برطانیہ کی ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد پولیس نے اپنی پالیسی تبدیل کرتے ہوئے فلسطینی ایکش کی حمایت پر گرفتاری نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اس سے قبل ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ فلسطینی ایکشن پر برطانوی حکومت کی پابندی غیر قانونی ہے۔
EPAPER
Updated: February 13, 2026, 10:17 PM IST | London
برطانیہ کی ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد پولیس نے اپنی پالیسی تبدیل کرتے ہوئے فلسطینی ایکش کی حمایت پر گرفتاری نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اس سے قبل ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ فلسطینی ایکشن پر برطانوی حکومت کی پابندی غیر قانونی ہے۔
برطانیہ کی میٹروپولیٹن پولیس نے کہا ہے کہ وہ فلسطین ایکشن گروپ کی حمایت کے اظہار پر فوری گرفتاریوں کے بجائے شواہد اکٹھے کرنے پر توجہ دے گی۔واضح رہے کہ یہ فیصلہ ہائی کورٹ کے اس حکم کے بعد سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ فلسطین ایکشن پر برطانوی حکومت کی پابندی غیر قانونی ہے۔عدالت نے فیصلہ دیا کہ’’ دہشت گردی کے قانون کے تحت اس گروپ پر پابندی غیر متناسب تھی اور اس کی سرگرمیاں اس تعریف پر پورا اترنے کے باوجود پابندی کے قابل نہیں تھیں۔ ‘‘ تاہم، حکومت کی جانب سے فیصلے کے خلاف اپیل کی وجہ سے یہ پابندی ابھی برقرار رہے گی۔پولیس نے عوام میں بے چینیسے بچنے کے لیے وضاحت کی کہ اگرچہ فلسطین ایکشن کی حمایت ابھی بھی جرم ہے، لیکن غیر معمولی حالات کے پیش نظر ان کا طریقہ کار تبدیل کر دیا گیا ہے۔
بیان کے مطابق، افسران اب حمایتی سرگرمیوں کے شواہد اکٹھے کرنے پر توجہ دیں گے تاکہ بعد میں قانونی کارروائی کی جا سکے، بجائے اس کے کہ موقع پر ہی گرفتاریاں کی جائیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ یہ نقطہ نظر صرف فلسطین ایکشن کی حمایت کے اظہار سے متعلق ہے۔ اگر کوئی پرامن احتجاج کی حد عبور کرکے دھمکانے، املاک کو نقصان پہنچانے، تشدد، نسلی نفرت یا دیگر جرائم کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کے خلاف فوری کارروائی کی جائے گی۔واضح رہے کہ فلسطین ایکشن کے ارکان نے ایک رائل ایئر فورس بیس میں داخل ہو کر دو طیاروں پر پینٹ سپرے کر دیا تھا جس کے بعد اس پر جولائی۲۰۲۵ء میں پابندی عائد کی گئی تھی ۔