Updated: October 19, 2026, 7:29 PM IST
| Kyiv/Washington/Moscow
روس اور یوکرین کے درمیان کشیدگی میں یہ اضافہ ٹرمپ کی جانب سے اعلان کردہ توانائی جنگ بندی کے خاتمے کے بعد سامنے آیا ہے۔ روس پر اپنے پاور انفراسٹرکچر پر حملے جاری رکھنے کا الزام عائد کرنے کے بعد یوکرین نے کہا کہ وہ اب اس معاہدے کی پاسداری نہیں کرے گا۔ اس کے بعد کیف نے روسی تیل کی تنصیبات پر دوبارہ حملے شروع کر دیے، جس پر امریکی صدر کی جانب سے تنقید کی گئی۔
یوکرین نے روسی اہداف پر ایک ہزار سے زائد ڈرونز داغے ہیں، جس کے نتیجے میں سینٹ پیٹرزبرگ میں تیل کی تنصیبات میں آگ لگ گئی اور چار سالہ جنگ کے جاری رہنے پر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ کشیدگی میں شدت آگئی ہے۔ سینٹ پیٹرزبرگ کے گورنر الیگزینڈر بیگلوف کے مطابق، ان حملوں میں ایک شخص ہلاک اور پانچ دیگر زخمی ہوگئے۔
یوکرینی حملوں میں پیٹرزبرگ آئل ٹرمینل اور روچی آئل ڈپو کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں دونوں تنصیبات میں آگ بھڑک اٹھی۔ اطلاعات کے مطابق روسی ریٹیلر اوزون (Ozon) سے تعلق رکھنے والے ایک لاجسٹکس سینٹر اور ٹیکنالوجی کمپنی وی کے (VK) کے زیرِ انتظام چلنے والے ایک ڈیٹا سینٹر کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ یہ بڑے پیمانے پر ڈرون حملہ واشنگٹن کی جانب سے کیف کے ساتھ انٹیلیجنس شیئرنگ کی بحالی کے بعد ہوا، جس کے بارے میں یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی کا کہنا تھا کہ یہ روس کے متوقع میزائل حملوں کا پتہ لگانے کیلئے ناگزیر تھی۔
یہ بھی پڑھئے: فرانس: طلبہ کا احتجاج لوور میوزیم تک پہنچ گیا، مشہور عجائب گھر کے دروازے بند
روس اور یوکرین کے درمیان کشیدگی میں یہ اضافہ ٹرمپ کی جانب سے اعلان کردہ توانائی جنگ بندی کے خاتمے کے بعد سامنے آیا ہے۔ روس پر اپنے پاور انفراسٹرکچر پر حملے جاری رکھنے کا الزام عائد کرنے کے بعد یوکرین نے کہا کہ وہ اب اس معاہدے کی پاسداری نہیں کرے گا۔ اس کے بعد کیف نے روسی تیل کی تنصیبات پر دوبارہ حملے شروع کر دیے، جس پر امریکی صدر کی جانب سے تنقید کی گئی۔
ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے روسی آئل ریفائنریوں پر یوکرین کے نئے حملوں کو ”رسوائی“ قرار دیا اور زیلنسکی پر جنگ کے خاتمے میں بہت کم دلچسپی رکھنے کا الزام لگایا۔ ٹرمپ نے لکھا کہ ”زیلنسکی کو کوئی پرواہ نہیں ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ یورپ کی جانب سے دی جانے والی ان تمام مشہور رقوم کے ساتھ وہ اس جنگ کو ختم نہیں کرنا چاہتے اور شاید کبھی چاہتے بھی نہیں تھے۔“ ٹرمپ نے روسی توانائی کے لین دین پر بعض پابندیوں کو نرم کرنے کے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے دلیل دی کہ واشنگٹن کو ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہئے جو ماسکو کے ساتھ مذاکرات کو نقصان پہنچا سکتے ہوں۔
یہ بھی پڑھئے: پیرس: احتجاج کے دوران لوٹا گیا سامان بے گھر افراد میں تقسیم؟ ویڈیو وائرل
روس کی جانب سے یوکرین پر حملوں میں شدت
روس نے یوکرینی بنیادی ڈھانچے، خاص طور پر توانائی، تیل اور گیس کی تنصیبات کو نشانہ بنانا جاری رکھا ہے۔ یوکرینی حکام کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے اب تک روسی افواج یوکرین کے توانائی کے شعبے پر ۷۶ مرتبہ حملے کر چکی ہیں۔ کیف میں، میئر وٹالی کلِٹسکو نے پیر کو ٹیلی گرام پر بتایا کہ رات گئے ایک روسی فضائی حملے میں ایک خاتون ہلاک ہوگئیں، دارالحکومت کے بائیں کنارے پر واقع ایک میٹرو اسٹیشن زد میں آیا اور ایک ۲۵ منزلہ رہائشی عمارت کو نقصان پہنچا۔ تین دیگر افراد زخمی ہوئے، جبکہ غیر رہائشی عمارتوں اور ایک طبی سہولت کو بھی نقصان پہنچا۔
زیلنسکی نے این بی سی کو بتایا کہ امریکہ نے عارضی طور پر انٹیلیجنس شیئرنگ معطل کر دی تھی، جس سے یوکرین تین دن تک روسی بیلسٹک میزائل حملوں سے متعلق اہم انتباہات سے محروم رہا۔ واشنگٹن کی جانب سے اس معاونت کی بحالی پر انہوں نے شکریہ ادا کیا۔ تاہم انہوں نے امریکی حکومت پر یوکرین کی اسٹارلنک سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز تک رسائی کو جان بوجھ کر محدود کرنے کا بھی الزام لگایا، جس پر یوکرینی افواج میدانِ جنگ میں مواصلات اور ڈرون آپریشنز کیلئے انحصار کرتی ہیں۔ امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے اس الزام کو ”انتہائی غیر سنجیدہ اور لاپرواہ“ قرار دے کر مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ اور وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے ایسی پابندیاں عائد کرنے کے حکم کی تردید کی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکی صحافی اور یورپی سفارت کاروں پر آبادکاروں کے حملے، ۱۰؍ افراد گرفتار
سفارتی کوششیں جاری
دریں اثناء، اطلاعات کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پوتن نے اس تنازع کے خاتمے پر گفتگو کیلئے ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ اگلے ماہ ایک سربراہی اجلاس کی تجویز پیش کی ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا کہ یہ تجویز ۹ اکتوبر کو پوتن اور ٹرمپ کے درمیان ہونے والی ایک ٹیلی فونک گفتگو کے دوران سامنے آئی۔ اس ملاقات کی ابھی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ جنگ کے بارے میں بات کرتے ہوئے روبیو نے کہا کہ دونوں ممالک کو تنازع کے خاتمے پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ہدف سے بھٹکے ہوئے ڈرونز یا ناکام تخریب کاری کی کارروائیاں لڑائی کو پڑوسی ممالک تک پھیلانے کا سبب بن سکتی ہیں۔