Updated: November 04, 2026, 9:15 AM IST
| London
برطانیہ میں روایتی لینڈ لائن نظام کو ڈجیٹل ٹیکنالوجی میں تبدیل کرنے کا عمل آخری مرحلے میں داخل ہوگیا ہے۔ جنوری ۲۰۲۷ء کے اختتام تک پرانے تانبے کی تاروں پر چلنے والا نیٹ ورک بند کرنے کا ہدف ہے، لیکن بجلی کی بندش کے دوران فون سروس متاثر ہونے اور تقریباً ۲۰؍ لاکھ ٹیلی کیئر صارفین کی حفاظت سے متعلق خدشات نے اس تبدیلی کو ایک اہم عوامی مسئلہ بنا دیا ہے۔
برطانیہ میں گھروں میں استعمال ہونے والے لینڈ لائن فون کا مستقبل بدلنے جا رہا ہے۔ کئی دہائیوں سے دیوار کے ساکٹ سے منسلک روایتی ٹیلی فون اب انٹرنیٹ اور براڈبینڈ کے ذریعے کام کرنے والے ڈجیٹل نظام پر منتقل کیے جا رہے ہیں۔ ٹیلی کام کمپنیوں نے اس عمل کو جنوری ۲۰۲۷ء کے اختتام تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے، جبکہ بی ٹی (BT) نے اپنے پرانے لینڈ لائن نیٹ ورک کو ۳۱؍ جنوری ۲۰۲۷ء تک بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس تبدیلی کو ’بگ سوئچ آف‘ کا نام دیا جا رہا ہے۔ برطانیہ کے ٹیلی کام ریگولیٹر آف کام (Ofcom) کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق جولائی ۲۰۲۵ء میں ملک میں گھریلو لینڈ لائن کنکشنز کی مجموعی تعداد تقریباً ۲ء۱۷؍ ملین تھی۔ ان میں سے ۸ء۹؍ ملین کنکشنز پہلے ہی وائس اوور انٹرنیٹ پروٹوکول (VoIP) یعنی ڈجیٹل فون سروس پر منتقل ہو چکے تھے، جبکہ ۲ء۴؍ ملین کنکشنز ایسے نظام پر تھے جو روایتی فون جیسی سہولت فراہم کرتے ہیں، لیکن پرانی پبلک سوئچڈ ٹیلی فون نیٹ ورک (PSTN) ٹیکنالوجی پر انحصار نہیں کرتے۔ اس کے برعکس ۲ء۳؍ ملین گھریلو صارفین اب بھی مکمل طور پر پرانے اینالاگ نظام سے منسلک تھے۔ یوں روایتی نیٹ ورک پر موجود صارفین کا تناسب مجموعی لینڈ لائن کنکشنز کا تقریباً ۱۹؍ فیصد تھا۔
یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ ۲ء۱۷؍ ملین کنکشنز کا مطلب یہ نہیں کہ اتنے ہی صارفین ابھی پرانی ٹیکنالوجی استعمال کر رہے ہیں۔ درحقیقت بڑی تعداد پہلے ہی ڈجیٹل یا متبادل نظام اپنا چکی ہے، تاہم باقی رہ جانے والے صارفین کو مقررہ مدت میں منتقلی مکمل کرنا ہوگی۔ جولائی ۲۰۲۴ء میں پرانے PSTN نظام پر ۲ء۵؍ ملین گھریلو کنکشنز موجود تھے، جو ایک سال میں کم ہو کر ۲ء۳؍ ملین رہ گئے۔ اس دوران تقریباً ۹ء۱؍ ملین صارفین نے اپنے موجودہ انٹرنیٹ سروس فراہم کنندہ کے ذریعے ڈجیٹل فون سروس اختیار کی۔ نئے نظام میں فون کی آواز براہِ راست روایتی ٹیلی فون لائن کے بجائے براڈبینڈ کنکشن کے ذریعے منتقل ہوگی۔ صارفین کو اپنا فون دیوار کے پرانے ساکٹ سے نکال کر انٹرنیٹ راؤٹر کے ساتھ منسلک کرنا ہوگا۔ زیادہ تر موجودہ ہینڈ سیٹس نئے نظام کے ساتھ کام کر سکتے ہیں، البتہ بعض صارفین کو نیا راؤٹر، اڈاپٹر یا فون خریدنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ ٹیلی کام کمپنیوں کے مطابق اس تبدیلی کا مقصد پرانے اور مسلسل خراب ہوتے نیٹ ورک کی جگہ جدید نظام لانا ہے، جس میں بہتر کال کوالٹی اور نئی سہولتیں فراہم کی جا سکیں گی۔ صارفین کو اپنا موجودہ فون نمبر تبدیل کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہوگی۔
