• Mon, 05 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

برطانیہ: گرین پارٹی نے صیہونیت کو نسل پرستی سے تشبیہ دی، قرارداد منظور

Updated: October 05, 2026, 8:29 PM IST | London

برطانیہ کی گرین پارٹی نے صیہونیت کو نسل پرستی قرار دینے والی قرارداد منظور کرلی ہے، جس کے بعد یہ مؤقف پارٹی کی باضابطہ پالیسی بن گیا۔ برائٹن میں ہونے والی سالانہ کانفرنس میں قرارداد کے حق میں ۱۰۲۲؍جبکہ مخالفت میں ۸۱۳؍ ووٹ ڈالے گئے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

برطانیہ کی گرین پارٹی نے اتوار کو ارکان کی اکثریت کی جانب سے ایک قرارداد کے حق میں ووٹ دیئے جانے کے بعد باضابطہ طور پر ایسی پالیسی اختیار کرلی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’’صیہونیت نسل پرستی ہے۔ ‘‘یہ قرارداد، جس میں صیہونیت کو ’’نسل پرستی کی کسی بھی دوسری شکل کی طرح‘‘ تصور کئے جانے کا مطالبہ کیا گیا ہے، برائٹن میں پارٹی کی سالانہ کانفرنس کے دوران۱۰۲۲؍ ووٹوں کے مقابلے میں ۸۱۳؍ ووٹوں سے منظور ہوئی۔ اس ووٹنگ کے بعد یہ قرارداد انگلینڈ اور ویلز میں گرین پارٹی کی باضابطہ پالیسی بن گئی ہے۔ ۲۰۲۴ءمیں گرین پارٹی انگلینڈ اور ویلز کی پہلی سیاسی جماعت بن گئی تھی جس نے اسرائیلی حکومت کو ’’نسل پرستانہ ریاست‘‘ (Apartheid State) تسلیم کرنے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ پارٹی نے اپنے مؤقف کیلئے ۱۹۷۳ءکے ’’بین الاقوامی کنونشن برائے نسل پرستی‘‘ اور ۱۹۹۸ءکے ’’روم اسٹیٹوٹ‘‘ سمیت بین الاقوامی معاہدوں کا حوالہ دیا۔ 

یہ بھی پڑھئے: پیڈرو سانچیز کا اسپین میں قبل از وقت عام انتخابات کا اعلان، ۲۹؍نومبر کو پولنگ

ووٹنگ کے بعد گرین پارٹی کے ترجمان نے کہا: ’’یہ قرارداد صیہونیت کی مخالفت کا اظہار کرتی ہے، جسے ایک نسلی قوم پرستانہ سیاسی منصوبے کے طور پر بیان کیا گیا ہے، اور واضح کرتی ہے کہ صیہونیت مخالف مؤقف کو یہود دشمنی کے مترادف نہیں سمجھا جانا چاہئے۔ ‘‘ترجمان نے مزید کہا کہ یہ قرارداد فلسطینیوں کی آزادی، حقِ واپسی، ’’بائیکاٹ، ڈائیوسٹمنٹ اینڈ سینکشنز‘‘ (BDS) اور اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی کیلئے پارٹی کے عزم کا اعادہ کرتی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ گرین پارٹی ایک ’’نسل پرستی مخالف جماعت‘‘ ہے اور اس نے اپنے اس مؤقف کو بھی دہرایا کہ وہ فلسطینی اور شامی سرزمین پر اسرائیل کے مبینہ غیر قانونی قبضے کی مسلسل مخالفت کرتی رہی ہے۔ ’’دی گارڈین‘‘ اخبار کے مطابق ’’صیہونیت نسل پرستی ہے‘‘ کے عنوان سے پیش کی گئی بنیادی قرارداد کو ’’گرینز فار فلسطین‘‘ نامی گروپ نے آگے بڑھایا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: عراق: امریکی پرچم کی بے حرمتی پر گرفتاریاں، وزیراعظم نے تحقیقات کا حکم دیا

رپورٹ کے مطابق اس گروپ نے پارٹی سے باہر کے لوگوں کو بھی گرین پارٹی میں شامل ہونے کی ترغیب دی تاکہ اس پالیسی پر بحث ہو اور اسے منظور کرایا جا سکے۔ قرارداد میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ صیہونیت لازماً نسل پرستانہ ہے کیونکہ یہ ’’دوسروں کو محکوم بنا کر ایک نسلی گروہ کو ترجیح دیتی ہے۔ ‘‘قرارداد میں کہا گیا ’’یہ قرارداد صیہونیت کے سیاسی نظریے اور اس کے طرزِ عمل کو ہدف بناتی ہے، جیسا کہ اس میں بیان کیا گیا ہے، نہ کہ ان افراد کے مذہبی یا نسلی پس منظر کو جو خود کو صیہونی سمجھتے ہیں۔ ‘‘قرارداد میں مزید کہا گیا ’’تمام یہودی صیہونی نہیں ہیں اور تمام صیہونی یہودی نہیں ہیں۔ ‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK