بغداد میں امریکی اور اسرائیلی پرچموں کو فوجی گاڑیوں تلے روندنے کے ویڈیوز سامنے آنے کے بعد عراقی حکومت نے ملوث افراد کو گرفتار کیا؛ ایران نواز گروپ النجباء نے گرفتار افراد کی فوری رہائی کا مطالبہ کردیا۔
EPAPER
Updated: October 05, 2026, 4:04 PM IST | Baghdad
بغداد میں امریکی اور اسرائیلی پرچموں کو فوجی گاڑیوں تلے روندنے کے ویڈیوز سامنے آنے کے بعد عراقی حکومت نے ملوث افراد کو گرفتار کیا؛ ایران نواز گروپ النجباء نے گرفتار افراد کی فوری رہائی کا مطالبہ کردیا۔
عراق میں امریکی زیرقیادت اتحادی افواج کے انخلا کے بعد ’’یومِ خودمختاری‘‘ کے تحت ہونے والی تقریبات میں امریکی پرچم کی بے حرمتی کے واقعے نے حکومت اور ایران نواز مسلح گروہوں کے درمیان کشیدگی کو نمایاں کردیا ہے۔ عراقی وزیراعظم اور مسلح افواج کے کمانڈر ان چیف علی فالح الزیدی نے واقعے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی قائم کرنے کا حکم دیا، جبکہ حکومت کے مطابق امریکی پرچم کی بے حرمتی میں ملوث افراد کو گرفتار بھی کرلیا گیا ہے۔ یہ واقعہ بغداد میں یکم اکتوبر کو ہونے والی پریڈ کے دوران پیش آیا۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ویڈیوز اور خبر رساں ادارے اے ایف پی کی تصاویر میں پاپولر موبلائزیشن فورسیز (پی ایم ایف) سے وابستہ فوجی طرز کی گاڑیوں کو سڑک پر بچھائے گئے امریکی اور اسرائیلی پرچموں کے اوپر سے گزرتے دیکھا گیا۔ یہ پریڈ امریکی زیرقیادت اتحاد کے عراق میں فوجی مشن کے خاتمے کے بعد منعقد ہونے والی تقریبات کا حصہ تھی۔
Iraq PM LAUNCHES PROBE into Iraqis TRAMPLING American FLAGS FLAGS WALKED and DRIVEN OVER during ‘SOVEREIGNTY DAY’ Marking PENTAGON WITHDRAWAL from IRAQ https://t.co/vTpv4OJ9yJ
— RT (@RT_com) October 4, 2026
عراقی وزیراعظم کے ترجمان صباح النعمان کے مطابق الزیدی نے واقعے کی مکمل تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کی ہدایت کی ہے۔ حکومت نے کہا کہ عراق میں دوست ممالک اور ان کے تسلیم شدہ سفارتی مشنز کی علامتوں کا احترام کرنا ’’قانونی اور سفارتی ذمہ داری‘‘ ہے اور کسی بھی خلاف ورزی پر عراقی قانون کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ حکام نے گرفتار افراد کی تعداد یا ان کی وابستگی کی تفصیل جاری نہیں کی۔ یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب عراق نے ۳۰؍ ستمبر کو امریکی زیرقیادت اتحادی مشن کے فوجی کردار کے خاتمے کے بعد اپنی خودمختاری کو نمایاں کرنے کے لیے قومی سطح پر تقریبات منعقد کیں۔ امریکہ اور اتحادی افواج کا مشن بنیادی طور پر داعش کے خلاف کارروائیوں سے متعلق تھا، جو ۲۰۱۴ء میں عراق کے بڑے علاقوں پر قبضے کے بعد شروع ہوا تھا۔ امریکی فوج کی عراق میں موجودگی دو دہائیوں سے زیادہ عرصے پر محیط رہی، جبکہ ۳۰؍ ستمبر ۲۰۲۶ء کو آخری امریکی اور اتحادی فوجی اربیل ایئر بیس سے بھی روانہ ہوگئے۔