تاہم اس تبدیلی کا سب سے اہم سوال بجلی کی فراہمی سے جڑا ہوا ہے۔ روایتی لینڈ لائن کا ایک بڑا فائدہ یہ تھا کہ وہ گھر کی بجلی بند ہونے کے باوجود کام کرتی رہتی تھی، کیونکہ اس کا بنیادی نظام ٹیلی فون نیٹ ورک سے توانائی حاصل کرتا تھا۔ اس کے برعکس ڈجیٹل فون براڈبینڈ راؤٹر پر انحصار کرتا ہے اور بجلی بند ہونے کی صورت میں راؤٹر بھی کام کرنا چھوڑ سکتا ہے۔ نتیجتاً گھر میں بجلی نہ ہونے کے ساتھ انٹرنیٹ اور لینڈ لائن فون بھی خاموش ہو سکتے ہیں۔ یہ خطرہ خاص طور پر ان علاقوں میں زیادہ سنگین ہے جہاں موبائل فون کا سگنل کمزور ہو یا ہنگامی حالات میں موبائل نیٹ ورک بھی متاثر ہو جائے۔ برطانیہ کے مغربی جزائر کی نمائندگی کرنے والے لیبر رکن پارلیمنٹ ٹورکوئل کرچٹن نے اس صورت حال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے علاقے میں رابطے کے مسائل پہلے ہی موجود ہیں۔ ان کے بقول، “جب بجلی چلی جاتی ہے تو لوگوں کے پاس فون نہیں ہوتا، انٹرنیٹ نہیں ہوتا اور اکثر موبائل سگنل بھی نہیں ہوتا۔” ان کا کہنا ہے کہ اینالاگ سے ڈجیٹل نظام کی طرف منتقلی کے دوران دور دراز علاقوں کی مشکلات کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
آف کام کے ضوابط کے مطابق جن صارفین کو لینڈ لائن کے ذریعے ہنگامی خدمات سے رابطے کی ضرورت ہوتی ہے، ان کے لیے ٹیلی کام کمپنیوں کو بجلی کی بندش کے دوران بھی رابطے کا متبادل یقینی بنانا ہوگا۔ جن صارفین کے پاس فعال موبائل فون نہیں یا گھر میں قابلِ اعتماد موبائل سگنل دستیاب نہیں، انہیں کمپنی کی جانب سے مفت بیک اَپ سہولت فراہم کی جانی چاہیے۔ اس میں بیٹری بیک اَپ یونٹ جیسا انتظام شامل ہو سکتا ہے، جسے کم از کم ایک گھنٹے تک کام کرنا ہوگا۔ بعض فراہم کنندگان سات گھنٹے تک چلنے والے بیک اَپ نظام بھی مہیا کرتے ہیں۔ لیکن سب سے زیادہ توجہ تقریباً ۲۰؍ لاکھ ایسے افراد پر مرکوز ہے جو ٹیلی کیئر (Telecare) خدمات استعمال کرتے ہیں۔ ان میں بڑی تعداد بزرگوں، معذور افراد اور ایسے لوگوں کی ہے جنہیں گھر میں طبی یا ہنگامی نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان کے زیرِ استعمال ذاتی الارم، گلے میں پہنے جانے والے ہنگامی بٹن اور دیگر آلات ضرورت پڑنے پر مدد کے لیے متعلقہ مرکز سے رابطہ قائم کرتے ہیں۔ ماضی میں ان میں سے بیشتر آلات روایتی اینالاگ ٹیلی فون لائن پر انحصار کرتے تھے۔ ڈجیٹل نظام میں منتقلی کے دوران اگر یہ آلات نئے نیٹ ورک کے ساتھ مطابقت نہ رکھیں یا بجلی بند ہونے پر کام کرنا چھوڑ دیں تو صارفین کی زندگی اور سلامتی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ برطانوی حکومت نے بھی تسلیم کیا ہے کہ تقریباً 20 لاکھ افراد ٹیلی کیئر خدمات استعمال کرتے ہیں اور ان کی حفاظت منتقلی کے عمل کا اہم تقاضا ہے۔
اسی لیے آف کام نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے فون فراہم کنندگان سے رابطہ کرکے معلوم کریں کہ ان کے کنکشن کی منتقلی کب ہوگی اور آیا ان کے گھر میں نصب طبی الارم، ہیلتھ پینڈنٹ، سیکوریٹی الارم یا دیگر آلات نئے نظام کے ساتھ کام کریں گے یا نہیں۔ معذور افراد، اضافی مدد کے محتاج صارفین اور ایسے گھرانے جہاں موبائل فون یا مناسب سگنل دستیاب نہیں، انہیں بھی پہلے سے اپنی ضروریات فراہم کنندہ کو بتانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ برطانیہ کی اس تبدیلی کا مقصد پرانے اور ناقابلِ اعتماد مواصلاتی ڈھانچے کو جدید بنانا اور ملک بھر میں تیز رفتار براڈبینڈ کی دستیابی کو فروغ دینا ہے۔ تاہم ٹیکنالوجی کی ترقی اسی وقت حقیقی معنوں میں فائدہ مند ثابت ہوگی جب اس سے ان لوگوں کی حفاظت بھی یقینی بنائی جائے جو ہنگامی حالات میں ایک سادہ سے فون پر انحصار کرتے ہیں۔ سوال صرف یہ نہیں کہ لینڈ لائن ڈجیٹل کیسے ہوگی، بلکہ یہ بھی ہے کہ بجلی، انٹرنیٹ اور موبائل سگنل تینوں غائب ہونے کی صورت میں مدد کا راستہ کیسے کھلا رکھا جائے گا۔