Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسلام آباد مذاکرات ناکام، امریکہ کا ایران پر نئے حملوں پر غور: رپورٹ

Updated: April 13, 2026, 7:03 PM IST | Washington

دی وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے امن مذاکرات ناکام ہو گئے، جس کے بعد واشنگٹن نے ایران کے خلاف محدود فوجی حملوں اور آبنائے ہرمز کی ممکنہ ناکہ بندی پر غور شروع کر دیا ہے۔ جے ڈی وینس کی قیادت میں مذاکرات کسی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا کہ اگر کشیدگی بڑھی تو ایران کے بنیادی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، جبکہ وہائٹ ہاؤس نے کہا کہ تمام آپشنز بدستور میز پر موجود ہیں۔

Donald Trump. Photo: INN
ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: آئی این این

دی وال اسٹریٹ جرنل کی تازہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ہونے والے اہم سفارتی مذاکرات ناکام ہونے کے بعد امریکہ نےایران کے خلاف نئے فوجی اقدامات پر غور شروع کر دیا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ یہ مذاکرات، جنہیں غیر معمولی اہمیت حاصل تھی، جے ڈی وینس کی قیادت میں امریکی وفد اور ایرانی نمائندوں کے درمیان منعقد ہوئے، تاہم یہ کسی بھی ٹھوس معاہدے کے بغیر ختم ہو گئے۔ سفارتی کوششوں کی ناکامی نے واشنگٹن کو دوبارہ سخت آپشنز پر غور کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ٹرمپ اور ان کے اعلیٰ مشیروں نے تعطل توڑنے کے لیے دو اہم اقدامات پر غور کیا ہے: پہلا، ایران کے خلاف محدود پیمانے پر فوجی حملوں کی بحالی، اور دوسرا، آبنائے ہرمز میں امریکی بحری ناکہ بندی۔ یہ آبی گزرگاہ عالمی توانائی کی سپلائی کے لیے انتہائی اہم ہے، اور اس پر کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت کو شدید متاثر کر سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: پیڈرو سانچیز کا مشرق وسطیٰ، یوکرین میں تنازعات کے خاتمے کا مطالبہ: رپورٹ

فلوریڈا میں اپنے ریزورٹ سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے واضح کیا کہ اگر کشیدگی میں اضافہ ہوا تو ایران کے بنیادی ڈھانچے، خاص طور پر بجلی گھروں اور پانی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اہداف کو نشانہ بنانا تکنیکی طور پر آسان ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی اعتراف کیا کہ وہ ایسا کرنے سے گریز کرنا چاہتے ہیں۔ وہائٹ ہاؤس کی ترجمان اولیویا ویلز نے اس مؤقف کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ صدر تمام ممکنہ آپشنز کو ’’دانشمندی سے میز پر رکھتے ہیں‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز پر ممکنہ ناکہ بندی کا مقصد ایران کی ’’بھتہ خوری‘‘ کو ختم کرنا ہے، جو عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کو متاثر کر رہی ہے۔ امریکہ کی بنیادی شرط یہ ہے کہ ایران یورینیم کی افزودگی مکمل طور پر بند کرے، اپنی جوہری تنصیبات ختم کرے اور ایک وسیع تر سیکوریٹی فریم ورک کو قبول کرے۔ واشنگٹن کا ماننا ہے کہ ان اقدامات کے بغیر خطے میں دیرپا امن ممکن نہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ہسپانوی وزیر اعظم سانچیز: چین یورپی یونین تجارتی خلا نا قابل قبول ہے

تاہم، ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اس حکمت عملی میں بڑے خطرات شامل ہیں۔ اگر امریکی بحریہ آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی نافذ کرتی ہے تو اسے ایرانی ڈرون اور میزائل حملوں کا سامنا ہو سکتا ہے، جو انتہائی کم وقت میں اور بغیر پیشگی اطلاع کے کیے جا سکتے ہیں۔ مزید برآں، ایران کی تیل کی آمدنی، جو اس کے قومی بجٹ کا تقریباً نصف حصہ بنتی ہے، اس ناکہ بندی سے شدید متاثر ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں نہ صرف ایران بلکہ عالمی توانائی مارکیٹس میں بھی عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK