Updated: October 20, 2026, 7:40 PM IST
| London
برطانیہ میں ۱۶؍ سے ۲۴؍ سال کی عمر کے تقریباً ۱۰؍ لاکھ نوجوان نہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں، نہ ملازمت میں ہیں اور نہ ہی کسی تربیتی پروگرام سے وابستہ ہیں۔ وزیرِاعظم اینڈی برنہم نے اس صورتِ حال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے فلاحی نظام میں تبدیلی اور نوجوانوں کو روزگار کے قابل بنانے کے لیے مؤثر اقدامات پر زور دیا ہے۔
اینڈی برنہم۔ تصویر: آئی این این
برطانیہ کے وزیرِاعظم اینڈی برنہم نے پیر کو خبردار کیا کہ ملک کو ’’معاشی تباہی اور اخلاقی ناکامی‘‘ کا سامنا ہے، کیونکہ تقریباً ۱۰؍ لاکھ نوجوان اب بھی تعلیم، روزگار یا تربیت کے کسی بھی نظام سے وابستہ نہیں ہیں۔ اخبار ’دی ٹائمز‘ میں شائع ہونے والے اپنے مضمون میں برنہم نے حکومت پر زور دیا کہ وہ نوجوانوں کی کامیابی میں سرمایہ کاری کرے، بجائے اس کے کہ ’’فلاحی نظام کے ذریعے ناکامی کی قیمت ادا کرے۔‘‘ انہوں نے لکھا، ’’سرکاری مالی امداد آخری سہارا ہوگی، پہلا قدم نہیں۔‘‘ برنہم نے یہ بھی بتایا کہ نوجوانوں اور روزگار سے متعلق ایک طویل عرصے سے زیرِانتظار جائزہ اگلے ماہ شائع کیا جائے گا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ اس کی سفارشات کو ’’سنجیدگی سے لیا جائے گا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: مراکش کی نئی وزیر اعظم نے دو ریاستی حل کو خارجہ پالیسی کا مرکز قرار دیا
برطانیہ کے دفتر برائے قومی شماریات (او این ایس) کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، ملک میں ۱۶؍ سے ۲۴؍ سال کی عمر کے تقریباً ۱۰؍ لاکھ افراد ایسے ہیں جو نہ تعلیم حاصل کررہے ہیں، نہ ملازمت میں ہیں اور نہ ہی کسی تربیتی پروگرام کا حصہ ہیں۔ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان نوجوانوں میں سے تقریباً ۳۹؍ فیصد بے روزگار ہیں، جبکہ باقی ۶۱؍ فیصد معاشی طور پر غیر فعال ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ ملازمت کی تلاش بھی نہیں کررہے۔ برنہم نے اس بحران کی متعدد وجوہات بیان کیں، جن میں کووِڈ-۱۹؍ کی وبا کے دوران دو سال تک جاری رہنے والے لاک ڈاؤن، سوشل میڈیا، یونیورسٹی کی تعلیم پر ضرورت سے زیادہ توجہ دینے والا تعلیمی نظام، ملازمت کے محدود مواقع اور سابقہ حکومتوں کی ناکامیاں شامل ہیں۔ اینڈی برنہم کے مطابق، سوشل میڈیا نوجوانوں کے ’’اعتماد اور معاشرے سے وابستگی کے احساس‘‘ کو کمزور کررہا ہے۔ انہوں نے لکھا، ’’یہ ایک معاشی تباہی اور اخلاقی ناکامی ہے، اور اسے بدلنا ہوگا۔‘‘
فلاحی نظام پر تنقید
اینڈی برنہم نے موجودہ فلاحی نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ اکثر نوجوانوں کو مالی امداد تو فراہم کرتا ہے، لیکن انہیں روزگار حاصل کرنے کا راستہ دکھانے میں ناکام رہتا ہے۔ انہوں نے لکھا، ’’آج فلاحی نظام پہلے جائزہ لیتا ہے، پھر مالی امداد فراہم کرتا ہے اور اس کے بعد نوجوانوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیتا ہے۔‘‘ ان کے مطابق، ’’اکثر نہ کوئی مزید مدد فراہم کی جاتی ہے، نہ ہنر سیکھنے کا موقع دیا جاتا ہے اور نہ ہی ملازمت حاصل کرنے کا کوئی راستہ پیش کیا جاتا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: روس اور خلیجی ممالک کا آبی راستوں کی حفاظت یقینی بنانے پر زور
برنہم نے کہا کہ حکومت کو اپنا طریقۂ کار تبدیل کرنا چاہئے۔ ان کے مطابق، ابتدا ہی میں یہ طے کرنے کے بجائے کہ کوئی نوجوان سرکاری مالی امداد کا اہل ہے یا نہیں، حکومت کو پہلے اس کی خواہشات اور عزائم کو سمجھنا چاہیے اور پھر انہیں پورا کرنے کیلئے ضروری مدد فراہم کرنی چاہئے۔ برنہم نے کہا، ’’جو لوگ کام کرنے کے قابل نہیں ہیں، ان کیلئے حفاظتی نظام ہمیشہ موجود رہے گا۔ لیکن اگر کوئی شخص مناسب مدد ملنے پر کام کرسکتا ہے تو حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسا ممکن بنانے کیلئے اپنی پوری طاقت استعمال کرے۔‘‘