Inquilab Logo Happiest Places to Work

ادھو ٹھاکرے اور فرنویس کی آدھی رات کو ملاقات؟

Updated: April 26, 2026, 12:59 AM IST | Mumbai

وزیر اعلیٰ کی جانب سے خبر کی تردید ، سنجے رائوت نے تردید یا تصدیق کے بجائے کہا ’’ ابھی سیاست میں بہت کچھ ہونے والا ہے ‘‘

Uddhav Thackeray and Devendra Fadnavis: Is something going to happen? (File photo)
ادھو ٹھاکرے اور دیویندر فرنویس: کیا کچھ ہونے والا ہے؟( فائل فوٹو)

سیاسی حلقوں میں ان دنوں ودھان پریشد الیکشن کی گہماگہمی ہے۔ شیوسینا سربراہ ادھو ٹھاکرے کی میعاد بی آئندہ ۱۳؍ مئی کو ختم ہو رہی ہے۔  کہا جا رہا ہے کہ وہ اب ودھان پریشد کی رکنیت حاصل کرنے کے خواہش مند نہیں ہیں۔ ایسی صورت میں ایک میڈیا چینل ’پربدھ بھارت ‘نے ٹویٹ کے ذریعے یہ خبر دی ہے کہ ادھو ٹھاکرے نے رات ۲؍ بجے  وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس کے سرکاری  بنگلےورشا میں جا کر ان سے ملاقات کی۔ اس پر یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ کیا ریاست میں سیاست کا پھر کوئی نیا دائو کھیلا جانے والا ہے؟  اس ملاقات کی کوئی تفصیل نہیں بیان کی گئی ہے لیکن قانون ساز کونسل( ودھان پریشد) الیکشن کے تعلق سے کئی طرح کے دعوے کئے جا رہے ہیں۔  ادھو ٹھاکرے اس معاملے پر خاموش ہیں جبکہ فرنویس نے ایسی کسی ملاقات کی تردید کی ہے۔ 
  صحافیوں نے جب ممبئی میں دیویندر فرنویس سے اس تعلق سے سوال کیاکہ کیا  وہ واقعی ادھو ٹھاکرے سے آدھی رات کو ملے تھے اور اگر ملے تھے تو ان میں کیا باتیں ہوئیں؟ جواب میں فرنویس نے کہا کہ’’ اگر ادھو ٹھاکرے مجھ سے ملنا چاہتے ہیں یا ہم دونوں ایک دوسرے سے ملنا چاہتے ہیں تو ہمیںچھپ کر ملنے  کی  ضرورت نہیں ہے۔ ایسی ملاقات کھلے عام بھی ہو سکتی ہے۔ ہمارے درمیان ایسا کوئی معاملہ نہیں ہے جسے چھپانے کی ضرورت ہے۔‘‘ انہوں نے کہا’’ ایسی کوئی میٹنگ نہیں ہوئی۔ کچھ لوگ جان بوجھ کر اور غلط طریقے سے جعلی خبریں پھیلا رہے ہیں۔‘‘ فرنویس نے یہاں تک کہا کہ ایسی خبریں پھیلانے والے جعلی (ٹویٹر ) ہینڈل کو نوٹس جاری کیا جائے گا۔
  البتہ شیوسینا( ادھو) کے ترجمان سنجے رائوت نے اپنے بیان سے کچھ اور اشارہ دیا ہے۔ جب میڈیا نے ان سے یہی سوال پوچھا تو انہوں نے جواب میں  ودھان پریشد الیکشن کا تذکرہ چھیڑ دیا۔ ان کا کہنا تھا ’’ایک سیٹ مہا وکاس اگھاڑی کو دی گئی ہے۔ ہرش وردھن سپکال نے ادھو ٹھاکرے سے اس تعلق سے گفتگو کی ہے۔ سپریا سلے نے اپنی ( این سی پی)کا موقف ظاہر کر دیا ہے۔ ادھو ٹھاکرے یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ شیو سینا کو کیا کرنا چاہئے اور کون سا امیدوار کھڑا کرناچاہئے۔‘‘ یاد رہے کہ ان دونوں پارٹیوں نے کہا ہے کہ اگر ادھو ٹھاکرے ودھان پریشد الیکشن لڑنا چاہتے ہیں تو انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔ سنجے رائوت اسی کا تذکرہ کر رہے تھے۔ فرنویس اور ادھو کی ملاقات پر انہوں نے کہا’’ یہ دونوں آپس میں ملے تھے یا نہیں اس کاجواب یہ دو لیڈران ہی جواب دے سکتے ہیں۔ اگر ملاقات ہوئی بھی ہو تو میں کیوں آپ کو بتائوں؟‘‘  ادھو ٹھاکرے نے کہا ’’ سیاست میں ابھی اور بھی کئی واقعات رونما ہوں گے میں کیوں اس پر پانی انڈیلوں؟‘‘ سنجے رائوت نے نہ واقعے کی تصدیق کی نہ تردید بلکہ اس ابہام کو اور بھی بڑھا دیا۔ 
 یاد رہے کہ ۱۲؍ مئی کو  ودھان پریشد کی ۹؍ سیٹوں کیلئے الیکشن ہونے جا رہے ہیں جن میں سے ایک سیٹ مہا وکاس اگھاڑی کی ہے جو ادھو ٹھاکرے کی میعاد پوری ہونے کے سبب خالی ہو رہی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ ادھو ٹھاکرے دوبارہ ودھان پریشد نہیں جانا چاہتے ہیں۔ حالانکہ مہاوکاس اگھاڑی میں ان کی حلیف جماعتوں نے ان کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔  

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK