Updated: June 13, 2026, 3:59 PM IST
| Toronto
فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء میں کنیڈا کے پہلے میچ سے چند گھنٹے قبل ٹورنٹو میں فلسطین حامی مظاہرین نے ایک مصروف شاہراہ کے قریب احتجاج کیا اور فیفا سے اسرائیل کو معطل کرنے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے ایک بڑا بینر آویزاں کیا جس پر ’’اسرائیل کو فیفا سے نکالو‘‘ درج تھا۔
مظاہرین نے ایک بڑا بینر آویزاں کیا جس پر ’’اسرائیل کو فیفا سے نکالو‘‘ درج تھا۔تصویر: ایکس
فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کے آغاز کے موقع پر کنیڈا کے شہر ٹورنٹو میں فلسطین حامی مظاہرین نے اسرائیل کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے عالمی فٹ بال تنظیم فیفا پر شدید تنقید کی اور اسرائیل کی رکنیت معطل کرنے کا مطالبہ کیا۔ جمعہ کو ہوئےاس احتجاج میں مظاہرین نے ٹورنٹو کی مصروف ترین شاہراہوں میں شمار ہونے والی گارڈنر ایکسپریس وے کے قریب ایک بڑا سرخ بینر آویزاں کیا، جس پر ’’اسرائیل کو فیفا سے نکالو‘‘ درج تھا۔ احتجاج ایسے وقت میں کیا گیا جب چند گھنٹوں بعد کنیڈا کو ورلڈ کپ میں اپنا پہلا میچ کھیلنا تھا۔ مظاہرین میں شامل کئی افراد نے ’’آزاد فلسطین کے لیے یہودی‘‘ کے نعرے درج شرٹس پہن رکھی تھیں اور شاہراہ کے قریب مختلف مقامات پر احتجاجی نعرے لگائے۔ یہ بینر اسٹیڈیم جانے والے ہزاروں شائقین اور مسافروں کی توجہ کا مرکز بنا رہا۔
یہ بھی پڑھئے: ’’اسرائیل کینسر کے مریضوں کو علاج کیلئے غزہ سے باہر جانے دے‘‘
احتجاج کے دوران فلسطینی ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ انہیں ۲۰۲۴ء کے اواخر میں غزہ میں اسرائیلی فوج نے حراست میں لیا تھا۔ مظاہرے کے منتظمین میں شامل ترجمان فیصل ابراہیم نے فیفا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’فیفا نہ صرف ان سرگرمیوں سے چشم پوشی کر رہا ہے جو مقبوضہ فلسطینی اور شامی علاقوں میں جاری ہیں بلکہ ان مقابلوں کی تشہیر اور نشریات کے ذریعے ان کو معمول کا حصہ بھی بنا رہا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’یہ طرزِ عمل فیفا کو محض خاموش تماشائی نہیں بلکہ ایک فعال شریک بناتا ہے۔‘‘ یاد رہے کہ مارچ ۲۰۲۶ء میں فیفا نے فلسطینی فٹ بال اسوسی ایشن کی جانب سے اسرائیلی کلبوں کے خلاف دائر شکایت پر کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ فیفا کا مؤقف تھا کہ مغربی کنارے کی قانونی حیثیت بین الاقوامی سطح پر ایک پیچیدہ اور غیر حل شدہ معاملہ ہے، اس لیے تنظیم اس مسئلے پر یکطرفہ فیصلہ نہیں کر سکتی۔
یہ بھی پڑھئے: کنیڈا: ٹورنٹو میں نورا فتحی کے شاندار پرفارمنس سے فیفا ورلڈ کپ۲۰۲۶ء کا آغاز
غزہ میں جاری جنگ کے حوالے سے بھی مظاہرین نے شدید تشویش کا اظہار کیا۔ بین الاقوامی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق اس تنازع میں دسیوں ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ انسانی بحران اور قحط جیسی صورتحال بھی پیدا ہوئی ہے۔ دوسری جانب اسرائیل ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کرتا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں اپنے دفاع کے حق کے تحت کی جا رہی ہیں۔ ادھر اقوام متحدہ کے بعض ماہرین بھی فیفا اور یونین آف یورپین فٹ بال اسوسی ایشنز سے مطالبہ کر چکے ہیں کہ اسرائیل کی بین الاقوامی فٹ بال سرگرمیوں کا ازسرِ نو جائزہ لیا جائے اور اس کی رکنیت معطل کرنے کے امکان پر غور کیا جائے۔ فیفا نے تاحال اس تازہ احتجاج پر کوئی باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا، تاہم ورلڈ کپ کے دوران اسرائیل اور فلسطین سے متعلق سیاسی بحث ایک مرتبہ پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