پریڈ میں امریکی اور اسرائیلی پرچموں کے علاوہ لبنان کی حزب اللہ کا پرچم اور ایران کا پرچم بھی دکھائی دیا، جبکہ بعض شرکا کے پاس ایران کے سابق رہبر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تصاویر بھی موجود تھیں۔ اے ایف پی کی تصاویر میں امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی یاد میں بینرز بھی دیکھے گئے۔ پی ایم ایف سے وابستہ بعض ذرائع نے اسرائیلی پرچموں کو روندنے کی تصاویر جاری کیں، تاہم امریکی پرچم کی بے حرمتی کی تصاویر ان کے سرکاری ذرائع پر نمایاں نہیں کی گئیں۔ پاپولر موبلائزیشن فورسیز بنیادی طور پر مختلف مسلح گروہوں کا اتحاد ہے۔ اسے داعش کے خلاف جنگ کے دوران ۲۰۱۴ء میں تشکیل دیا گیا تھا اور ۲۰۱۶ء میں قانون کے ذریعے عراقی ریاستی سیکوریٹی ڈھانچے میں شامل کرلیا گیا۔ اگرچہ پی ایم ایف رسمی طور پر وزیراعظم اور مسلح افواج کے کمانڈر ان چیف کے اختیار میں ہے، لیکن اس میں شامل کئی طاقتور گروہوں کے ایران کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔
واقعے پر امریکہ میں بھی ردعمل سامنے آیا۔ امریکی رکن کانگریس جو ولسن نے سوشل میڈیا پر پریڈ کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے پی ایم ایف پر امریکی پرچم کی بے حرمتی کا الزام عائد کیا اور عراقی حکومت کی پالیسی پر تنقید کی۔ تاہم امریکی سیاسی بیانات کو عراقی حکومت کے سرکاری موقف سے الگ رکھتے ہوئے دیکھا جا رہا ہے۔ ادھر گرفتاریوں کے بعد ایران نواز حرکت حزب اللہ النجباء نے حکومت سے گرفتار افراد کو فوری رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔ گروپ کے فوجی نائب عبدالقدیر الکربلائی نے گرفتار نوجوانوں کے اقدام کو امریکہ اور اسرائیل کے خلاف اظہارِ رائے قرار دیا اور گرفتاریوں کو ’’خطرناک نظیر‘‘ قرار دیتے ہوئے ان کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ گروپ نے عراق میں امریکی کارروائیوں، ملکی خودمختاری کی خلاف ورزی اور عراقی وسائل کے استحصال جیسے الزامات بھی عائد کیے، جنہیں اس نے گرفتاریوں کے خلاف اپنے موقف کی بنیاد بنایا۔
اس کے بعد النجباء کے سربراہ اکرم الکعبی کا ایک الگ ویڈیو بھی سامنے آیا، جس میں وہ اپنے ساتھیوں کے درمیان امریکی اور اسرائیلی پرچموں پر چلتے نظر آتے ہیں۔ یہ ویڈیو گرفتاریوں اور حکومتی قانونی کارروائی کے اعلان کے بعد سامنے آئی، تاہم اس کی ریکارڈنگ کی تاریخ واضح نہیں کی گئی۔ واقعے نے بغداد کی جانب سے مسلح گروہوں کو ریاستی اختیار کے تحت لانے کی کوششوں کو بھی دوبارہ نمایاں کردیا ہے۔ الزیدی حکومت نے مسلح گروہوں کے ایسے ہتھیار جو ریاستی کنٹرول سے باہر ہیں، انہیں حکومت کے اختیار میں لانے کے لیے ۳۰؍ جون ۲۰۲۷ء کی آخری تاریخ مقرر کی ہے۔ النجباء سمیت بعض طاقتور ایران نواز گروہوں نے اس عمل کی مخالفت یا اس کے لیے شرائط پیش کی ہیں۔ امریکی اتحادی مشن کے خاتمے کے فوراً بعد سامنے آنے والا پرچم تنازع اسی وسیع تر کشمکش کے درمیان پیدا ہوا ہے، جس میں بغداد ایک طرف مکمل ریاستی خودمختاری اور سفارتی اصولوں پر زور دے رہا ہے اور دوسری طرف طاقتور مسلح دھڑے اپنے مؤقف اور کارروائیوں پر قائم ہیں۔