کسانوں کی قرض معافی کے اعلان کو ادھو ٹھاکرے نے ’کھوکھلا وعدہ‘ قرار دیا، کانگریس نے تنقید کی جبکہ کسان لیڈروں نے تشویش کااظہار کیا۔
EPAPER
Updated: March 08, 2026, 9:39 AM IST | Mumbai
کسانوں کی قرض معافی کے اعلان کو ادھو ٹھاکرے نے ’کھوکھلا وعدہ‘ قرار دیا، کانگریس نے تنقید کی جبکہ کسان لیڈروں نے تشویش کااظہار کیا۔
شیوسینا (ادھو) کے سربراہ اور سابق وزیر اعلیٰ اُدھو ٹھاکرے نے جمعہ کو ریاستی حکومت کی جانب سے اعلان کردہ کسانوں کی قرض معافی کو محض دھوکہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے قرض معافی کے اعلان میں اہل اور نااہل کسانوں کی شرط شامل کی ہے، اسلئے اس اسکیم سے کسانوں کو حقیقی فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔ اُدھو ٹھاکرے نے کہا کہ یہ بجٹ دراصل قرض لے کر پٹاخے جلانے جیسا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ نے کسانوں کی قرض معافی کا اعلان تو کر دیا لیکن اس کیلئے رقم کہاں سے آئے گی اس کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔ اس کے علاوہ یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ یہ قرض معافی کب تک مکمل ہوگی۔
اُدھو ٹھاکرے نے کہا کہ فرنویس حکومت حکومت کی ۲۰۱۷ء میں شروع کی گئی چھترپتی شیواجی مہاراج لون معافی اسکیم اب تک جاری ہے، مگر اس اسکیم سے کسی بھی کسان کو حقیقی فائدہ نہیں پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت نے قرض معافی کی اسکیم کو مقررہ مدت کے اندر نافذ کیا تھا جس سے کسانوں کو فائدہ ہوا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ بجٹ میں صرف بڑے بڑے اعداد و شمار پیش کئے گئے ہیں اور کھوکھلے وعد کئے گئے ہیں۔ حکومت نے ریاست پر قرض کا بڑا بوجھ ڈال دیا ہے اور ۴۰؍ ہزار کروڑ روپے کے خسارے والا یہ بجٹ مہاراشٹر کو دیوالیہ پن کی طرف لے جا رہا ہے۔ اُدھو ٹھاکرے کے مطابق بجٹ میں بلٹ ٹرین، میٹرو اور سب وے جیسے منصوبوں پر زیادہ زور دیا گیا ہے، جبکہ دیہی علاقوں کے غریب عوام، آدیواسی برادری، محنت کش طبقات، خواتین، بے روزگار افراد اور نوجوانوں کے مسائل کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجموعی طور پر یہ بجٹ چند شہروں اور محدود طبقے کیلئے تیار کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی میں شدید ٹریفک جام کے مسائل پر ہنگامی میٹنگ
مہاراشٹر کانگریس کے صدر ہرش وردھن سپکال نے بھی ریاستی بجٹ پر تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس بجٹ میں عام آدمی کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ۲۰۴۷ء تک ترقی یافتہ مہاراشٹر اور ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت کا تصور محض خواب ہے۔ بی جے پی حکومت ہر بجٹ میں بڑے اعلانات کرتی ہے، مگر ہر اگلے اجلاس میں کروڑوں روپے کی اضافی مالی مانگیں پیش کر دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقتصادی سروے رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ریاست کی معیشت دیوالیہ پن کی طرف بڑھ رہی ہے۔ ریاست پر قرض اور قرض کی ضمانتوں سمیت تقریباً ۱۲؍ لاکھ کروڑ روپے کا بوجھ ہے، جبکہ تقریباً ۶۵؍ ہزار کروڑ روپے قرض کی اقساط کی صورت میں ادا کرنے ہیں۔ اس صورتحال کے باعث بجٹ کے اعداد و شمار اور زمینی حقیقت کے درمیان بڑا فرق پیدا ہو گیا ہے۔ سپکال نے مزید کہا کہ گزشتہ بجٹ میں درج فہرست ذاتوں کی اسکیموں کیلئے ۲۲؍ ہزار ۶۵۸؍ کروڑ روپے مختص کئے گئے تھے، مگر حقیقت میں صرف ۶؍ ہزار ۲۰۰؍ کروڑ روپے ہی خرچ کئے گئے۔ یاد رہے کہ کسان لیڈر اور سابق رکن پارلیمان راجو شیٹی نے بھی حکومت کی جانب سے قرج معافی کیلئے کسانوں کے ’اہل‘ ہونے کی شرط پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس شرط کی وجہ سے کئی کسان قرض معافی سے محروم رہ جائیں گے۔