ میں آتا کہ عالمی معاشرہ پروپیگنڈے سے عارضی طور پر متاثر تو ہوسکتا ہے مگر رائے قائم ہوتی ہے ٹھوس حقائق کی بنیاد پر۔ ٹھوس حقیقت یہی ہے کہ پاکستان ناکام ہے افواج کے متوازی حکومت چلانے اور نتیجہ حکومت کے غلط فیصلوں کے سبب۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK