برطانیہ کی عدالت نے فلسطین ایکشن کے چار کارکنوں کو اس بنیاد پر قید کی سزا سنائی کہ ایل بٹ کمپنی پر ان کے حملے کا ’دہشت گردی‘ سے مماثل تھا۔
EPAPER
Updated: June 13, 2026, 5:06 PM IST | London
برطانیہ کی عدالت نے فلسطین ایکشن کے چار کارکنوں کو اس بنیاد پر قید کی سزا سنائی کہ ایل بٹ کمپنی پر ان کے حملے کا ’دہشت گردی‘ سے مماثل تھا۔
برطانیہ کی عدالت نے فلسطین ایکشن کے چار کارکنوں کو اس بنیاد پر قید کی سزا سنائی کہ ایل بٹ کمپنی پر ان کے حملے کا ’دہشت گردی سے تعلق‘ تھا۔جمعہ کو لندن کی وولویچ کراؤن کورٹ نے چار کارکنوں کو چار سال آٹھ ماہ سے سات سال آٹھ ماہ تک قید کی سزا دی۔ یہ کارکن اسرائیلی ہتھیاروں کی فیکٹری میں اگست۲۰۲۴ء کی توڑ پھوڑ میں ملوث تھے۔جج جیریمی جانسن نے کہا کہ یہ کارروائی برطانوی حکومت کو متاثر کرنے اور کمپنی کودہشت زدہ کرنے کے لیے کی گئی تھی، اس لیے اس کا تعلق دہشت گردی سے ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’اسرائیل کینسر کے مریضوں کو علاج کیلئے غزہ سے باہر جانے دے‘‘
۲۳؍ سالہ سیموئل کارنر کو سات سال آٹھ ماہ کی سب سے طویل سزا ہوئی۔ اس نے ایک پولیس افسر پر ہتھوڑے سے حملہ کیا تھا، جس کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ گئی۔30 سالہ شارلٹ ہیڈ اور لیونا کیمیو کو پانچ سال، اور فاطمہ رجوانی کو چار سال آٹھ ماہ قید کی سزا دی گئی۔فلسطین ایکشن کے حامیوں نے اس فیصلے کو سنگیننا انصافی قرار دیتے ہوئے سزاؤں کے خلاف اپیل کا اعلان کیا ہے۔جبکہ عدالت کے باہر مظاہرین نے کارکنوں کے حق میں احتجاج کیا، جہاں پولیس نے متعدد افراد کو گرفتار کیا۔واضح رہے کہ فلسطین ایکشن کو جولائی۲۰۲۵ء میں برطانوی حکومت نے ممنوعہ تنظیم قرار دے دیا تھا۔ اس کے حامیوں کا کہنا ہے کہ دہشت گردی مخالف قوانین کا استعمال اسرائیل کو ہتھیاروں کی فروخت کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو نشانہ بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
فیفا کے آغاز سے قبل ٹورنٹو میں فلسطین حامی مظاہرہ، اسرائیل کی معطلی کا مطالبہ
واضح رہے کہ غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف اس تنظیم کا قیام عمل میں آیا، جس کامقصد اسرائیلی جارحیت کے خلاف احتجاج کرنا، اور حکومت کو اسرائیلی ظلم کو روکنے کیلئے اقدامات کرنے پر مجبور کرنا تھا، ان رضاکاروں نے فلسطین کے حمایت میں متعدد مظاہرے کئے۔ اس کے علاوہ کچھ رضاکاروں نے برسٹل کے قریب اسرائیل کی ایک ہتھیار بنانے والی کمپنی پر حملہ کرکے ۴۰؍ کے قریب ہتھیاروں کو تباہ کردیا تھا، ان ہتھیاروں میں وہ ڈرون بھی شامل تھا، جس کے بارے ان کا کہنا تھاکہ یہ غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی میں استعمال ہو رہا ہے۔ ان کے اس اقدام کو عدالت نے حکومت پر دباؤ ڈالنے کا عمل قرار دیتے ہوئے اسے دہشت گردی قرار دیا، اور اسی الزام میں ان چار کارکنوں کو سزا سنائی۔