Inquilab Logo Happiest Places to Work

برطانیہ فرانس سربراہی اجلاس: آبنائے ہرمز میں بحری آزادی بحال کرنے کی کوشش

Updated: April 13, 2026, 9:03 PM IST | Paris

برطانیہ اور فرانس اس ہفتے ایک مشترکہ سربراہی اجلاس منعقد کریں گے جس کا مقصد آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی بحال کرنے کے لیے کثیر القومی مشن تشکیل دینا ہے۔ ایمانوئیل میکرون اور کیئر اسٹارمر نے اس اقدام کو ’’دفاعی‘‘ اور امن پر مبنی قرار دیا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی کا اعلان کیا ہے اور حالیہ مذاکرات ناکام ہو چکے ہیں۔

Photo: X
تصویر: ایکس

مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان برطانیہ اور فرانس نے ایک اہم سفارتی قدم اٹھاتے ہوئے اس ہفتے مشترکہ سربراہی اجلاس بلانے کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد آبنائے ہرمز میں عالمی جہاز رانی کی آزادی کو بحال کرنا ہے۔ فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے ایکس پر بتایا کہ اس اجلاس کا بنیادی ہدف ایک ’’پرامن کثیر القومی مشن‘‘ تشکیل دینا ہے، جو اس اہم آبی گزرگاہ میں بحری راستوں کو محفوظ بنا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ مشن ’’سختی سے دفاعی نوعیت‘‘ کا ہوگا اور اسے تنازع میں شامل فریقوں سے الگ رکھا جائے گا۔

میکرون کے مطابق، جیسے ہی حالات اجازت دیں گے، اس مشن کو تعینات کرنے کی کوشش کی جائے گی تاکہ عالمی تجارت کے لیے اہم اس راستے کو دوبارہ فعال بنایا جا سکے۔ یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی نافذ کرنے کا اعلان کیا، جو پیر سے مؤثر ہو چکی ہے۔ یہ اقدام اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے حالیہ مذاکرات کی ناکامی کے بعد سامنے آیا، جو ۲۸؍ فروری سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے کیے گئے تھے۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کی پوپ لیو پر تنقید، انہیں ’انتہا پسند‘ قرار دیا، کارڈینلز نے امریکی انتظامیہ کو نشانہ بنایا

برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے بھی اس پیش رفت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کی بندش ’’گہرا نقصان دہ‘‘ ثابت ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق عالمی جہاز رانی کی بحالی نہ صرف تجارتی استحکام بلکہ مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے بھی ضروری ہے۔ اسٹارمر نے مزید بتایا کہ برطانیہ پہلے ہی درجنوں ممالک کے ساتھ مشاورت کر چکا ہے تاکہ ایک مربوط اور مشترکہ حکمت عملی تیار کی جا سکے۔ آئندہ سربراہی اجلاس میں اسی کثیر القومی منصوبے کو حتمی شکل دینے کی کوشش کی جائے گی، تاکہ تنازع کے خاتمے کے بعد عالمی بحری نقل و حرکت کو محفوظ بنایا جا سکے۔

یہ بھی پڑھئے: اسلام آباد مذاکرات ناکام، امریکہ کا ایران پر نئے حملوں پر غور: رپورٹ

دوسری جانب، میکرون نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی دیرپا حل کے لیے سفارت کاری کو مرکزی حیثیت دینا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ایک جامع فریم ورک ضروری ہے جو نہ صرف ایران کے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام بلکہ اس کے علاقائی کردار کو بھی مدنظر رکھے۔ انہوں نے لبنان کے استحکام کو بھی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک کو مکمل خودمختاری کے ساتھ امن کی راہ پر واپس لانا ہوگا۔ فرانس نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ اس بحران کے حل کے لیے سفارتی اور سلامتی دونوں محاذوں پر مکمل کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK