امارات واقعہ کی دہشت گردانہ سرگرمی کے پہلو سےبھی تحقیقات کرے گا ،فی الحال عمانی پائلٹ کو سعودی عرب کے حوالے کیاگیا ہے۔
EPAPER
Updated: October 02, 2026, 2:07 PM IST | Agency | Dubai
امارات واقعہ کی دہشت گردانہ سرگرمی کے پہلو سےبھی تحقیقات کرے گا ،فی الحال عمانی پائلٹ کو سعودی عرب کے حوالے کیاگیا ہے۔
متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز میں پائلٹ پر چاقو سے حملے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ حکام اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا یہ واقعہ دہشت گردانہ سرگرمی سے منسلک تھا یا پہلے سے اس کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔متحدہ عرب امارات کے اٹارنی جنرل حمد سیف شمسی نے بدھ کو فلائٹ ایف زیڈ۱۰۷۳؍ میں پیش آنے والے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا۔ کاک پٹ میں جھگڑے کے بعد طیارے کا رخ سعودی عرب کے تبوک کی جانب موڑ دیا گیا تھا۔متحدہ عرب امارات کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے جمعرات کو بتایا کہ تحقیقات میں واقعے کے حالات اور محرکات کا جائزہ لیا جائے گا جس میں یہ بھی معلوم کیا جائے گا کہ آیا اس کا دہشت گردانہ سرگرمی سے کوئی تعلق تھا یا اس کے پیچھے پہلے سے کوئی منصوبہ بندی یا ہدایت کارفرما تھی۔
یو اے ای نے کہا کہ طیارہ ملک میں رجسٹرڈ اور اسی کے پرچم کے تحت پرواز کرتا ہے، اس لیے اس کے عدالتی حکام کو تحقیقات کا اختیار حاصل ہے۔ اماراتی حکام کے مطابق ملکی قانون کسی طیارے میں کیے گئے جرائم پر بھی لاگو ہوتا ہے ۔خواہ وہ ملک کی سرحدی حدود سے باہر ہی کیوں نہ پیش آئے ہوں۔
یہ بھی پڑھئے: افغانستان میں پاکستان کے فضائی حملے میں۲۲؍افراد ہلاک
فلائی دبئی نے کہا کہ کاک پٹ میں جھگڑا ہوا تھا، جس کے بعد طیارے کا رخ تبوک کی جانب موڑ دیا گیا جہاں اس نے بحفاظت لینڈنگ کی۔ ایئرلائن نے کہا کہ واقعے کی وجوہات ابھی معلوم نہیں اور تحقیقات جاری رہنے کے دوران قبل از وقت قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے۔یو اے ای کی جنرل سول ایوی ایشن اتھاریٹی نے کہا کہ پرواز کو ایک سیکوریٹی واقعے کا سامنا ہوا جس پر قابو پالیا گیا۔
اسرائیلی حکام کے مطابق دورانِ پرواز معاون پائلٹ نے ہندوستانی شہری کیپٹن اسمت مچھار پر حملہ کیا اور کاک پٹ میں انہیں چاقو مارا۔ اس کے بعد طیارہ۳۰؍سیکنڈ سے بھی کم وقت میں تقریباً۱۴؍ ہزار فٹ نیچے آ گیا، تاہم مسافروں اور عملے نے مداخلت کی۔مسافروں اور عملے کے اراکین نے کاک پٹ میں داخل ہوکر معاون پائلٹ پر قابو پالیاجبکہ فلائی دبئی کے دو دیگر پائلٹوں نے جو اسی پرواز میں مسافروں کے طور پر سفر کر رہے تھے ، طیارے کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے میں مدد کی جس کے بعد اسے تبوک میں بحفاظت اتارا گیا۔ بعد میں مسافر متبادل فلائی دبئی طیارے کے ذریعے تل ابیب پہنچے۔ واقعے کے۱۰؍گھنٹے سے زائد وقت بعد وہ اپنی منزل پر پہنچ سکے۔
یہ بھی پڑھئے:ٹرمپ کی ایران کو سخت دھمکی، مشرق وسطیٰ میں ۹؍ ہزار امریکی فوجی بھیجے
ایران کے ملوث ہونے کی تحقیقات کی جائیگی : نیتن یاہو
اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل حملے کے پس پردہ محرکات کا پتہ لگانے کی کوشش کرے گا جس میں یہ بھی معلوم کیا جائے گا کہ آیا معاون پائلٹ کے کوئی ساتھی تھے یا ایران اس میں ملوث تھا۔نیتن یاہو نے فوکس نیوز کو انٹرویو میں کہا ’’ہم اس حملہ آور کے معاملے کی تہہ تک پہنچیں گے، یہ بھی معلوم کریں گے کہ آیا اس کے کوئی ساتھی تھے اور آیا ایران اس کے پیچھے تھا۔ میرے خیال میں ہمیں بہت جلد اس کا پتہ چل جائے گا۔
