نیٹ امتحان کی منسوخی پرکلیان کے طالبعلموںکا رد عمل ، صورتحال غیر یقینی ۔
طالب علم اور والدین۔ تصویر:آئی این این
ملک بھر میں میڈیکل کالجوں میں داخلے کیلئے منعقد ہونے والے سب سے بڑے اور معتبر مسابقتی امتحان نیٹ کے حوالے سے مرکزی حکومت نے ایک بڑا اور چونکا دینے والا فیصلہ لیتے ہوئے رواں سال ۳؍ مئی کو ہونے والے امتحان کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔ یہ فیصلہ ملک کے مختلف حصوں سے پیپر لیک ہونے کے سنگین الزامات اور بے ضابطگیوں کی شکایات موصول ہونے کے بعد کیا گیا ہے۔حکومت کے اس اچانک فیصلے نے جہاں پورے ملک میں تعلیمی حلقوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے وہی لاکھوں طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔
اس حساس موضوع پر نمائندہ انقلاب نے کلیان کے ان طلبہ سے خصوصی گفتگو کی جو طویل عرصے سے اس امتحان کی تیاری میں مصروف تھے۔گزشتہ دو برسوں سے سخت محنت کرنے والی طالبہ شیخ فائزہ محمد عقیل نے بتایا کہ وہ اپنا پورا نصاب مکمل کر چکی تھیں اور امتحان کے نتائج کے حوالے سے کافی پُرامید تھیں۔ انہوں نے کہا کہ اس بار پرچہ نسبتاً آسان تھا اور مجھے قوی امید تھی کہ میں ۳۰۰ سے زائد نمبرات حاصل کر لوں گی۔ لیکن اب دوبارہ امتحان یا طویل التواء کے خدشے نے میرا پوراتعلیمی سال خطرے میں ڈال دیا ہے۔قاضی صباحت اشفاق احمد نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ ایک بار پھر اسی شدت سے محنت کرنا کسی پہاڑ سر کرنے سے کم نہیں ہے۔ ان کے بقول ذہن میں اب یہ خوف بیٹھ گیا ہے کہ اگر دوبارہ امتحان ہوا تو شاید پرچہ پہلے سے زیادہ مشکل ہو جائے۔ یہ بے یقینی کی صورتحال ہمارے اعصاب پر سوار ہو چکی ہے۔
کاظم رئیس نامی طالب علم نے دوٹوک الفاظ میں حکومت کو غیر ذمہ دارقرار دیتے ہوئے کہا کہ اب دوبارہ امتحان دینے کا کوئی فائدہ نظر نہیں آتا کیونکہ دو سال کی محنت پہلے ہی ضائع ہو چکی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بچوں کے مستقبل کے ساتھ یہ کھلواڑ اب بند ہونا چاہئے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس امتحانی نظام کی موجودہ صورتحال پر فوری نظر ثانی کرے اور اسے شفاف بنائے تاکہ کسی مستحق طالب علم کی حق تلفی نہ ہو۔