ایران کے ممکنہ ملوث ہونے کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہا کہ یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہے۔ حملہ آور پائلٹ سے اس وقت سعودی عرب میں تفتیش کی جا رہی ہے۔ میرے خیال میں اسے امارات لے جایا جائے گا جہاں سے وہ آیا ہے یا کم از کم جہاں سے اس نے پرواز کی تھی۔ ہم تحقیقات پر نظر رکھیں گے اور ممکنہ طور پر اس میں حصہ بھی لیں گے۔ایک اسرائیلی عہدیدار نے معاون پائلٹ کی شناخت عمانی شہری کے طور پر کی ہے۔ عمان کی جانب سے فوری طور پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا۔نیتن یاہو نے اس واقعے کو سنگین سیکوریٹی واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سعودی حکام معاون پائلٹ سے پوچھ گچھ کریں گے۔
یہ بھی پڑھئے:غزہ: اسرائیلی حملے جاری، صحافی سمیت۸؍فلسطینی شہید، متعدد زخمی
فلائی دبئی کے طیارہ میں کیا ہوا تھا ؟
گزشتہ روز دبئی سے اسرائیل جا رہے ایک طیارہ کو مبینہ طورپر یرغمال بنانے کی کوشش ہوئی اورنائن الیون جیسے حملے کے خدشہ سے خوف کا ماحول پیدا ہو گیا۔ ’فلائی دبئی‘ کی فلائٹ میںعمان سے تعلق رکھنے والے معاون پائلٹ نے ہندوستانی پائلٹ کیپٹن اسمت مچھار پر چاقو سے حملہ کر دیا اور طیارہ ہزاروں فٹ نیچے آگیا۔ زخمی ہاتھوں اور سر سے بہتے خون کے باوجود انہوں نے ہمت نہیںہاری اور۱۷۰؍ سے زائد مسافروںکو بچایا ۔جاننے کی کوشش کرتے ہیںکہ گزشتہ رات فلائٹ میں آخر ہوا کیا تھا:
’فلائی دبئی‘ کی فلائٹ میں عمانی معاون پائلٹ نے ہندوستانی کیپٹن پر چاقو سے حملہ کیا۔
۳۰؍ سیکنڈ میں طیارہ ۱۷؍ہزار سے ۱۴؍ ہزار فٹ تک نیچے آگیا۔ مسافر ہوا میں اچھل پڑے۔
زخمی حالت میں کیپٹن مچھار نے ایک سوئچ کے ذریعے کاک پٹ کا دروازہ کھولا۔
تین اسرائیلی مسافروں نے حملہ آور کو قابو میں کیا۔۲۰؍ سے۲۵؍منٹ تک جدوجہد جاری رہی۔
طیارے میں موجود آف ڈیوٹی۲؍ پائلٹوں نے طیارے کی محفوظ لینڈنگ کرائی۔
عملہ کے اراکین سمیت کم و بیش۱۸۰؍مسافر محفوظ رہے جن میں۲۷؍ بچے بھی شامل تھے۔
یہ بھی پڑھئے:فلائی دبئی طیارے کے ہائی جیکنگ خدشے پر نیتن یاہو پر انتخابی حربے کا الزام
بتایا جاتا ہے کہ دبئی سے اسرائیل جا رہی فلائٹ میں سب کچھ معمول کے مطابق چل رہا تھا۔ پرواز کو تقریباً 2 گھنٹے ہو چکے تھے۔ عمانی معاون پائلٹ نے اچانک کیپٹن اسمت مچھار پر چاقو سے حملہ کر دیا اور طیارے کے سسٹم کو تباہ کرنے کی کوشش کی۔ حملے کے ساتھ ہی طیارہ تیزی کے ساتھ نیچے آنے لگا۔ مسافر ہوا میں اچھلنے لگے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق عمانی پائلٹ کا ارادہ طیارے کو یرغمال بنا کر کہیں تباہ کرنے کا تھا۔ اسرائیلی مسافر تزویقا مینس کی اہلیہ اس وقت اپنی چھوٹی بیٹی کو واش روم لے جا رہی تھیں۔ تبھی انہیں کاک پٹ سے چیخنے اور جھگڑے کی آوازیں سنائی دیں۔ انہوں نے فوراً ایک فلائٹ اٹینڈنٹ کو خبردار کیا۔ اسی وقت کاک پٹ کا دروازہ کھلا اور خون میں لت پت کیپٹن مچھار باہر گر پڑے۔ معاون پائلٹ انہیں چاقو مار رہا تھا۔فلائٹ میں موجود ایک واحد ڈاکٹر موسیوف نے کاک پٹ میں جو نظارہ دیکھا وہ بہت ہی خطرناک تھا۔ انہوں نے ’دی ٹائمس آف اسرائیل‘ کو بتایا کہ جب میں کاک پٹ میں پہنچا تو ہندوستانی پائلٹ شدید زخمی تھا، اور سر سے کافی خون بہہ رہا تھا اور ہاتھ بھی کٹ گئے تھے۔ آخر کار مشقت کے بعد خون روکا اور ان کا بلڈ پریشر مستحکم کیا۔ اس دوران خون میں شرابور لیٹے ہوئے کیپٹن مچھار ہوش میں تھے اور بات کر رہے تھے۔ ڈینٹسٹ موسیوف نے بتایا کہ پائلٹ ہم سے بات کر رہے تھے اور کہا کہ میری عمر 39 سال ہے، میرے دو بچے ہیں۔ یہ بھی بتایا کہ حملہ آور نے اسے چاقو مارا تھا اور گالیاں دی تھیں۔یہ وہ لمحہ تھا جو ہوابازی کی تاریخ میں درج ہو گیا۔ خون میں شرابور زمین پر گرے ہوئے شدید زخمی کیپٹن مچھار نے اپنی آخری طاقت جمع کی اور کاک پٹ کے دروازے کا ریلیز بٹن دبا دیا۔ اس سے دروازہ کھل گیا۔ یہی وہ قدم تھا، جس نے سب کچھ بدل دیا۔ آخری وقت میں انہوں نے جس طاقت کا مظاہرہ کیا، اس سے مسافر اور عملے کے اراکین اندر داخل ہو سکے اور معاون پائلٹ کو قابو کیا جا سکا۔کیپٹن مچھار نے صرف چیخ کر مدد نہیں مانگی۔ انہوں نے گرنے سے پہلے وہ سوئچ دبایا تاکہ عملے کے ارکان اور مسافر اندر آ سکیں۔ اگر دروازہ بند رہتا تو کوئی اس طیارے کو نہیں بچا سکتا تھا۔